گوگے پہلوان سے میرا پہلا تعارف لاہور میں ہوا تھا، بڑے دلچسپ آدمی ہیں۔ کھانے پینے کے بے حد شوقین، سری پائے پسندیدہ غذا ہے۔ وہ عام طور پر اسلام آباد کا رخ ان دنوں میں کرتے ہیں جب وفاق میں ن لیگ کی حکومت ہوتی ہے۔ ان کی مہربانی کہ وہ میرے پاس بھی تشریف لاتے ہیں۔ وہ جب بھی میرے ڈیرے پر آئیں تو میرے ملازمین بغیر پوچھے سردائی یعنی گھوٹے کے آٹھ دس گلاس حاضر کر دیتے ہیں، باقی کھانے پینے کا بعد میں پوچھتے ہیں۔ پہلوان صاحب کا ن لیگ سے دلی لگائو ہے۔ اس مرتبہ جب وہ تشریف لائے تو دو چار منٹ بعد پیپلز پارٹی کے کارکن چوہدری کامران بھی آگئے۔ چوہدری کامران پیپلز یوتھ اسلام آباد کے عہدیدار ہیں۔ ان دو سیاسی کارکنوں کے اکٹھا ہونے کے بعد ہمارے بولنے کی گنجائش کہاں تھی۔ بس پھر میں نے سوچا کہ اب خاموشی سے سنا جائے۔ جیالے سے نہ رہا گیا اور وہ بولا ’’.....پہلوان صاحب! ن لیگ ساری عمر ہمیں بدنام کرتی رہی مگر کچھ نہ ملا، اب پاناما لیکس نے تو آپ کے لیڈر کی لوٹ مار کو بے نقاب کر دیا ہے، وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہئے.....‘‘ چوہدری کامران کے اس مطالبے کے بعد گھوٹے کے ساتویں گلاس پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے گوگے پہلوان نے کہا ’’.....آپ نے سنا نہیں کہ وزیراعظم نے خود کو اپنے خاندان سمیت احتساب کیلئے پیش کردیا ہے اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنا کر تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے، ہمارے لیڈر نےیہ بھی کہا ہے کہ مخالفین ہمیں بدنام کررہے ہیں، ان کے پاس ثبوت ہیں تو وہ لے آئیں.....‘‘
چوہدری کامران ’’.....پہلوان صاحب! پہلی بات تو یہ ہے کہ مخالفین نے کوئی الزام نہیں لگایا بلکہ یہ کام تو بین الاقوامی سطح پر ہوا ہے اس میں دنیا کے چوٹی کے صحافیوں نے پورا ایک سال تحقیق کی ہے اور یہ الزام نہیں، حقیقت ہے، یہ دستاویزی ثبوت ہیں، یہ تو آپ کے لیڈر کو چاہئے کہ وہ مغربی میڈیا پر کیس کریں اور وہاں ثابت کریں مگر وہ ثابت کیا کریں گے ان کے بیٹے حسین نواز خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی آف شور کمپنیاں ہیں، اب تو وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ یہ کمپنیاں قائم کرنے کیلئے دولت کہاں سے گئی، کس راستے سے گئی اور آخر آف شور کمپنیاں بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اوراتنا عرصہ قوم کو ان کمپنیوں کے بارے میں کیوں نہ بتایا گیا، دوسری بات یہ ہے کہ ریٹائرڈ جج والا کمیشن عدالتی نہیں ہوتا بلکہ انکوائری کمیشن ہوتا ہے، ویسے اگر آپ لوگوں نے کمیشن بنایا تو کس کو سربراہ بنائیں گے.....‘‘
