آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پنجاب کے بیشتر ’’قرنطینہ سینٹرز‘‘ میں سہولیات کا فقدان

حکومت جو تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی تھی وہ تو کورونا میں بدل گیا ہے لیکن حکومتی پالیسی میں چندہ کاری کو ہی دوام حاصل رہا۔ عوام کی جیبیں خالی کرنے کی طبعی خصوصیت کورونا وائرس کی مانند جون بدل کر نہ صرف کیمیائی لبادہ اوڑھ چکی ہے بلکہ اسکی شدت میں بھی کورونائی اضافہ ہوچکا ہے، یورپ، امریکہ اور برطانیہ میں لاک ڈائون میں پھنسے پاکستانی کورونا وائرس سے مررہے تھے تو وہاں پاکستانی سفارت خانوں نے اپنی خدمات ہی بند کردیں جب کثیر تعداد میں سوشل میڈیا پر شوروغوغا ہوا تو زلفی بخاری نے معافی مانگ کر فیس سیونگ کرنے کی ناکام کوشش کی۔

ساری زندگی قیمتی زرمبادلہ دینے والے اور وطن عزیز کیلئے خدمات سر انجام دینے والے تارکین وطن جب خصوصی فلائٹس سے لوٹے تو ان سے دگنا تگنا کرایہ وصول کیا گیا۔دنیا میں ایسی کوئی مثال ہے کہ کوئی ریاست اپنے باسیوں سے ایسا سلوک کرے۔ کس قدر کوتاہ بینی تھی کہ بے روزگاری سے ڈسے سمندر پار پاکستانی جب واپس آئے تو قرنطینہ کرکے نہ صرف بھاری رقوم زبردستی اینٹھ لی گئیں بلکہ علاج اور سہولتوں کے نام پر انھیں ٹھینگہ دکھا دیا گیا۔کیا یہی وہ ریاستی ویژن تھا جس کا انتخابات سے پہلے عوام سے وعدہ کیا گیا تھا ؟ احساس پروگرام کے تحت بے روزگار افراد کے بھیجے گئےایس ایم ایس پر پیسے کاٹ لئے گئے،ایک طرف عوام کو زندگی کے لالے پڑے ہوئے ہیں دوسری جانب انھی سے پیسے مانگنے کیلئے ٹیلی تھون سجا لی گئی۔ 

ایک ارب کے اخراجات کے بدلے پچپن کروڑ روپے کےوعدے لے لئے گئے ؟ کچھ ہمراز و ہم نوالہ تو یوں نوحہ کناں ہیں کہ حکمرانوں کو واحد اسی کسب میں اوج کمال حاصل ہے ۔ حکومتی پچاس رتن صبح شام توصیفی راگنی الاپ کرسب اچھا ہے کے ڈونگرے برسا رہے ہیں اور جواز ایک پیج کا پیش کررہے ہیں حالانکہ بات ایک پیج سے میرا پیج میری مرضی میں بدلتی دکھائی دے رہا ہے۔ لاک ڈائون بارے وفاق اور پنجاب حکومت کی مبہم پالیسیوں نے قوم کو مخمصے میں ڈال دیا ہے۔

لاہور سمیت دیگر شہروں میں بنائے قرنطینہ سنٹرز سے جو ویڈیوز آرہی ہیں ان کے مطابق کورونا مریضوں کو سوائے محبوس رکھنے کے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا ہے۔مریضوں میں شدید بے چینی پھیل رہی ہے اس نے حکومت کی بے عملی اور غیر سنجیدگی عوام پر واضح کردی ہے۔پنجاب بھر کے تقریباً سبھی قرنطینہ سنٹر بنیادی سہولتوں سے عاری ہیں اور حکومتی کارکردگی کا فقدان نظر آرہا ہے۔وزیر صحت پنجاب نے جس طرح ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ اٹ کھڑکا لگائے رکھا اس نے انکے جہاندیدہ سیاستدان ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ڈال دیا ہے؟ ذرائع بتاتے ہیں کہ پنجاب کابینہ میں ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں میں ایک وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد ہوسکتی ہیں۔ نیب کے اختیارات کو محدود کیلئے وفاقی حکومت تحرک پذیر ہے لیکن حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت مخصوص اہداف کے حصول اور صرف اپنا الو سیدھا کرنا چاہتی ہے۔ 

پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہائوس جنگ گروپ اور جیو ٹی وی کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو55روز ہوچکے ہیں لیکن نیب اس بارے سنجیدہ کارروائی کرنے میں اس لئے ناکام رہا ہے کہ کیس ہی نہیں بنتا ہے۔ ماضی میں بھی حکومتوں نے ہمیشہ سچ بولنے پر جنگ اور جیو پر معاشی پابندیاں عائد کیں جیو کو بند بھی کیا گیا۔ جنگ اور جیو کے اشتہارات بھی بند کئے گئے تاہم اس بار 34 سال پہلے خریدی گئی نجی جائیداد کے حوالے سے ناجائز طور پر میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کرکے نیب اور حکومت نے اپنے تابوت میں آ خری کیل ٹھونک لیا ہے۔ 

وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں انتہائی کمی کے باوجود اس کا فائدہ عوام تک نہ پہنچا کر اور فی لٹر ٹیکس دو گنا کرکے اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بائیس روپے اضافہ کرکے حکومت نے انسانوں پرخرچ کرنے کے اپنےدعووں کی سرے سے نفی کردی ہے۔دو ماہ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے مہنگائی کم نہ کرسکنے پر حکومتی مقبولیت کا گراف تیزی سے گرتا جارہا ہے۔ویسے تو دور اقتدار میں ہر انصافی لیڈر نے بیانات دیتے ہوئے اتنے شگوفے پھوٹے ہیں جنھیں قلمبند کرنے کیلئے ایک کتاب بھی کم پڑجائے۔وسیم اکرم پلس کے سر عام اعتراف کو دو سال ہونے کو آئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہےکہ ہم ابھی سیکھ رہے ہیں .فردوس کا ذکر پھر کبھی۔ 

فی الحال ابن فراز کی سنیے وہ فرماتے ہیں ‏ایسا لاک ڈاؤن چاہتےہیں کہ معاشی سرگرمیاں بھی جاری رہیں اور لوگ بھی گھروں سےنہ نکلیں۔ ان سب کا افسوس کیا کریں انکے اوپرتو ایک مکمل دیوان موجود ہے۔ بائیس ماہ کے دور میں حکومتی خطابات کے پھوٹنے والے شگوفے کسی طور نہ رک پائے ہیں۔ چند فرمانوں کا خلاصہ یہ ہے مجھے نہ عوام ٹھیک ملی، نہ معیشت اور نہ ہی ٹیم۔ اب تو انتظار ہے کہ کب وہ کہیں کہ مجھے اشرافیہ بھی ٹھیک نہیں ملی؟۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید