وطن عزیز میںبیرونی جاسوسوں کے ذریعے برسوں بلکہ عشروں سے جاری غیرملکی مداخلت کا معاملہ عالمی برادری کے سامنے لیجانے پر پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کی ہم آہنگی کی روشنی میں توقع کی جانی چاہئے کہ جلدہی یہ معاملہ ٹھوس ثبوتوں کیساتھ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائیگا اور دوسرے بین الاقوامی فورموں پر بھی فعال سفارتی سرگرمیاں نظر آئیں گی۔ صوبہ بلوچستان میں پچھلے دنوں بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالائسز ونگ (را) کے آپریٹر کے طور پر کام کرنیوالے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کل بھوشن یا دیو کی گرفتاری اور اعترافات کے بعد بدھ کے روز چمن کے علاقے شہدان سے افغانستان کے جاسوسی ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی (این ڈی ایس ۔ جو’’ خاد‘‘ کے نام سے عام طور پر جانی جاتی ہے) کے اہم حاضر سروس افسر کی گرفتاری سے ’’را‘‘ اور ’’خاد‘‘ کا جو گٹھ جوڑ سامنے آیا ہے اس کے پیش نظراور بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ دنیا کو پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی پشت پناہی کرنے والوں کے چہرے دکھائے جائیں اور یہ بتایا جائے کہ جو قوتیں پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوںمیں ملوث ہیں انکی اپنی سرحدوں میں رونما ہونے والے بعض واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کی حادثات تخلیق کرنے کی صلاحیت اور پاکستان کو بدنام کرنے کی خواہش کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ بدھ 7؍ اپریل 2016ء کو پی ایم ہائوس اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا جو اجلاس منعقد ہوا، اس میں سیکورٹی امور کے وسیع جائزے کے دوران جہاں دیگر امور زیر غور آئے وہاں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ غیرملکی ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا خاتمہ کیا جائیگا۔ اس معاملے کا یہ پہلو اہم ہے کہ بھارت اگرچہ قیام پاکستان کے وقت سے اسکا وجود مٹانے کیلئے سرگرداں رہا ہے اور بھارت کی موجودہ حکومت فخریہ طور پر مشرقی پاکستان کی علیحدگی میںنئ دہلی کے کردار کے اعتراف کے علاوہ موجودہ پاکستان کے چار ٹکڑے کرنے کے مذموم ارادوں کا اظہار بھی کرچکی ہے مگر پاکستان کی طرف سے اس کے منفی کردار کے بارے میں عالمی برادری کو موثر طور پر آگاہ کرنے کی کوششوں کا بڑی حد تک فقدان نظر آیا۔ چند برس قبل سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے سامنے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا معاملہ رکھا گیا تھا۔ ماضی قریب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور خود بھارتی حکومت کے سامنے ایسے شواہد پیش کئے گئے جن کا مقصدپاکستان کے دو صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں افغان سرحد کی طرف سے اور پنجاب اور سندھ میں بھارتی سرحد سے دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے ذریعے مداخلت روکنے کی ضرورت سے آگاہ کرنا تھا۔ لیکن ان پرقابل ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، دوسری طرف بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان پر ، جو خود ان ممالک سے آنے والے مداخلت کاروں کی سرگرمیوں کا نشانہ ہے، دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا۔ اب جبکہ پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے پہلے بھارت کے اہم حاضر سروس افسر کو اور پھر افغانستان کے ایک حاضر سروس افسر کو گرفتار کرکے ’’را‘‘ اور ’’خاد‘‘ کا گٹھ جوڑ بے نقاب کرچکے ہیں تو ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری کے سامنے ٹھوس معلومات ایسے بھرپور شواہد کے ساتھ پیش کی جائیں جنہیں چیلنج کرنا ممکن نہ ہو۔ یہ معاملہ پوری قوم کی سلامتی کے مفاد سے وابستہ ہے اسلئے اس باب میں کوئی نرم گوشہ چھوڑنے کی گنجائش نہیں۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں پاکستانی سفارت کاروں کو زیادہ فعال کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ متحرک سفارت کاری کے ذریعے ہی عالمی برادری کو سچ اور جھوٹ کے فرق سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی کابل حکومت کو بااثر رابطوں کے ذریعے اس بات پرقائل کیا جانا چاہئے کہ پاکستان اور افغانستان کا مفاد ایک دوسرے کی سلامتی کا احترام کرنے اور ساتھ مل کر چلنے میں ہی ہے۔