گوگے پہلوان کا جواب ’’.....آف شور کمپنیاں بنانا قانونی طور پر غلط نہیں ہے۔ جہاں تک بات ہے انکوائری کمیشن کے سربراہ کی تو کوئی بھی ایماندار ریٹائرڈ جج سربراہ بنایا جاسکتا ہے مثلاً ایسے ریٹائرڈ جج جنہیں وسیع عدالتی تجربے کے علاوہ الیکشن کا تجربہ بھی ہو اور اپنے بیٹوں کے معاملات کو سلجھانابھی جانتے ہوں لہٰذا ان کی نگاہ سے کوئی حقیقت نہیں چھپ سکے گی، اس طرح جو سچ ہوگا، وہ سامنے آجائے گا، باقی آپ ہمارے مخالف ہیں، آپ تو الزام لگاتے رہتے ہیں۔ یہ جو عمران خان ہے یہ پتہ نہیں کیوں ایسی باتیں اچھالتا ہے حالانکہ ہم نے اس کیلئے ایک وزیر مقرر کر رکھا ہے جو ہر وقت اس کے نام کی تسبیح کرتا رہتا ہے، ہمارا وزیر اتنا ڈیوٹی فل ہے کہ اس کے خواب اور خیال میں بھی عمران خان ہی رہتا ہے، آپ سے تو ہماری پکی دوستی تھی، آپ اس مرتبہ ہمارے کیوں مخالف ہوگئے ہیں، آپ کو جمہوریت کا کوئی خیال نہیں.....‘‘
چوہدری کامران ’’..... دیکھو پہلوان! تصدیق کی ضرورت نہیں ہے، دنیا کے 112ممالک نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اس سے بڑی تصدیق کیا ہوسکتی ہے کہ آئس لینڈ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا ہے، 2 سو اور بھی پاکستانی ہیں اور اس میں دنیا کے مختلف ممالک کے افراد کا تذکرہ ہے، 2 لاکھ اور چودہ ہزار کمپنیوں اور افراد کا ذکر ہے۔ 1977ء سے 2015ء تک کے معاملات کی تصدیق کی گئی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ لوگ جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ کیوں نہیں کہتے۔ آپ لوگ یہ کیوں کہتے ہیں کہ یہ آف شور کمپنیاں 2006ء میں قائم ہوئیں اور فلیٹس بھی 2006ء میں خریدے گئے حالانکہ جنوری 2005ء میں مسٹر بیکر کی کتاب شائع ہوئی تو اس میں بھی ان تین آف شور کمپنیوں کا تذکرہ تھا۔ اسی طرح فلیٹس کا معاملہ ہے۔ برطانوی اخبارات سے گواہی ملتی ہے کہ 90ء کی دہائی میں بھی یہ فلیٹس شریف خاندان کے پاس تھے بلکہ انڈی پینڈنٹ اور گارڈین نے 2000ء میںا سٹوریاں شائع کیں۔ ایک اسٹوری میں بیگم کلثوم نواز نے اقرار کیا کہ یہ فلیٹس 90ء کی دہائی میں اس لئے خریدے گئے کہ بچے لندن میں زیر تعلیم تھے، حسن نواز نے جو کمپنی 2001ء میں بنائی تھی اس پر بھی انہی فلیٹس کا ایڈریس دیا گیا تھا، 20 اکتوبر 1998ء کے انڈی پینڈنٹ میں بھی ان چار اپارٹمنٹس کا تذکرہ ہے پھر بی بی سی کی ڈاکومنٹری بھی ہے، آپ کے لیڈروں نے میڈیا کے ان اداروں پر مقدمے کیوں نہیں کیے؟ آپ کے ایک لیگی رہنما نے ایک پاکستانی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ 1996ء میں ان اپارٹمنٹس میں قیام کرتے رہے ہیں۔ 2006ء کا دستخط شدہ کاغذ موجود ہے جس میں حسین نواز نے مریم نواز کو بطورر ٹرسٹی شو کیا جبکہ 2011ء میں ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران مریم نواز نے کہا کہ لندن میں ان کی، ان کی والدہ یا بہن بھائیوں کی کوئی جائیداد نہیں ہے، اب ان کے بھائی کہہ رہے ہیں کہ 2006ء سے ہے۔ ہم کس کو سچا مانیں، خیر آپ لوگوں کی پرانی عادت ہے، آپ معاہدہ کر کے مکر جاتے ہیں پھر کہتے ہیں کوئی معاہدہ نہیں، کبھی کہتے ہیں دس سال کا نہیں پانچ سال کا معاہدہ ہے اور پھر سعودی شہزادے مقرن کو وضاحت کرنا پڑتی ہے، آپ بتائیں ہم آپ کی کس بات کو سچ مانیں .....‘‘
