آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کہتے ہیں کہ حقیقی مسرتیں دھن دولت کی محتاج نہیں ہوتیں۔ حقیقی خوشیاں انسان کے اندر سے پھوٹتی ہیں اور روشنی بن کر ہر طرف بکھر جاتی ہیں۔ تاہم مادہ پرستی کے دور میں لوگ حقیقی مسرتوں کے لیے ترستے نظر آتے ہیں۔ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے روحانی مسرتیں لے کر آتا ہے اور جاتے جاتے عیدالفطر کا تحفہ دے جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے عیدالفطر کا تہوار مسرت اور شادمانی کا پیغام بن کر آتا ہے، لیکن اسے کیا کہا جائے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظام کی وجہ سے طبقاتی تفریق اور معاشی ناہم واری ان خوشیوں کو مختلف خانوں میں تقسیم کردیتی ہے۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ مادہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان اور نمود و نمایش کی خواہش نے بہت کچھ بدل دیا ہے ۔ رہی سہی کسر ہوش ربا گرانی نے پوری کردی ہے ۔ ایسے میں غریبوں کے لیے عید کی خوشیاں منانا تقریبا ناممکن ہوگیا ہے۔لیکن اس برس توپوری دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے عید کا تہوار منانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔

روایتی طور پر پاکستان میں پندرہ شعبان المعظم کے بعد بازاروں میں گہما گہمی بڑھنا شروع ہوجاتی تھی۔رمضان کے آغاز سے اس میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ۔ چاند رات کو بازاروں کی گہما گہمی عروج پر ہوتی تھی۔لیکن اس برس تو سارے کا سارا منظر ہی تبدیل ہوگیا ہے۔کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن کے باعث شہرِ قائد میں اس بار ماہِ رمضان اور پھر عید کی رونقیں ماند دکھائی دے رہی ہیں۔تقریبا پندرہ روزے تک تو شہر پر مکمل لاک ڈاون کا راج تھا ۔ پھر جزوی طورپر دکانیں کھولنے کی اجازت ملی تو بھی وہ پہلے والی رونق عنقا تھی۔ لاک ڈاون کی وجہ سے ملک کی معیشت، کاروبار اور لاکھوں یومیہ دیہاڑی والے محنت کش بہت بُری طرح متاثر ہوئے ہیں اور بہت سے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے ۔ا ن حالات میں ملک بھر میں مخیّر افراد اپنی مدد آپ کے تحت عریب اور نادار افراد کی مدد کررہے ہیں۔

رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی مسرتوں کے ساتھ مادّی خوشیاں بھی لے کر آتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں عمومی طور سے اسلامی معاشرے پر نیکی اور ہم دردی کے جذبات غالب ہوتے ہیں۔ ان جذبات کے تحت اس ماہ میں بہت سےمسلمان یہ کوشش کرتے ہیںکہ وہ اپنے غریب، مستحق، نادار،مفلس، بیمار، بے روزگار اور مصیبت کے مارے بھائیوں کی مختلف طریقوں سے حتی المقدور مدد کریں۔ اس کوشش میں ہمارے معاشرے کے بہت سے ایسے لوگوں تک ایسی بہت سی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں جو انہیںسال بھرنصیب نہیں ہوتیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلسل ایک ماہ تک روزے رکھنے اور رات کو قیام کرنےکے انعام کے طور پر مسلمانوں کو عید جیسا پُرمسرت تہوار عطا کیا جاتا ہے۔

لیکن اس تہوار کے ضمن میں بھی مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ دیگر مواقع کی طرح اس موقعے پربھی اپنے غریب،نادار، مستحق اور مفلس بھائیوں اور بہنوں کو ہرگز نہ بھولیں۔ اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے بہت سے مسلمان اپنے مال میں سے کچھ نہ کچھ حصہ اپنے ضرورت مند بھائیوں کے لیے نکالتے ہیں۔یوں صدقات، خیرات، زکوٰۃ اور فطرے کی مدات میں بھاری رقوم اسلامی معاشرے میں ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ رمضان المبارک اور عید الفطر کے موقعے پر ان مدات میں صرف پاکستان میں اربوں روپے کی گردش ہوتی ہے۔

