بیشتر افراد رمضان میں روزے کے دوران اضافی وزن کم کرنے کا ہدف مقرر کرتے ہیں، تاہم فٹنس کے حوالے سے سنجیدہ افراد کے لیے اصل چیلنج پٹھوں (مسلز) کو نقصان پہنچائے بغیر چربی کم کرنا ہے۔
اگر درست حکمتِ عملی اپنائی جائے تو رمضان جسمانی ساخت (باڈی کمپوزیشن) بہتر بنانے کا بہترین موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
رمضان کے دوران طویل دورانیے کے روزے کھانے کے اوقات، پانی کی مقدار اور ورزش کے شیڈول کو بدل دیتے ہیں، اگر آپ بہت زیادہ کیلوریز کم کر دیں، پروٹین کا استعمال نظر انداز کریں یا طاقت بڑھانے والی ورزش (اسٹرینتھ ٹریننگ) چھوڑ دیں تو جسم توانائی کے لیے پٹھوں کو توڑنا شروع کر سکتا ہے۔
اسی مرحلے پر وزن میں کمی دراصل پٹھوں کے نقصان میں بدل جاتی ہے، جس سے ہر ممکن حد تک بچنا چاہیے، اصل راز صرف کم کھانا نہیں بلکہ سمجھداری سے کھانا اور منصوبہ بندی کے ساتھ ورزش کرنا ہے۔
چربی اس وقت کم ہوتی ہے جب آپ معمولی کیلوری ڈیفیسٹ پیدا کرتے ہوئے مناسب مقدار میں پروٹین اور ورزش جاری رکھتے ہیں، پٹھوں کو نقصان اس وقت پہنچتا ہے جب پروٹین کم ہو، کیلوریز حد سے زیادہ کم کر دی جائیں یا ورزش میں تسلسل نہ ہو۔
رمضان میں روزہ قدرتی طور پر کیلوری ڈیفیسٹ پیدا کرتا ہے، متوازن غذائی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے سحری اور افطار میں معیاری پروٹین کو ترجیح دیں۔
پروٹین پٹھوں کا بہترین دوست ہے، اس لیے اپنی غذا میں انڈے، چکن بریسٹ، مچھلی، دہی، دالیں، چنے، پروٹین شیک وغیرہ شامل کریں۔
کوشش کریں کہ ایک وقت میں پروٹین کی زیادہ مقدار لینے کے بجائے اس کی مقدار سحری اور افطار میں تقسیم کریں، اس سے پٹھوں کی مرمت اور بحالی میں مدد ملتی ہے۔
رمضان کریش ڈائٹ کا مہینہ نہیں ہے، بہت زیادہ کیلوریز کم کرنے سے پٹھوں کے ٹوٹنے اور تھکن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، مناسب حد تک کیلوری ڈیفیسٹ رکھیں، اتنا کہ چربی کم ہو مگر میٹابولزم سست نہ پڑے۔
سحری میں کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس کا انتخاب کریں جیسے اوٹس، براؤن چاول، روٹی وغیرہ، یہ غذائیں دیرپا توانائی فراہم کرتی ہیں اور طویل روزے کے دوران پٹھوں کی تھکن کم کرتی ہیں۔
افطار میں تلی ہوئی اور زیادہ میٹھی اشیاء سے پرہیز کریں جو انسولین میں اچانک اضافہ کر کے چربی کے ذخیرے کو بڑھاتی ہیں۔
صحت مند چکنائی بھی ضروری ہے، اس لیے اس کی معتدل مقدار اپنی غذا میں شامل کریں جیسے مغزیات، خشک میوہ جات، زیتون کا تیل، ایواکاڈو وغیرہ۔
صحت مند چکنائی ہارمونز کے توازن میں مدد دیتی ہے، خصوصاً ٹیسٹوسٹیرون کو جو پٹھوں کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پٹھوں کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، روزے کے دوران ڈی ہائیڈریشن کارکردگی اور پٹھوں کی مضبوطی کو متاثر کر سکتی ہے، افطار سے سحری تک ایک ہی وقت میں پانی کی زیادہ مقدار لینے کے بجائے، وقفے وقفے سے پانی پیئیں، ورزش کے بعد ضرورت ہو تو الیکٹرولائٹس کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے۔
رمضان میں ورزش کا بہترین وقت یا تو افطار سے تقریباً 60 منٹ پہلے کا ہوتا ہے، اس صورت میں آپ ورزش کے فوراً بعد افطار کر کے پٹھوں کو توانائی فراہم کر سکتے ہیں، اگر آپ ایسا کر رہے ہیں تو خیال رکھیں کہ ورزش کے سیشن معتدل رکھیں اور انتہائی سخت کارڈیو سے گریز کریں، یا پھر افطار کے 1 سے 2 گھنٹے بعد ورزش کریں۔
اگر آپ جسمانی طاقت میں اضافہ چاہتے ہیں تو افطار کے 1 یا 2 گھنٹے کے بعد ورزش کریں، کیونکہ اس وقت جسم کو خوراک اور پانی مل چکا ہوتا ہے، کمپاؤنڈ ورزشوں پر توجہ دیں جیسے اسکوارٹس، ڈیڈ لفٹس، ویٹ لفٹنگ، پل اپس وغیرہ۔
ہفتے میں کم از کم 3 سے 4 بار اسٹرینتھ ٹریننگ کرنے سے جسم کے پٹھوں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
خیال رہے کہ رمضان میں ضرورت سے زیادہ کارڈیو خصوصاً خالی پیٹ کارڈیو کرنے سے پٹھوں کو نقصان پہچنے کا خطرہ رہتا ہے، اس لیے اس سے گریز کرنا چاہیے، وزن اٹھانے والی ورزش کو ترجیح دیں اور کارڈیو کو ہلکا رکھیں، مثلاً افطار کے بعد چہل قدمی کر لیں۔
اس کے علاوہ رمضان میں دیر رات تک عبادات اور سحری کے لیے جلدی اٹھنے کی وجہ سے نیند کا شیڈول متاثر ہو سکتا ہے، نیند کی کمی کورٹیسول (اسٹریس ہارمون) میں اضافہ کرتی ہے جو پٹھوں کے نقصان اور چربی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
کوشش کریں کہ مجموعی طور پر 6 سے 8 گھنٹے کی نیند مکمل کریں، چاہے تو اسے آپ رات کی نیند اور مختصر قیلولے کی صورت میں مکمل کر لیں، نیند مکمل کرنا غذا اور ورزش جتنا ہی اہم ہے۔
سحری چھوڑ دینا، افطار میں زیادہ تر تلی ہوئی اشیاء کھانا، اسٹرینتھ ٹریننگ مکمل طور پر ترک کر دینا، روزانہ میٹھے مشروبات پینا، حد سے زیادہ کیلوری کم کرنا، یہ وہ عادات ہیں جن سے پٹھوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