• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاناما: 1 ہزار سال سے زائد قدیم مقبرہ دریافت

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے پاناما میں ایک ایسا مقبرہ دریافت کیا ہے جو 1 ہزار سال سے زائد قدیم ہے اور جس میں انسانی باقیات کے ساتھ سونے اور مٹی کے برتنوں کے نوادرات بھی موجود ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے تحقیق کی سربراہ ماہرِ آثارِ قدیمہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دریافت ایل کانیو (El Caño) آثارِ قدیمہ کی سائٹ پر ہوئی ہے، جو ضلع ناتا میں واقع ہے اور پاناما سٹی سے تقریباً 200 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

ماہرین اور سائنسدان اس علاقے میں گزشتہ 2 دہائیوں سے کھدائی کر رہے ہیں، جہاں اس سے قبل بھی ہسپانوی دور سے پہلے کی تہذیبوں کی باقیات برآمد ہو چکی ہیں۔

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ماہرِ آثارِ قدیمہ نے بتایا ہے کہ یہاں انسانی ڈھانچے سونے کی اشیاء اور روایتی نقوش سے مزین مٹی کے برتنوں سے گھرے ہوئے ملے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افراد معاشرے میں اعلیٰ مرتبے کے حامل تھے۔

ماہرِ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ مقبرہ 800 سے 1000 عیسوی کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جس فرد کے ساتھ سونے کی اشیاء تھیں، وہ گروہ میں سب سے اعلیٰ سماجی حیثیت کا حامل تھا۔

ان کے مطابق اس جسدِ خاکی کے ساتھ 2 کنگن، 2 بالیاں اور سینے پر پہننے والے زیورات بھی ملے، جن پر چمگادڑ اور مگرمچھ کی تصاویر نقش تھیں۔

ایل کانیو کا آثارِ قدیمہ کا مقام اُن معاشروں سے منسلک ہے جو آٹھویں سے گیارہویں صدی کے درمیان پاناما کے وسطی صوبوں میں آباد تھے۔

ماہرِ آثار قدیمہ کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں تقریباً 200 برس تک اپنے مُردوں کو دفنایا جاتا رہا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس سے قبل بھی اسی مقام پر 9 دیگر مقبرے دریافت ہو چکے ہیں جو حالیہ دریافت سے مشابہ ہیں۔

دلچسپ و عجیب سے مزید