آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

صحیح فیصلہ تاخیر سے کرنے کی قیمت

تحریر:حافظ انیب راشد۔۔برسلز
حقائق، معلومات اور صحیح فیصلہ دیر سے لینے کی قیمت ۔ یہ وہ تین فقرات ہیں جو اس کورونا وائرس اور آج کے نظام کے تعلق کو واضح کر رہے ہیں ۔ دسمبر 2019 میں چائنہ کے شہر ووہان Wuhan سے شروع ہونے والا COVID-19 اس وقت دنیا کے 202 ممالک میں اس تحریر کے لکھے جانے کے وقت تک 41000 سے کچھ ہی کم افراد کی جان لے چکا ہے جب کہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ اس تحریر کے ابتدائی فقرے سے پاکستان جیسے ملک میں حکومت ہی مراد لی جائے گی۔ لیکن صرف یہی ایک مطلب حقیقی طور پر خطرے میں موجود عام آدمی کے کمزور اجتماعی کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اس فقرے کی مزید وضاحت سے قبل آیئے واپس چین کے شہر ووہان چلتے ہیں ۔ جہاں دسمبر میں کرونا شروع ہوا اور دو سے زائد ماہ گزرنے کے بعد مارچ میں ڈبلیو ایچ او نے اسے ایک عالمی وباء قرار دیا۔ آگے بڑھنے سے قبل ہم معلوم تاریخ کی کچھ پرانی وبائوں کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں۔ 1346 سے لیکر 1353 تک جاری رہنے والا Bubonic plague یورپ، افریقہ اور ایشیا کے کئی حصوں تک پھیلا اور کروڑوں کی جان لے گیا۔ انتہائی کم ذرائع رسل و رسائل میں بندرگاہوں پر لنگر انداز جہازوں پر موجود چوہے اس کی وجہ قرار پائے۔ پھر 1852سے لیکر 1860 تک جاری رہنے والے بخار میں انسان خوش قسمت رہے کہ صرف ایک ملین کی جان گئی۔ 1889 سے لیکر 1890 میں بھی ایک بخار کی وباء پھیلی ۔ اسے روسی بخار کا نام دیا گیا ۔ اس میں 10 لاکھ لوگ مارے گئے۔ اس وقت تک بیکٹیریا لوجی اپنے تجربات کے ذریعے واضح انداز میں چیزیں سمجھنے کے قابل ہوچکی تھی۔ 1910 سے 1911 تک انڈیا میں چیچک کی وباء پھیل گئی ۔اسے Sixth Cholera Pandemic کا نام دیا گیا ۔ اس میں 8لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔ یہ بعد میں مڈل ایسٹ، نارتھ افریقہ، روس،ایسٹرن یورپ اور امریکہ تک بھی پہنچی لیکن اس دوران امریکی یہ سمجھ چکے تھے کہ متاثرہ مریضوں کو صحت مندوں سے الگ کرنا ہے۔ جنوری 1819میں نوع انسانی کا ستارہ پھر گردش میں آگیا۔ اب کے اسکا نام اسپینش بخار تھا۔ یہ جنوری 1918 سے دسمبر 1920 تک جاری رہا اور دنیا بھر میں 50 کروڑ افراد کو متاثر کرنے کے بعد دنیا کی اس وقت موجود مجموعی آبادی کے مختلف حصوں میں 10 سے لیکر 20 فیصد کو قبر کی آغوش میں لے گیا۔ 1956 سے 1958 کے درمیان ایک اور وبا آکھڑی ہوئی۔ اسے Asian Flue کہا گیا۔ یہ 1956 میں چائنہ کے صوبے Guizhou سے شروع ہوکر سنگا پور پہنچا ۔ ہانگ کانگ گیا اور وہاں سے امریکہ جہاں 70 ہزار افراد اس کا لقمہ بنے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وباء میں 20 لاکھ لوگ مارے گئے۔ 1968میں Influenza Flue Pandemic نامی وباء آگئی۔ سنگاپور اور ویتنام سے شروع ہونے والی یہ وباء بھی تین ماہ میں ہی فلپائن، انڈیا، آسٹریلیا اور یورپ تک پھیل گئی ۔1969 تک چلنے والی اس وباء سے 10 لاکھ افراد جان سے گئے۔ جن میں 5 لاکھ افراد کا تعلق ہانگ کانگ سے تھا۔ وبائوں کی یہ فہرست شائید کچھ طویل ہوگئی ہے ۔لیکن انسان کے بہت سے وبائی تجربات میں سے ایک اور تجربے HIV/ AIDS کا ذکر نہ کرنا تشنگی کا سبب رہے گا۔ 