تبدیلی کیوں نہیں آتی؟

ان تعلیمات کی موجودگی میں ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت، بے چینی اور جرائم کی شرح بعض سوالات کو جنم دیتی ہے۔مثلاً ہم عیدالفطر اور اس جیسے دیگر خوشی کے تہواروںکے موقعے پر اپنی خوشیوں میں غرباء، مساکین، یتامیٰ، بیوائوں، ناداروں اور مفلسوں کو کتنا شریک کرتے ہیں؟ اگر کرتے ہیں تو یہ کوششیں کتنی مؤثر اور ٹھوس ہوتی ہیں اور کیسے کی جاتی ہیں؟ بعد میں ان کوششوں کے کتنے فی صد اثرات عام آدمی کی زندگی پر ظاہر ہوتے ہیں؟ 

اگر مسلمان زکوٰۃ، صدقات، خیرات، فطرہ وغیرہ منظم انداز میں دیں تو معاشرے میں اس کے نتیجے میں کیسی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ علمائے کرام، ماہرین اقتصادیات اور سماجی ماہرین اس موضوع پر بہت کچھ کہہ اور لکھ چکے ہیں، لیکن ان کے ادا یاتحریرکردہ ہر لفظ کا بہ راہ راست تعلق عوام ہی سے ہوتا ہے۔لہٰذا ہم یہ سوالات لے کر بہ راہ راست عام آدمی کے پاس گئے۔

مربوط انداز اپنانے کی ضرورت

امریکا سے تعلق رکھنے والے ایک کثیر القومی بینک کی کراچی میں موجود شاخ میں اعلیٰ عہدے پر کام کرنے والے عمیر احمد کے مطابق اسلامی معاشرے محض اپنی سخاوت اور فیاضی کی خصوصیت کی بناء پر دوسروں کی مدد حاصل کیے بغیر اپنے پچاس فی صد مسائل بہ حسن و خوبی حل کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں صرف ایک نکتے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی نظم و ضبط۔ صرف ہمارے ملک میں ہر سال لوگ اربوں روپے زکوٰۃ، خیرات ، صدقات اور عطیات کی صورت میں اپنی جیب سے نکالتے ہیں۔ اگر یہ رقوم مربوط طریقے سے خرچ کی جائیں تو چند برسوں میں ہمارے معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ 

اسلام نے ہمیں یہ تک بتایا ہے کہ یہ رقوم کن مدات میں خرچ کی جا سکتی ہیں۔ ان مدات میں تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبے حتیٰ کہ راستے،سرائے اور کنویں بنانا بھی شامل ہے۔ اسلام کے اقتصادی نظام کی بنیاد یہ ہے کہ ارتکاز دولت کو روکا جائے۔ آج ملک و قوم جس مشکل میںہے،اس مشکل سےبھی نکلنے کے لیے زکوٰۃ، صدقات، خیرات، فطرے وغیرہ کی رقوم استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح ملک میں تعلیم ، صحت اور روزگار کے مسائل حل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ مختلف ادارے یہ رقوم خرچ کرتے ہیں، لیکن ان کے اثرات معاشرے میں اس لیے نمایاں طور پر نظر نہیں آتے کہ ان کی کوششوں کا دائرہ بہت محدود اور مسائل لامحدود ہیں۔

