عراق میں دسمبر 2015ء میں شکار کے دوران اغوا کیے گئے چھبیس قطری شکاریوں میں سے دو کو رہا کردیا گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق قطر کی وزارت خارجہ نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں ان دو افراد کی بازیابی کی اطلاع دی اور بتایا کہ فورسزنے آپریشن کرکے ایک قطری اور ایک ایشیائی کو آزاد کرایا۔
وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ باقی چوبیس یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں اوراس حوالے سے جلد کامیابی ہوگی۔قطری حکام نے ان کی بازیابی سے متعلق مزیدتفصیل بتانے سے گریز کیا اور نہ یہ بتایا کہ ان افراد کو عراق کے کس گروپ نے یرغمال بنا رکھا تھا۔عراق کی وزارت داخلہ نے بھی فوری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ۔
واضح رہے کہ عراق کے سعودی عرب کی سرحد کے نزدیک واقع صحرائی علاقے سے 16 دسمبر کو نامعلوم مسلح افراد نے چھبیس قطری شہریوں کو ان کے شکاری کیمپ سے اغوا کر لیا تھا۔اغوا کار دس بارہ پک اپ ٹرکوں پر سوار ہو کر آئے تھے اور قطری شکاریوں کو کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے تھے۔
تب سے ان کے بارے میں کچھ اطلاع نہیں ہے کہ انھیں کہاں رکھا جارہا ہے اور نہ اغوا کاروں کا کوئی مطالبہ سامنے آیا تھا۔عراق میں قطری شہریوں کے اغوا کا یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا تھا جب قطر اور عراق کے درمیان شامی تنازع کے تناظر میں کشیدگی پائی جارہی تھی۔
قطر شامی صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے باغیوں کی حمایت کررہا ہے جبکہ عراق نے سرکاری طور پر تو کوئی واضح موقف تو اختیار نہیں کیا ہے لیکن ملک کی غالب شیعہ آبادی شامی صدر کی حمایت کررہی ہے۔