آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہم مختلف مواقع کی مناسبت سے وقتاً فوقتاً آپ کو پیغامات لکھ بھیجنے کا سندیسہ دیتے رہتے ہیں۔امسال بھی حسبِ روایت عید الفطر کے موقعے پر آپ کو اپنے پیاروں کے نام سندیسے لکھنے کا پیغام دیا، مگر لاک ڈاؤن کے سبب پوسٹل سروس بند ہونے کے باعث مقررہ تاریخ تک کچھ بہت زیادہ پیغامات موصول نہیں ہوئے۔ بہرحال، اب تک ملنے والے تمام تر عید پیغامات اورمدرز ڈے کے وہ پیغامات جو تاخیر سے موصول ہوئے ،آپ کی عظیم ماؤں اور پیاروں کی نذرکر رہے ہیں۔

(اہلِ خانہ اور اُمّتِ مسلمہ کے نام)

رب ّکے حضور دُعا ہےعید الفطر مجھ سمیت تمام مسلمانوں کے لیے خوشیوں کی پیام بَر بن جائے اورہمیں کورونا وائرس سےجلد از جلد نجات حاصل ہو (آمین)۔ (صائمہ ظفر قریشی،لاہور سے)

(اہلِ خانہ کے لیے)

آپ سب کو ڈھیروں ڈھیر دُعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ عید مبارک۔میرا آپ سب کے لیے یہی پیغام ہے کہ عید ملنے ملانے کا نام ہے، مگر حالات کے پیشِ نظرگھروں میں رہیں اور عید کی خوشیوں میں مجھے بھی یاد رکھیں۔ (نعمان حیدر جامی، چک نمبر18، دریا خان،بھکر سے)

(اہلِ وطن، جنگ سنڈے میگزین کی ایڈیٹر اور ٹیم کے نام)

آپ سب میری جانب سے تہہ دِل سےعید کی مبارک باد قبول کیجیے۔ (ڈاکٹر منصور جمیل خانزادہ، نوشہروفیروز،سندھ سے)

(گھر سے دُو،ر اپنوں کے لیے)

ہر سال عید خوشیوں کی بہار لاتی ہے، مگر رواں برس کورونا وائرس نے اس پُرمسرت موقعے کی خوشیاں ماند کردی ہیں۔بہرحال، میری جانب سے سب کو ڈھیروں ڈھیر عید مبارک۔ (لیاقت مظہر باقری،گلشنِ اقبال،کراچی سے)

(جان سے پیارے دوست کی نذر)

تحفہ دُعاؤں کا تمہیں پہنچے میرا

سدا رہے تمہارے گرد خوشیوں کا گھیرا

مسرتیں عید کی تمہیں مبارک ہوں

تمہاری زیست میں نہ آئے کبھی غموں کا پھیرا (محمّد احمد یاسین کی طرف سے)

(اپنے پیاروں کے نام )

میرے گھر والوں،رشتے داروں اور دوستوں کو عید کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہوں۔ (قاضی علی اصغر،رسال پور کینٹ سے)

(اپنی فیملی کے لیے)

جس طرح خوشبو، پھولوں کے ساتھ رہتی ہے، بالکل ایسے ہی ہم سب کا ساتھ سدا سلامت رہے۔آپ سب کو میری جانب سےعید مبارک ۔ (خدیجہ سعید، صدر بازار،رسال پور سے)

(نصف بہتر،شازیہ عمران کے نام)

میری جانب سے آپ کو میٹھی عید کی ڈھیروں مبارک باد قبول ہو۔ (عمران خالد خان، گلستانِ جوہر،کراچی سے)

(پیاری ممّا کے لیے)

دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عید پر آپ کو ڈھیروں خوشیاں دیکھنا نصیب فرمائے(آمین)۔آئی لَو یو ممّا جان اوردِلی عید مبارک۔ (ماہم عمران، گلستانِ جوہر ،کراچی سے)

(شریکِ حیات، فرخندہ بخت کے نام)

فرخندہ!تمہارے ساتھ گزرامیرا ہر دِن عید ہے۔یقین جانو، تمہیں دیکھ کر ایسی ہی خوشی ہوتی ہے، جیسے عید کا چاند دیکھ کر چہرا کِھلتا ہے۔میرا حوصلہ اور خوشی تم ہی ہو۔ میری جانب سے عید مبارک۔ (جمشید خادم، رحیم یار خان سے)

(میری فیملی اور سہیلیوں کے لیے)

پیاری فیملی اورپیاری پیاری سہیلیو!رافعہ،رفعت،فضا،آمنہ،سحر، نایاب، شمائلہ اور اقرا!آپ سب کو پُرمسرت، خوشیوں بھرا تہوار مبارک ہو۔ (فہیم مقصود،والٹن روڈ،لاہور کینٹ کی جانب سے)

(اہلِ خانہ اور سہیلیوں کے نام )

میری طرف سےآپ سب کو عید مبارک۔ اس موقعے پر دُعا ہے کہ اے پروردگار ! ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم اپنے ساتھ مستحق افراد کی خوشیوں کا بھی خیال رکھ سکیں(آمین)۔ (گل رُخ سعید،اوکاڑہ کینٹ سے)

