آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پلاٹ کیس بے جان ، ایڈیٹر انچیف جنگ جیو کیخلاف آزاد کشمیر میں نئے مقدمے کی تیاری

کراچی(اعزاز سید)جنگ جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان پر متنازعہ ترین مقدمہ قائم کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کے بعد حکومت کی طرف سے جنگ جیو گروپ پر ایک اور حملے کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔

اس بار آزاد کشمیر حکومت نے5سال قبل کے کیس میں ایڈیٹر انچیف کے خلاف کارروائی شروع کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے رابطہ کرلیا ہے جبکہ اس معاملےمیں جیو کو بندش کی غیر ضروری سزا پہلے ہی مل چکی ہے۔

تفصیلات کےمطابق جیو نیوز کے پروگرا م آج شاہزیب خانزادہ نے 27جون 2015کے پروگرام میں سروے آف پاکستان کی سرکاری ویب سائٹ سے پاکستان کا ایک نقشہ لے کرچلایا، نقشے میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہیں دکھایا گیا تھا، اس کے بعد ایک مخصوص حلقے اور اے آر وائی نیوزکی طرف سےبھرپورمہم شروع کردی گئی۔

شاہزیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں معذرت کی اور ساری صورت حال واضع بھی کی ، شاہزیب خانزادہ کا کہناتھاکہ آن ایئرڈ نقشے سے متعلق غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں اس لیے ہم نے اس بات کوممکن بنایا کہ نشرمقررمیں وہ نقشہ شامل نہ ہو۔ 

اس کے باوجود کچھ عناصر کی جانب سے اس بات کوبہت اچھالاگیا،ہمارے خلاف باقاعدہ میڈیامہم شروع کی گئی ، یہاں تک کہ ہماری حب الوطنی پرسوال اٹھایاگیا۔

ان عناصرکیلئے ہمارےپاس آئینہ موجود ہے جومیں انہیں دکھائوں گالیکن اس سے پہلے میں اپنی طرف سے اپنی ٹیم کی طرف سے تمام محب وطن لوگوں سے معذرت کرتاہوں جن کی اس متنازعہ نقشے کی وجہ سے دل آزاری ہوئی۔ 

دوسری طرف پیمرا بھی حرکت میں آیا، اس نے بھی جیو سے وضاحت طلب کرلی اور جیو نیوزکی نشریات آزاد کشمیر میں بند کردیں، اس کے بعد پیمر ا نے معاملہ قانون کے دائرے کے اندر رہ کر نمٹا دیا مگر عین اسی وقت خاموشی سے آزاد کشمیر کے تھانہ راولاکوٹ میں ایک نامعلوم شخص کی درخواست کی روشنی میں جنگ جیو نیوز کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان اور اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کے خلاف ایف آئی آردرج کرلی گئی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اس ایف آئی آر کی روشنی میں جنگ جیو کے خلاف حکومت کی طرف سے ایک نئی مہم کا آغاز کیا جارہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ سال 2015کو پیمرا میں معاملہ طے ہوگیا تو اس کی ایف آئی آرآزادکشمیر میں کیسے درج کی گئی ؟ جیو نیوز کی نشریات معافی کے باوجود کیوں بند کی گئیں ؟ جیو نیوز کو مالی نقصان کیوں پہنچایا گیا ؟ جیو نیوز کے خلاف پیمرا نے معافی کے باوجود کیوں کا رورائی کی ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر مقدمہ درج کیا گیا تو اس کے بارے میں جنگ جیو کی انتظامیہ کو کیوں نہ بتایا گیا ؟ 

واضح رہے کہ عمر چیمہ کی نے ایک خبر دی تھی کہ پلاٹ کیس میں ناکامی کے بعد اب ماضی کے کیسز کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی طرح جنگ جیو کو عوام کےسامنے سچ بولنے سے روکنے کیلئے دبائو ڈالا جاسکے۔

اہم خبریں سے مزید