ہمیں اپنے عوام کو یہ رقوم منظم انداز میں خرچ کرنے کی تربیت دینا ہو گی۔عمیر احمد کے مطابق وہ اپنے مال میں سے ان مدات میں رقوم نکالنے کے بعد ایسے افراد یا اداروں کا انتخاب کرتے ہیں جن کی دیانت داری شک و شبہے سے بالاتر ہوتی ہے اور ساتھ ہی وہ منظم اور مفید انداز میں یہ رقوم استعمال کرتے ہیں۔لیکن اس برس انہوں نے ’’انسانی جان پہلے‘‘کےفلسفے پرعمل کرتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی ہے۔جب سے لاک ڈاون ہوا ہے وہ ہر ماہ اپنی جیب سے اور بعض عزیز و اقارب کی مدد سے مستحق افراد میں راشن کی تقسیم کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ان کے بہ قول یہ وقت انسانی جانیں بچانے کا ہے،باقی سارے معاملات پیچھے رہ گئے ہیں۔زندگی رہی تو ان معاملات پر بعد میں توجہ دی جاسکتی ہے۔اس برس وہ روزے داروں کو روزہ رکھنے اور بھوکوں کا پیٹ بھر نے کے لیے مدد کررہے ہیں۔ عمیر احمد کے مطابق اس برس ان کے گھر میں چوں کہ روایتی افطار پارٹی نہیں ہوئی لہذا انہوں نے وہ رقم بھی اس کارِخیر پر خرچ کردی ہے۔عید بھی چوں کہ روایتی طور پر نہیں منائی جاسکے گی لہذا انہوں نے خاندان کے افراد کو اس بات پر راضی کرلیا ہے کہ اس مرتبہ عید کے ملبوسات پر بس معمولی رقم خرچ کی جائے اور اس مد میں بچ جانے والے پیسےمستحقین کی مدد کے لیے خرچ کیے جائیں۔

کسی کی مدد کرنے سے دولت کم نہیں ہوتی

اعجاز احمد بولٹن مارکیٹ،کراچی میں پارچہ جات کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ہر سال رمضان المبارک میں غرباء، مساکین اور بیوائوں میں استطاعت کے مطابق پارچہ جات تقسیم کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض افراد کو وہ مکمل لباس سلواکر دیتے ہیں۔ پہلے ان کے والد یہ کام کرتے تھے۔وہ بعض افراد کو مہینے بھر کا راشن بھی فراہم کرتے ہیں، تاہم ان سرگرمیوں کا زیادہ تر تعلق رمضان المبارک کے مہینے سے ہوتا ہے ۔ تبدیلی نظر نہ آنے کی بابت اعجاز احمد کا موقف ہے کہ وہ اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ بہت سے افراد انفرادی طور پر اس طرح کے کام کرتے ہیں لیکن منہگائی اور مسائل کے انبار کی وجہ سے ان کاموں کے اثرات نمایاں نہیں ہو سکتے۔

ان کے بہ قول معاشرے میں بڑھتی ہوئی بددیانتی اور اعتماد کی کمی کی وجہ سے ان جیسے بہت سے افراد نیکی اور بھلائی کے کاموں کے لیے اپنے ہاتھوں سے رقم خرچ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔تاہم اس برس سب کچھ بدل گیا ہے۔بہت سے کاروباری افراد بھی مشکلات کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔لیکن انہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں بھی اپنے بزرگوں کی قایم کردہ روایت نبھانے کی کوشش کی ہے،مگر زرا مختلف انداز میں۔ان کے بہ قول شعبان کے مہینے سے عید کی چاند رات تک ان کا کاروبار عروج پر ہوتا تھا،لیکن لاک ڈاون نے انہیں لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا ۔ 

اس کے باوجود انہوں نے اپنے کسی ملازم کو فارغ کیا اور نہ کسی کی تن خواہ کم کی یا روکی۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایمان ہے کہ مشکل وقت میں کسی کے کام آنے سے مال و دولت میں کوئی کمی نہیں آتی ، بلکہ ایسا کرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے ۔ چناں چہ وہ نہ صرف تن خواہیں دے رہے ہیں،بلکہ اپنے کاروبار سے منسلک مستحق افراد کی ہر ممکن مدد بھی کررہے ہیں۔ انہوں نے بہت یقین سے کہا کہ میں اللہ تعالی کی مخلوق میں جو آسانیاں تقسیم کررہا ہوں اس کے بدلے میں مجھے مزید آسانیاں ملیں گی۔