1976 میں کانگو سے شروع ہونے والی اسی ایک وباء سے ابتک دنیا بھر میں 32 ملین افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ ان میں سے 25 اعشاریہ 7 ملین کا تعلق افریقہ سے تھا اور ابھی بھی ہے۔ 2005 سے لیکر 2012 تک یہ وباء اپنے عروج پر نظر آئی۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق گو آج اس بیماری کا علاج اور اس کی ادویات دستیاب ہیں ۔ لیکن مختلف ممالک میں دستیابی کے موجود فرق کے سبب یا یوں کہ لیجئے کہ عدم دستیابی کے باعث صرف 2018 میں اس بیماری کی وجہ سے 7 لاکھ 70 ہزار افراد جان کی بازی ہارے۔آج اس وائرس سے متاثر 62 فیصد کو Antiretroviral therapy (ART) نامی علاج میسر ہے جب کہ 53 فیصد علاج کے بعد اس قابل ہوگئے تھے کہ یہ مرض ان سے دوسروں کو منتقل نہ ہو۔ لیکن اس سب سے اہم بات یہ ہے کہ 2018 میں ایڈز کا شکار 79 فیصد افراد یہ جانتے تھے کہ یہ وائرس ان میں موجود ہے ۔ ان تمام وبائوں سے گزرنے کے بعد آج انسانیت کو پھر سے ایک وباء کا سامنا ہے۔ گلوبلائزیشن کے انتہائی تیز رفتار پہیے پر سوار ہو کر اگر یہ 200 سے زائد ممالک تک جا پہنچی ہے تو اسی گلوبلائزیشن کے نتیجے میں دنیا بھر میں پھیل چکے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرائع کے سبب ہی گذشتہ صدیوں کی طرح آنسان ابتک بڑے جانی نقصان سے محفوظ ہے۔ اس وائرس کو لیباٹری میں بنایا گیا یا یہ بھی پہلے کی طرح قدرت کے تاریخی دائرے ہی کا ایک سفر ہے، مجھے خوشی ہے کہ پوری دنیا میں موجود اسٹیبلشمنٹ نے مال کے مقابلے میں انسانی جان کو اہمیت دی۔ جمع شدہ زر سے معیشت ناپنے کے اس دور میں بقائے نسل آدم کی کوششیں انتہائی لائق تحسین اور شرف آدمیت کا خوبصورت اظہار ہیں۔ اس کا ایک سبب ابلاغ اور معلومات کی وہ رسائی بھی ہے جو ایک عام شخص کو اپنے بارے میں بہت حساس بنا دیتی ہے ۔ یہی شاید وہ واحد سبب بھی ہے جس نے امریکی صدر ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن جیسے نقیبان معیشت کو انسان اور معیشت کے درمیان چنائو میں مزید دیر کرنے سے روک دیا۔ اگر ہندسے پیش نظر رہیں تو 7 ارب آبادی، 200 ملکوں تک وباء کا پھیلاؤ اور تین ماہ میں 40 ہزار کے قریب اموات بظاہر بری گنتی نہیں ۔ لیکن گذشتہ تین ماہ کا تجربہ یہ بھی بتارہا ہے کہ معلومات تک رسائی کے نتیجے میں زندگی کا پہیہ مکمل طور روک دینے پر آمادہ انسانوں کے درمیان جہاں بھی جنازوں کو کاندھے میسر نہ آ سکے وہاں فیصلہ سازی میں تاخیر ایک اہم عنصر رہا۔ خدا کرے کہ جس وائرس کے سبب بستیاں اپنے مکینوں سے محروم ہوئیں وہ میری سرزمین تک پہنچتے ایک سے دوسرے کو منتقلی کی صلاحیت کھو چکا ہولیکن میری اس خواہش کو اگر شکست ہوئی تو تاریخ کے آئندہ اوراق میں یہ تجربہ بھی شوق سے پڑھا جائے گا کہ ایک ملک کے باشندوں نے بھوک کو موت پر ترجیح دی تھی۔ اور بادشاہ نے آبدیدہ دل کیساتھ ان کا کہا مان لیا تھا۔ پس تحریر ۔میں اپنی بات کہ چکا ہوں لیکن نہ جانے کیوں اک ہوک ہے جو اندر سے اٹھ رہی ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنے لوگوں سے صاف کہ دوں کہ اپنے وزیراعظم کی تمام تر دردمندی کے باوجود بھوک کے مقابل موت کو مت ترجیح دو۔ رزق شاید آج بہت کم ہو لیکن اس وائرس کے سبب اپنے حصے کا رزق لئے بغیر مت جا نا۔
یورپ سے سے مزید