آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میں نے یہ بات بار بار لکھی کہ پاکستانی سیاست کی اکلوتی تعریف یہ ہے کہ ’’دولت کے ذریعہ سیاست چلائو اور سیاست کے ذریعہ دولت کمائو‘‘۔ آٹا چینی بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ نے اس دیرینہ ’’کالے قول‘‘ کی تصدیق کر دی ہے سو اس خوشی یا غم میں آج پھر کچھ کالے قول­­­­­­سیدھا رستہ ہی سچا رستہ ہوتا ہے لیکن اس پر بھی لیٹ جائو تو لوگ اوپر سے گزر جائیں گے۔­­­­­­زندگی میں کچھ بھی سو فیصد غلط یا سو فیصد صحیح نہیں ہوتا۔­­­­­­بروقت فیصلہ ضروری ہے، چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو ۔­­­­­­کوئی جیتے کوئی ہارے، وکیل کبھی کیس نہیں ہارتا۔­­­­­­ماضی کی غلطی مستقبل کا مذاق ہوتی ہے۔­­­­­­زندگی کینوس ہے جسے ہر شخص اپنے ’’ٹیلنٹ‘‘ کے مطابق پینٹ کرتا ہے۔­­­­­­ملاح کی مہارت طوفان میں دکھائی دیتی ہے۔­­­­­­کچھ لوگوں کو عشروں زندہ رہنے کی پریکٹس کے باوجود زندہ رہنا نہیں آتا۔­­­­­­سانپ کیلئے رستہ چھوڑ دینا ہی دانش مندی ہے۔­­­­­­زندگی کی قدروقیمت جاننے کیلئے آج تک کوئی کرنسی متعارف نہیں کرائی گئی۔­­­­­­انمول، بےمول بک جاتے ہیں۔­­­­­­تاریخ سے صرف یہی سیکھ سمجھ لو کہ تم جہاں ہو، وہاں کیوں ہو۔­­­­­­ہم اس زمین پر مالک مکان نہیں، کرایہ دار ہوتے ہیں۔ ’’گھر‘‘ کا خیال رکھنا اور وقت پر کرایہ ادا کرنا ہماری اولین ذمہ داری

ہے۔ شاید کرونا ہمیں یہی یاد دلانے آیا ہے۔­­­­­­صرف اوپر دیکھنے والے ہی چاند ستارے دیکھ سکتے ہیں۔­­­­­­بڑے سے بڑے بحران کو موت سے ضرب دے کر دیکھو، تمہیں سب کچھ آسان دکھائی دے گا۔­­­­­­یاد رکھنے والی ایک بات یہ بھی ہے کہ بھول جانا بھی بہت ضروری ہے۔­­­­­­اگر تم کچھ بھی نہیں کرو گے، یقین جانو کچھ بھی نہیں ہوگا۔­­­­­­کبھی کبھی بندر بھی درخت سے پھسل جاتا ہے۔­­­­­­غیرمعمولی میں معمولی اور معمولی میں غیرمعمولی تلاش کرو۔­­­­­­سوال جواب کا باپ ہوتا ہے۔­­­­­­یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ خود اپنے دماغ کا آقا بن کر جینا ہے یا غلام۔­­­­­­تنہائی میں خود کو تلاش کرو۔­­­­­­گوشہ نشینی ہی شہہ نشینی ہے۔­­­­­­کاش انسان تجربہ کو بھی بطور ورثہ چھوڑ سکتا۔­­­­­­باشعور آدمی ایک سے زیادہ زندگیاں جی لیتا ہے۔­­­­­­کبھی کبھی ہار، جیت جانے سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔­­­­­­زندگی ’’سوچ‘‘ کے ساتھ ہی پھیلتی اور سکڑتی ہے۔­­­­­­اکثر وہ سب کچھ ہمارے اندر موجود ہوتا ہے جسے ہم باہر ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔­­­­­­آنکھوں کے علاوہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔­­­­­­اپنے آنے والے کل کا جانے والے کل کے ساتھ سودا نہ کرو۔­­­­­­کچھ فیصلے دماغ نہیں صرف دل سے کئے جاتے ہیں۔­­­­­­’’آئینہ‘‘ دیکھنے کا فن بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔­­­­­­جہاں لفظ ختم ہوتے ہیں، موسیقی شروع ہوتی ہے۔­­­­­­کم از کم لکھاریوں کو تو معلوم ہونا چاہئے کہ زندگی میں بھی ’’فل سٹاپ‘‘ کب اور کہاں لگانا ہے۔­­­­­­کیا اس ’’عالم‘‘ میں کوئی ’’عالم‘‘ ہو سکتا ہے؟­­­­­­

تازہ ترین