اس برس جانیں بچانا اوّلین ترجیح

اسی بازار میں کپڑوں کے تھوک فروش سلیم اللہ سے بھی گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق ان کے والد رمضان المبارک میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ دو لاکھ روپے مالیت کا کپڑا مستحقین میں تقسیم کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ وہ زکوٰۃ، صدقات، فطرے وغیرہ کی رقوم سےبھی لوگوں کی مددکرتے تھے۔والد کے انتقال کے بعد انہوں نے چند برس تک وہ ہی طریقہ اپنائے رکھا۔ لیکن پھر چھ سات برس قبل اس ضمن میں کچھ تبدیلیاں لانے کے بارے میں سوچا۔ 

اس کی وجہ ان کا ایک دوست بنا۔ وہ رمضان المبارک کے دن تھے۔ سلیم اللہ کا دوست زکوٰۃ، صدقات، خیرات اور فطرے وغیرہ کی رقوم جمع کرانے کے لیے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی، دی سٹیزن فائونڈیشن، ایدھی فائونڈیشن اور انجمن حمایت اسلام کے تحت چلنے والے یتیم خانے کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ 

اس موقع پر اُس نے سلیم اللہ کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی جو انہوں نےقبول کرلی۔واپس آنے کے بعد انہوں نے سنجیدگی سے اس بارے میں غوروخوض کرنا شروع کیا کہ اگر درج بالا مدات کی رقوم کو بھرپور منصوبہ بندی کے ساتھ خرچ کیا جائے تو فلاح عامہ کے مستحکم ادارے وجود میں آ سکتے ہیںجو نسبتاً زیادہ مفید انداز میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام کر سکتے ہیں۔ اگلے برس سے انہوں نےکپڑے اور رقوم کی تقسیم صرف انتہائی مفلس افراد تک محدود کر دی اور باقی رقم مختلف فلاحی اداروں اور ایک دو دینی مدرسوں کو دینے لگے۔ ان کے مطابق مذکورہ ادارے کسی نہ کسی حد تک معاشرے میں بہتری لانے کے لیےکوشاں ہیں۔ 

ایسے نہ جانے مزید کتنے چھوٹے بڑے ادارے ملک بھر میںمصروف عمل ہیں، اگر اُن کی سرپرستی کی جائے تو نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔تاہم اس برس انہوں نے زیادہ تر فنڈ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کوراشن کی تقسیم کے لیے دیا ۔ کیوں کہ ان کے بہ قول اس برس صورت حال یک سر مختلف ہے اور لاک ڈاون سے متاثرہ افراد کی جانیں بچانا اولین ترجیح ہے۔

بچّوں میں عید کے جوڑے بانٹنے والا فرشتہ

کھارادر میں واقع بمبئی بازار کی ایک دکان میں بچوں کے سلے سلائے ملبوسات فروخت کرنے والے رمضان دانش کے مطابق، رمضان شروع ہوتے ہی ان کے بعض پرانے گاہک ان سے رجوع کرکے کچھ رقم ان کے حوالے کردیتے ہیں اور یہ سمجھ جاتے ہیں کہ انہیں یہ رقم کیسے خرچ کرنی ہے ۔ دراصل یہ مخیّر حضرات ہر برس اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں اور ناداروں میں رمضان دانش کی مدد سے بچوں کے سلے سلائے ملبوسات مفت تقسیم کرتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ بعض انجان افراد بھی ان سے رابطہ کرکے اسی طرح نیکیاں سمیٹتے ہیں۔ رمضان دانش کے مطابق اس دنیا میں آج بھی اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ دلوں میں خوف خدا رکھنے والے نیکیوں کے لیے راہیں تلاش کرلیتے ہیں۔ 