گوگے پہلوان نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا ’’.....اسی لئے تو ہمارا موقف ہے کہ کمیشن بننے سے سچ سامنے آجائے گا جیسا کہ ہم نے سانحہ ماڈل ٹائون پر کمیشن بنایا تھا، الیکشن میں دھاندلی پر کمیشن بنایا تھا.....‘‘
چوہدری کامران ’’.....ہاں ایک کمیشن آپ کے لیڈروں نے 1992ء میںبھی بنایا تھا پھر اس کے سربراہ جسٹس افضل کو سینیٹر بنا دیا تھا.....‘‘
پہلوان ’’.....ہاں تو ٹھیک ہے نا، ’’الحمدللہ‘‘ ہمارے لیڈر کسی کا حق نہیں رکھتے، ہمارے لیڈر کے خاندان نے محنت سے پیسہ کمایا ہے، ’’الحمدللہ‘‘ یہ ان کے خون پسینے کی کمائی ہے.....‘‘
چوہدری کامران ’’.....اچھا پہلوان جی! یہ بتائو کہ میاں شریف کے دوسرے بھائیوں کا بھی لوہے کا کاروبار تھا، وہ تو کھربوں نہیں بنا سکے، آپ نے رات ڈاکٹر طاہر القادری کا انٹرویو سنا ہوگا، انہوں نے بتایا کہ انہیں 90ء کی دہائی میں نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم ڈیوڈ لونگی نے بتایا تھا کہ نیوزی لینڈ کی قومی اسٹیل مل میں نوازشریف 49 فیصد کے شیئر ہولڈر ہیں، اچھا یہ بھی بتائو کہ نذیر اینڈ سنز کے سابقہ ملازم کے پاس اتنی دولت کہاں سے آگئی.....‘‘
گوگے پہلوان نے قدر ے نرمی سے کہا ’’.....دیکھو چوہدری صاحب! ہمارے لیڈر سچے ہیں اسی لئے ہمارے پانچ پانچ چھ چھ وزراء سارا دن پریس کانفرنس کرتے ہیں، ’’الحمدللہ‘‘ ہم نے پنجاب اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کروائی ہے، آپ یقین کیجئے کہ ’’الحمدللہ‘‘ ہم قوم کے خدمت گار ہیں، باقی ہم محنت کی کمائی سے جو مرضی بنائیں، کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اب آپ میری ہی مثال لے لیں، میرے لاہور شہر میں بارہ گھر ہیں، اس کے علاوہ تین پلازے ہیں اور ’’الحمدللہ‘‘ میں نے ہر ایک کے اوپر لکھوایا ہوا ہے ’’ہذا من فضل ربی‘‘ .....‘‘
اب جب دونوں بحث کر کے تھک ہار گئے تو پھر بات کا رخ میری طرف موڑ دیا، مجھ سے کہنے لگے کہ’’.....آپ بتائیں.....‘‘ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو ایسے مرحلوں پر ہمیشہ حضرت علیؓ کا قول یاد آتا ہے کہ ’’.....دنیا میں جب بھی جہاں کہیں بھی دولت کے انبار دیکھو تو سمجھ لو کہ کہیں نہ کہیں گڑبڑ ضرور ہوئی ہے.....‘‘ اب آپ دونوں سے میں کیا کہوں کہ آپ دونوں کی پارٹیوں میں ایسے ایسے درباری جمع ہوگئے ہیں کہ ایسے درباری تو اکبر کے دربار میں بھی نہیں تھے ۔ آخر میں آپ کو سرور ارمانؔ کا شعر سناتا ہوں کہ؎
چند اشیائے ضرورت کو ترستے ہوئے لوگ
آخری جنگ کا اعلان تو کرسکتے تھے