(میرے اپنوں کے نام)

امسال عید کےخیال کے ساتھ ایک اُداسی نے بھی آ گھیرا کہ یہ عید ہر سال کی طرح نہیں ہوگی۔نمازِعید کے اجتماعات، نہ احباب کے یہاں دعوتیں، کچھ بھی نہیں۔ لیکن پھر عید کی صُبح کے تصوّر نے سوچوں کا رُخ بدل ڈالا کہ اس منظر میں میرے سَر پہ چھت تھی، تن پر نیا جوڑا، پیٹ میں روٹی اور سب سے بڑھ کر میرے ساتھ میرے والدین اور بہن بھائی اور سب صحت مند اور تن درست۔تویہ منظر مجھ سے یہی کہہ رہا ہے کہ یہی تو عید ہے ۔روزہ داروں کے لیےیہ عید اللہ کا انعام ہے۔اور مَیں نے اپنایہ انعام بغیر کسی حیل و حجت کے قبول کیا ہے۔ مَیںنعمتوں کا شُکر ادا کرنے کے قابل نہیں، تو ان کی ناشُکری بھی نہیں کروں گی۔ مَیں اپنے ربّ کی کسی نعمت کو نہیں جھٹلاؤں گی۔سب کو میری جانب سے عید مبارک۔ (صائمہ انور کی جانب سے)

(اُمّتِ مسلمہ کے لیے)

غزوۂ بدر اسلام اور کفر کا پہلا اور اہم ترین معرکہ ہے، جس سے دُنیا پر واضح ہوگیا کہ نصرتِ الہیٰ کی بدولت مومنین کئی گنا بڑی فوج کو شکست دے سکتے ہیں۔آپ سب کو عید مبارک۔ (سیّد اویس حسین شاہ)

(ڈئیر فہد کے نام)

عید مبارک ۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے(آمین)۔ (نایاب ،کراچی کی جانب سے)

(بیسٹ فرینڈ زی کے لیے )

میری جانب سےعید مبارک۔ (مسز شاہدہ ناصر کی جانب سے)

(اہلِ خانہ کے نام)

میری طرف سے پاپا، ماما، ہادیہ، عبداللہ اور منصور کو عید کی ڈھیروں ڈھیر خوشیاں مبارک۔ (صباحت،لاہور سے)

( اُمّتِ مسلمہ اور اہلِ وطن کے لیے)

اُمّتِ مسلمہ اور اہلِ وطن کو بہت بہت عید مبارک۔ (فاریہ ریاض،لاہور)

(اہلِ وطن کے نام)

اہلِ وطن کو دِل کی گہرائیوں سےعید مبارک (آمنہ سلام کی جانب سے)

(اپنے پیاروں کےلیے)

میری جانب سے سب گھر والوں، رشتے داروں اور دوستوں کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں۔دُعا ہے کہ اللہ پاک آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے پوری دُنیا کو کوروناوائرس اور دیگر امراض سےنجات دلائے(آمین)۔ (شانزا خان،ملتان)

(اہلِ خانہ اور اُمّتِ مسلمہ کے نام )

میری فیملی، میرا فخر اور مائی سوئیٹ ہوم کے معزز اراکین اور اُمّتِ مسلمہ کو دِل کی گہرائیوں سے عید کی مبارک باد قبول ہو۔ دُعا ہے کہ ربِّ کریم ہم سب کی تمام عبادات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے۔ہم پر اپنا رحم، کرم اور فضل فرمائے۔مسلمانوں کو نیک ہدایت دے، رسول اللہﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور دُنیا بَھر سے کورونا وائرس کی مہلک وبا ختم کردے(آمین، ثمّ آمین)۔ (عنبر مہر ایڈووکیٹ ،کراچی سے)

(پیاری بہن، شفق خان کے لیے)

آپ کو ہماری جانب سے شادی کے بعد سُسرال میں پہلی عید بہت بہت مبارک ہو۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور دولہا بھائی کو سدا شاد و آبادرکھے (آمین)۔(ثناخان اور مایا خان کی طرف سے)

(پیاری واوا پھوپھو کے نام)

واوا پھوپھو! میری جانب سے عید مبارک۔مَیں آپ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہوں۔آپ مجھے بہت اچھا ہوم ورک کرواتی تھیں۔مایا توبالکل اچھا ہوم ورک نہیں کرواتی۔آپ عید کے دِن میرے گھر ضرور آنا ۔مَیں آپ کا انتظار کروں گا۔اور ہاں پھوپھومیری عیدی یاد ہے ناں ۔ (آپ کا شہزادہ، مصطفیٰ خان)

(اہلِ اسلام کے لیے)

اہلِ اسلام کو دِلی عید مبارک۔مَیںسب سے یہی کہنا چاہوں گی کہ اگر کوئی خوشی خوشی کتنی بھی عیدی دے تو لینے سےانکار نہ کریں کہ اس میں دینے والا کا خلوص اور بے پناہ محبّت چُھپی ہوتی ہے۔ (تانیہ شہزاد ،رحیم پور ،سیال کوٹ)