اس ضمن میں وہ اپنی دکان کی مثال پیش کرتے ہیں جو نیکیوں کے زنجیری عمل کا حصہ بن گئی ہے۔ آٹھ دس برس قبل انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق غریب اور نادار مسلمان بچوں میں عید کی خوشیاں بانٹنے کا آغاز کیا تھا۔ تمام تر پردہ پوشی کے باوجود چند افراد ان کے اس نیک کام سے آگاہ ہوگئے اور پھر وہ بھی اپنی استطاعت کے مطابق اس میں حصّہ لینے لگے۔لیکن اس برس بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔اب راشن کی تقسیم اولین ترجیح نظر آرہی ہے۔

’’بابا! میں اس عید پر پرانے کپڑے نہیں پہنوں گا‘‘

جوڑیا بازار میں بار برداری کا کام کرنے والے محمد صدیق کے مطابق وہ بیس برس سے یہ کام کر رہے ہیں اور نانک واڑہ کے علاقے میں رہتے ہیں۔ ان کے چار بچّے ہیں، جن میں سب سے چھوٹے بچے کی عمر 9 برس اور نام محمد اعجاز ہے۔ وہ شوخ طبع اور محمد صدیق کا لاڈلا ہے۔تین چار برس سے محمد صدیق کا خاندان عیدالفطر کے موقع پر نئے ملبوسات سے محروم رہتا ہے، لیکن وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس برس محمد اعجاز نے اپنے والد سے سختی کے ساتھ کہہ دیا ہے : ’’بابا! اس عید پر میں پرانے کپڑے نہیں پہنوں گا۔ مجھے بھی محلّے اور خاندان کے دیگر بچّوں کی طرح عید کے روز نئے کپڑے پہننے ہیں‘‘۔ 

اس نے یہ دھمکی دی ہےکہ اگر اس کی فرمائش پوری نہیں کی گئی تو وہ عید کے روز پورا دن روتا رہے گا،کھانا نہیں کھائے گا اور گھر سے باہر نہیں نکلے گا‘‘۔ محمد صدیق یہ بتاتے ہوئے جذباتی ہورہے تھے۔ان کا کہنا تھاکہ اس برس تو کرونا کی وجہ سے جان کے لالے پڑے ہوئے۔ دو تین ماہ سے کوئی آمدن نہیں،مگر بچّے تو بچّے ہوتے ہیں۔ایسے میں بیٹے کی فرمایش کیسے پوری کرسکتا ہوں۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے جذبات کی شدت پر قابو پانے کے لیے دوسری طرف منہ پھیر لیا تو انہیں مزید دکھی نہ کرنے کے خیال سے ہم نےقدم آگے بڑھادیے۔

ابّو! میرے لیے ہار اور سینڈل لانا

مچھر کالونی میں رہائش پذیر ریحان احمد کے مطابق عیدالفطر کے موقعے پر بچّے ان سے طرح طرح کی فرمائشیں کرتے ہیں۔ سمجھ دار بچّوں کو وہ کسی نہ کسی طرح ٹال دیتے ہیں ،لیکن چھ سالہ ریحانہ کو اپنے باپ کی مشکلات کا کوئی علم نہیں، اس مرتبہ اس نے نئے جوڑے کے علاوہ اپنے باپ سے ہار اور سینڈل لانے کی بھی فرمائش کی ہے۔ لیکن ریحان احمد کے بہ قول ان کے مالی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنے بچّوں کو عید پر نئے جوڑے دلا سکیں۔ ایسے میں وہ معصوم ریحانہ کی فرمائش کیسے پوری کر سکتے ہیں۔ 

ان کے بہ قول وہ صدر میں واقع ایک دکان میں ملازم ہیں۔ان کی ماہانہ آمدن پندرہ ہزارروپے ہے۔ اتنی قلیل آمدن میں وہ پانچ افراد پر مشتمل کنبے کا خرچ بہ مشکل چلا پاتے ہیں۔ اوپر سے کروناکی وبا نے مزید مشکلات پیداکردی ہیں۔ عیدالفطر کے موقعے پر ان کے لیے بچّوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرنا ناممکن ہوتاہے۔ لیکن بچّے چاند رات تک اس انتظار میں رہتے ہیں کہ وہ گھر لوٹیں گے تو ان کے ہاتھ میں کپڑوں اور جوتوں کے نئے جوڑے ہوںگے۔

