حافظ محمد نعمان... ایتھوپیا کو 1980ء کے وسط سے بدترین خشک سالی اور قحط کا سامنا ہے، جبکہ اس قحط اور خشک سالی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4 لاکھ سے زائد ہے۔ دوسری جانب اس قحط اور انسانی المیہ کی آڑ میں لائیو ایڈ چیریٹی کی بدنام زمانہ کنسرٹس شروع کردی گئی تھیں۔
مسلسل دو سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کا دائرہ کار بڑھتا ہوا مشرقی ایتھوپیا تک پہنچ گیا ہے جو کہ صومالیہ کی سرحد سے قریب واقع ہے۔
’ال نینو‘ موسمیاتی نظام جو کہ جنوبی سوڈان، امریکا ، انڈونیشیا اور دیگر کئی ممالک میں بھی خشک سالی کے پنجے گاڑھ چکا ہے، اسے ایتھوپیا میں سنگین بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔
سب سے زیادہ خشک سالی سے خواتین متاثر ہیں کیونکہ انہیں شدید دھوپ میں پانی کی تلاش میں 12 گھنٹے کا سفر روزانہ کرنا پڑتا ہے اور برتنوں میں پانی بھر کر واپسی کا راستہ لینا ہوتا ہے۔
دوسری جانب ایتھوپیا کے بہت سے لوگوں کو 1983ء سے 1985ء کے درمیان آنے والے قحط کے بارے میں کچھ یاد نہیں حالانکہ اس وقت کے قحط نے ایتھوپیا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔
بارشیں نہ ہونے سے دریا خشک ہوگئے ہیں، فصلیں تباہ ہوگئیں اور ملک کے زیادہ تر مویشی ہلاک ہوگئے۔ اگرچہ ایتھوپیا کی معیشت 30 سال پہلے کی معیشت سے بہت مضبوط ہے اور قحط سے متاثرہ افراد کو غذا فراہم کرسکتی ہے لیکن بچے اور بوڑھے افراد اب بھی خطرے سے دوچار ہیں۔
60 لاکھ بچوں سمیت ایک کروڑ ایتھوپینز کو اس وقت ہنگامی امداد کی ضرورت ہےکیونکہ فصلیں تباہی سے دوچار ہیں اور مال مویشی کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔
گزشتہ دس سالوں میں ایتھوپیا کی معیشت نے پوری دنیا میں بہت تیزی سے ترقی کی ہے اور اب وہ اس وقت کا ایتھوپیا نہیں جب 1983 سے 1985 کے درمیان بارشیں نہ ہونے سے لاکھوں جانیں خشک سالی کے باعث ضائع ہوگئی تھیں۔