آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

 اُمِّ نُسیبہ

فہد کی شرارتیں دن بدن بڑھتی جارہی تھیں۔ اس کی امی اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھیں، مگر وہ ان کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔فہد پانچویں جماعت کا ذہین طالبِ علم تھا۔ اس کی ٹیچرز اس کی پڑھائی کی طرف سے تو مطمئن تھے، مگر اس کی شرارتوں سے بےحد پریشان تھے۔ آئے دن اسکول سے شرارتوں کی شکایتیں آتی رہتیں۔ کبھی کسی بچے کا لنچ چپکے سے کھالیتا، کبھی کسی بچے کی کتاب چھپا دیتا تو کبھی کسی بچے کی کاپی کے صفحے پھاڑ دیتا۔ فہد کی شرارتوں کی وجہ سے اس کا کوئی دوست نہ تھا۔ گلی میں کھیلنےوالے بچوں کو بھی وہ تنگ کرتا رہتاتھا، جس کی وجہ سے کوئی بچہ اسے کھیل میں شامل نہ کرتا۔بچے جب کھیل رہے ہوتے تو وہ کھڑکی سے ان پر جملے کستا اور پتھر پھینکتا۔ محلے سے بھی اس کی شکایتیں آتی رہتیں تھیں۔

ایک شام وہ اپنی چھت پر بنے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ ایک سفید رنگ کی بلی اپنے تین ننھے ننھے بچوں کے ساتھ بڑے آرام سے بیٹھی ہے۔ چھت پر بنا وہ کمرا گھریلو استعمال میں نہ تھا بلکہ اسٹور کے طور پر کام آتا تھا، جہاں گھر کا پرانا کاٹھ کباڑ پڑا تھا۔ بلی کو دیکھ کر فہد کو ایک شرارت سوجھی، جیسے ہی بلی اپنے بچوں کو اسٹور میں چھوڑ کر خود باہر نکلی فہد نے اسٹور کا دروازہ بند کردیا اور خود نیچے آگیا۔ رات ہونے لگی اور فہد بھول ہی گیا کہ اس نے چھت والے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا۔

"کل رات پتا نہیں کیوں چھت سے کافی دیر تک بلی کی آوازیں آتی رہیں۔"صبح فہد کی والدہ نے کہا تو اسے اچانک بلی کے بچوں کا خیال آیا۔امی اس کے چہرے کو دیکھ کر بھانپ گئیں کہ یہ یقیناًاس ہی کی کوئی شرارت ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں وہ جلدی سے اٹھا اور چھت پر جا کر کمرے کا دروازہ کھول دیا۔ بلی جو رات سے ہی کمرے کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی جلدی سے بھاگ کر اپنے بچوں کے پاس پہنچ گئی۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھی ماں کو پہچان کراس سے چپک گئے، اتنے میں فہد کی والدہ بھی وہاں آگئیں تو فہد نے سچ سچ کل والی شرارت کے بارے میں انہیں بتادیا۔

"بیٹا کتنی غلط بات ہے کسی بے زبان جانور کو تکلیف دینا۔"فہد کی امی نے اُس سے افسردہ لہجے میں کہا۔

اس واقعے کے چند روز بعد ابو اور امی ، فہد اور دو بیٹیوں کو پارک لے گئے۔۔ تینوں بچوں نے خوب جھولے جھولے ، ابھی وہ کہیں بیٹھ کر کچھ کھانے کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ رش کی وجہ سے فہد کا ہاتھ اپنے والد کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ گم ہوگیا۔اس نے جو آس پاس نظر دوڑائی تو اپنے گھر والوں کو نہ پاکر بہت پریشان ہوا۔

"یا اللہ اتنے لوگوں میں کیسے ڈھونڈوں امی ابو کو۔اس نے پریشانی کے عالم میں سوچا۔اچانک اسے وہ بےچین بلی یاد آگئی جو اپنے بچوں کو سامنے نہ پا کر میاؤں میاؤں کررہی تھی۔بلی اور اس کے بچے بھی تو ایسے ہی پریشان ہوئے ہوں گے،جیسے ابھی میں اور میرے گھر والے۔اس نے دل میں سوچا۔

اسے اس رش میں گم ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ ہونے والا تھا، اب تو اس کی حالت بالکل رونے والی ہوگئی تھی۔"اسے اپنی امی کی بات یاد آئی، وہ اکثر کہتیں تھیں’’ جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ ہمارے اپنے گناہوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔‘‘’’ یا اللہ !مجھے معاف کردیں ، میں آئندہ کوئی شرارت نہیں کروں گا، کسی کو پریشان نہیں کروں گا۔اس نے دل میں سوچا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات شروع ہوگئی۔

دوسری طرف اس کے گھر والے پریشان تھے، اطراف میں کہیں بھی انہیں فہد نظر نہ آیا تو انہوں نے ایک سیکیورٹی والے کی مدد سے پارک کی انتظامیہ سے بات کی۔ انتظامیہ نے کچھ ہی دیر میں گمشدگی کا اعلان کردیا، جِسے فہد نے بھی سن لیا۔ وہ لوگوں سے پوچھتا پوچھتا انتظامیہ کے دفتر تک پہنچ گیا، جہاں اس کی امی ابو اور بہنیں پریشان کھڑے تھے۔ اس کی نظر جیسے ہی اپنے گھر والوں پر پڑی وہ بھاگتا ہوا ان کے قریب گیا اور اپنی امی سے لپٹ گیا۔ اس لمحے اسے وہ بلی کے بچے پھریاد آگئے جو اپنی ماں سے بالکل اسی طرح چمٹ گئے تھے۔"آج میں نے شرارتوں سے توبہ کرلی ہے امی۔"فہد نے آنسو صاف کرتے ہوئے یہ کہا تو اس کی امی نے بےاختیار اس کا ماتھا چوم لیا۔