’’ہمارے لیے عید کے روز اہتمام اور تفریح کا کوئی تصور نہیں‘‘

مختلف مقامات پرگفتگو کے دوران کئی افراد نے یہ موقف اختیار کیا کہ عید ان کے لیے معمول کے ایّام سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔تاہم اس اعتبار سے یہ دن ان کے زندگیوں میں ذرا مختلف نوعیت کا ہوتا ہے کہ اس روز انہیں اپنی غربت اور بے بسی کا شدت سے احساس ہوتا ہے اور اس پر رونا آتا ہے۔ 

ان لوگوں کے بہ قول جو خاندان عام دنوں میں نان شبینہ کو ترستے ہوں یاجن کے گھروں میں اکثر فاقے ہوتے ہوں اور جن کی آمدنی بہت تھوڑی ہو، وہ عید کے روزکس طرح خاص اہتمام کرسکتے ہیں؟ ان لوگوں کے بہ قول ان کے لیے عید کے روز اہتمام اور تفریح کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ اس روز بہت سے افراد سیر و تفریح کے لیے نکلتے ہیں، لیکن غریبوں کے لیے سب سے بڑی تفریح یہ ہوتی ہے کہ اسے دو وقت اتنا کھانا مل جائے کہ اس کا شکم سیر ہوسکے۔ 

غربت کے ستائے ہوئے ایک فرد کے مطابق سفید پوش افراد کی سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے اور دوسرے انہیں آسودہ حال سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق عام دنوں میں جب وہ بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھتے ہیں تو کسی طرح ان کی بھوک مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن عید کے موقعے پر جب وہ کپڑے لتے کے لیے روتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے، مگر وہ بچوں کی فرمائش پوری نہیں کر پاتے،کیوں کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے۔

عید کی خوشیوں پر دولت کا قبضہ ہو گیا ہے

غریب کی عیدکےبارےمیں بلدیہ عظمی کراچی کے دفتر میں جونیئر کلرک کی حیثیت سے کام کرنے والے ریحان انصاری کا کہنا تھا کہ امیر جلد از جلدعید آنے کی دعا کرتا ہے، لیکن غریب آدمی یہ چاہتا ہے کہ عید طویل وقفے کے بعد آئے یا اُس وقت آئے، جب اُس کے ہاتھ میں چارپیسے ہوں۔ اُن کے بہ قول جوں جوں عید قریب آتی ہے، غریب آدمی کی پریشانی اُسی قدر بڑھتی جاتی ہے۔ 

یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے عید کی خوشیوں پر دولت کا قبضہ ہو گیا ہے اور اس تہوار کی خوشیاں دولت مندوں کے لیے مخصوص ہو گئی ہیں۔ ریحان انصاری کے بہ قول، موجودہ زمانے میں عید کو نمود و نمایش کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اُس روز ہمارے معاشرے کی طبقاتی تفریق نمایاں ہو جاتی ہے اور غریب اور امیر کے درمیان واضح فرق دیکھ کریوں لگتا ہے، جیسے امیر افرادغریبوں کا مذاق اُڑا رہے ہوں۔

غربت اور امارت اپنی جگہ، اصل بات معاشرتی رویّوں کی ہوتی ہے۔ اگر معاشرتی رویّے مناسب ہوں، تو غربت گالی نہیں بنتی اور امارت زندہ رہنے کا لائسنس قرارنہیں پاتی۔ اگر عیدالفطر مال و دولت کی نمایش کے بجائے خوشیاں بانٹنے کے تہوار کے طور پر منائی جائے، تو اُس روز پاکستان میں ہر چہرے پر مسّرت کے رنگ ہوں۔