(پیارے نانا،نانی اور عزیز و اقارب کے نام)

ناناجان، نانی جی اور عزیز واقارب! مانا کہ مَیں آپ سب سے بہت دُور ہوں اور یہ دُوری چاہے زمین سے چاند تک کی مسافت جتنی ہی کیوں نہ ہو، مگر آپ سب میرے دِل سے دور نہیں۔ مَیں آپ کو بہت یاد کرتی ہوں۔ اس پُر مسرت موقعے پر بہت محبّت سے میری جانب سے عید کی مبارک باد قبول کریں۔(علیزے صدیقی کی طرف سے)

(عزیز واقارب اور دوستوں کے نام)

آپ سب کو دِل کی گہرائیوں سے اس دُعا کے ساتھ عید مبارک کہ آج کے دِن آپ کی ہر دِلی مُراد پوری ہو(آمین)۔ (پارس کھتری ،گلستانِ جوہر، کراچی)

(میری خوشی،میری امّی کے نام)

آئی لَو یو امّی جان۔ (حِرا عباسی کی طرف سے)

(دُنیا بِھر کی ماؤں کے لیے)

اللہ تعالیٰ دُنیا بَھر کی ماؤںکو کو رونا وائرس سے محفوظ رکھے(آمین)۔ (علی، حسنین،سمیرہ اوربریرہ، اورنگی ٹاؤن،کراچی سے)

(والدہ(مرحومہ)کے نام)

امّی جان! آپ کو ہم سے بچھڑے 5سال گزر گئے ہیں،آپ کی کمی شدّت سے محسوس ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنّت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے(آمین)۔ (حاجی یامین،انس اور ابدال، نارتھ کراچی،کراچی کی جانب سے)

(پیاری امّی(مرحومہ)کے لیے)

امّی! آپ کا خلا کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالی آپ کو کروٹ کروٹ جنّت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے (آمین)۔ (منہب، زینب اور فاطمہ،واٹر پمپ،کراچی سے)

(امّی جانی کے لیے)

یا اللہ!ہماری امّی کا سایہ ہمارے سروں پر سدا سلامت رکھنا(آمین)۔ وی لَو یو سو مچ۔ (دانیال،جویریہ اور لائبہ،اورنگی ٹاؤن،کراچی کی جانب سے)

(پیاری امّی کی خدمت میں)

آپ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دِل کی دھڑکن ہیں۔ آئی لو یو۔ (حسیب،منیب اور حریم،اورنگی ٹاؤن،کراچی کی طرف سے)

(پیاری امّی(مرحومہ) کے نام)

امّی جان! ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ امسال فروری میں آپ اللہ کے پاس چلی جائیں گی۔آپ بہت یاد آتی ہیں۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جنّت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے(آمین)۔ (رینا، عینی، ثنا، انا اور ثاقب، حیدرآباد کی دُعا)

(بہت ہی عزیز، امّی کےلیے)

اللہ آپ کوصحت و تن درستی کے ساتھ عُمرِ خضر عطا فرمائے اور ہم سب کو اس عالمی آفت سے محفوظ رکھے(آمین)۔ (محمّداسحاق اینڈ برادرز،اورنگی ٹاؤن،کراچی سے)

(والد(مرحومہ)کے نام)

پیاری امّی! آپ کےدُنیا سے چلےجانے کے بعد دِل کسی کام میں نہیں لگتا۔آپ کی یاد ہر پَل ستاتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے(آمین)۔ (حافظ محمّد نعیم قریشی، بڑا میدان،ناظم آباد،کراچی سے)

(دِل نشین،امّی کے لیے)

آپ ہی تو دُنیا کی سب سے اچھی امّی ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی عُمر دراز فرمائے(آمین)۔ (روشان درشکا،حیدرآباد کی طرف سے)

(امّی(مرحومہ)کے نام)

آہ…!!تقریباً 17برس قبل ہم ماں جیسی عظیم نعمت سے محروم ہوگئے۔امّی آپ کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکتا۔وی مس یو امّی جان۔ (شہوار،شاہ ریز، زنیر، علیزہ اور ادیبہ، پاپوش نگر، کراچی سے)

(والدہ(مرحومہ)کے لیے)

امّی جان! اپریل2019ءکا غم ناک دِن تھا، جب آپ ہم سب کو روتا بلکتا چھوڑ گئیں۔دعُا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جوارِ رحمت میں جگہ اور ہم سب بھائیوں کو محبّت ویگانگت کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔ (حذیفہ، فرجاد اور ارمغان، اورنگی ٹاؤن،کراچی سے)

(دُنیا بَھر کی ماؤں کے نام)

ماںکی دُعا عرش ہلا دیتی ہے، ہماری دُنیا بَھر کی ماؤں سے التجا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے نجات کے لیے خُوب دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ 70ماؤں سے زیادہ محبّت کرتے ہیں، وہ دُنیا بَھر کی ماؤں کی دعائیں ضرور قبول فرمائیں گے۔ (ولید اور مریم، اورنگی ٹاؤن، کراچی کی التجا)