آپ آف لائن ہیں
جمعرات24؍ذیقعد 1441ھ16؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مہنگائی کیخلاف چھاپے: پھلوں اور سنبزیوں کی قیمتیں کم ہوگئیں

کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں ملکی سیاست میں الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے ،وہاں کورونا کے شبہ میں مختلف سنٹروں و ہسپتالوں میں رکھے جانے والے مریضوں اور ان کے لوا حقین کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ بھی زور پکڑتا جارہا ہے ،یہ وہ پہلو ہے کہ جس پر حکومت کوئی سنجیدہ توجہ دینے کو تیار نہیں ،نہ ہی کوئی ایسا فیصلہ رہی ہے کہ اس وبا کے شبہ میں جن لوگوں کو جیتے جی مارا جارہا ہے ،انہیں اس عذاب سے چھٹکارا دلایا جاسکے ،خود حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق چار ہزار سے زائد ایسے پازیٹو کیسز ہیں کہ جنہیں گھروں میں قرنطینہ کیا گیا ہے ،سوال یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کررہا ہے کہ کسے گھر میں آئیسولیٹ کرنا ہے ا ور کس کو ہسپتال یا قرنطینہ سنٹروں میں بھیجنا ہے ؟لاہور کے ایکسپو سنٹر میں جو مسلسل احتجاج دیکھنے میں آرہا ہے اور جس پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے انکوائری کا حکم دیا ہے ،وہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ،اس سے پہلے ملتان کے قرنطینہ سنٹر میں بھی یہی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

یہ قرنطینہ سنٹر بنائے تو بڑے دعووں کے ساتھ تھے ،مگر ان میں نہ تو کوئی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں ،نہ خوراک کا مناسب بندوبست ہے ،نہ طبی عملہ ان کی دیکھ بھال پر مامور ہے ،سب کچھ لاپرواہی کی نظر ہوچکا ہے اوران قرنطینہ سنٹروں میں مقیم کورونا کےمشتبہ افراد اپنی ویڈیوز بنا کر دہائی دے رہے ہیں ،یہ بات صرف ایک صوبے تک محدود نہیں ہے ،بلکہ سندھ میں بھی اسی قسم کی کیفیت ہے اور شکارپور میں تو جس سنٹر میں کورونا مریض داخل کئے گئے ہیں وہاں صاف پانی تک موجود نہیں ،ملتان کے زیر تعمیر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں 100 بیڈز کا عارضی کورونا کئیرسنٹر بنایا گیا وہاں کورونا مریضوں کو بھی رکھا گیا ہے مگر تعجب کی بات ہے کہ اس سنٹر میں اس گرمی میں مچھروں کی بہتات کے باوجود پنکھے تک نصب نہیں ہیں ،نہانے کا پانی تو درکنار ،پینے کا پانی موجود نہیں ہے۔

ناقص خوراک فراہم کی جارہی ہے اور کئی بار یہاں رکھے گئے مریض اور ڈاکٹر بھی احتجاج کرچکے ہیں مگر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ہے ،یہ صورتحال اس لئے بڑی تشویش ناک ہے کہ جس تیزی کے ساتھ پچھلے ایک ڈیڑھ ہفتہ میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھی ہے اور اموات میں اضافہ ہورہا ہے ،صرف نشتر ہسپتال ملتان میں رپورٹ ہونے والے پازیٹو کیسز میں سے اموات کی شرح 17 فی صد ہوچکی ہے ،جو شاید پاکستان بھر میں سب سے زیادہ شرح ہے ،ایک طرف یہ خطرنا ک صورتحال ہے تو دوسری طرف حکومت اس وبا کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اپنی ساری پالیسیاں بالائے طاق رکھ کر لاک ڈاؤن میں نرمی کئے جارہی ہے ،عوام حیران ہیں کہ جب مریض کم تھے ،تو اتنی زیادہ سختیاں کی گئیں اور اب جبکہ مریضون کی تعداد کئی سو گنا بڑھ چکی ہے ،تو حکومت نرمی کررہی ہے۔

اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ،اسے سوچ کر ہی وحشت سی ہونے لگتی ہے ،ستم بالائے ستم یہ ہے کہ کورونا پر سیاست کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے ،خاص طور پر پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی اس حوالے سے ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں اور کوئی دن نہیں جاتا ،جب دونوں طرف سے پریس کانفرنسوں کے ذریعے ایک دوسرے پر شدید الزامات نہ لگائے جاتے ہیں ،جب پوری دنیا میں ہر ملک کورونا سے نمٹنے کے لئے اجتماعی کوششیں کررہا ہے ،تو ہمارے ہاں یہ تماشہ جاری ہے کہ مرکز اور صوبوں کی حکومتیں ایک دوسرے پر ایسے الزامات لگا رہی ہیں ،جیسے وہ دو مختلف ملکوں کی حکومتیں ہو کہ جنہوں نے ایک دوسرے پر یہ الزام لگانے کی ٹھان لی ہو کہ کورونا اس کی وجہ سے ملک میں آیا ہے ، حالانکہ اگر کورونا سندھ میں موجودرہتاہے ،تو گویا وہ پورے پاکستان میں موجود رہے گا اس طرح پنجاب یا کسی اور صوبہ میں کورونا کے کیسز ظاہر ہوتے ہیں ،تو وہ ملک کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتے ہیں ،سوال یہ ہے آخر اس محاذ آرائی کا مقصد کیا ہے اور اس مقصد کے پیچھے وہ کون سے عوامل ہیںجو قومی مشکل کی اس گھڑی میں بھی سیاست کی اس گرم بازاری کو جاری رکھے ہوئےہیں ،کہا یہ جارہا ہے کہ کورونا کی امدادی سرگرمیوںکے نام پر اربوں روپے کی لوٹ مارکا یہ شاخسانہ ہے کہ دونوں طرف سے ایک دوسرےپر تابڑ توڑ حملے کئے جارہے ہیں ،وگرنہ یہ وقت ایسی محاذ آرائی کا نہیں ہے ۔

یہ سوال بھی سیاسی حلقوں میں خاصہ گرم ہے کہ کورونا جیسی وبا کے نتیجہ میں قومی سطح کے اس بحران کے دوران وفاقی حکومت کا آخر کیا پڑی کہ اس نے اٹھارویں ترمیم کے معاملے کو سامنے لاکر ایک نیا پینڈورا باکس کھول لیا ،یہ معاملات نارمل زندگی کے ہیں ،اس وقت تو یہ صورتحال ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں ہو پارہا ،تما م سیاسی سرگرمیاں معطل ہیں ،خود قومی اسمبلی کے اسپیکر کورونا وائرس کا شکار ہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ کورونا کیس سامنے آنے کی وجہ سے متاثرہوئی ہے ،ایسے حالات میں اٹھارویں ترمیم پر گفتگو کیسے ہوسکتی ہے ،کیا یہ صرف صورتحال سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ ادھر ملتان میں مہنگائی کی صورتحال نے جب عوام کی ناک میں دم کردیا اور وہ افطار تک سامان خریدنے کی سکت نہ رکھ پائے اور سوشل میڈیا سمیت اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر عوام کی دہائیاں چہار دانگ عالم سنائی دینے لگیں ،تو انتظامیہ کو کچھ ہوش آیا اور اس نے اپنے 44پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں کو متحرک کیا اور روزانہ سینکڑوں کے حساب سے چھاپے مارنے کے سلسلوں کا آغاز ہوا، کمشنر ملتان ڈویژن نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو یہ فری ہینڈ دیا کہ وہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کھل کر کارروائیاں کریں اور کسی قسم کی رعایت نہ دیں، خود ڈپٹی کمشنر ملتان کو بھی مسلسل تنقید کی وجہ سے صبح سویرے سبزی منڈی جانا پڑا ،اور وہ کئی دن تک وہاں جا کر بولی کے نظام اور سبزیوں کے ریٹس کو چیک کرتے رہے ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پھلوں اور سبزیوں کے نرخوں میں کمی ہوئی ،اس کامطلب یہ ہے کہ اگر انتظامیہ چاہے تو عوام کو ناجائز منافع خوروں کی دستبرد سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور انہیں لوٹنے کا جو سلسلہ بلا خوف وخطر جاری رہتا ہے ،اس کا خاتمہ کرسکتی ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید