پاناما لیکس، دیکھئے بات کہاں تک پہنچے
پاناما لیکس کمیشن شریف خاندان سمیت 250 پاکستانیوں کی تحقیقات کریگا۔ پاناما پیپرز نے عالمی سطح کے بددیانتوں کے اعمالنامے لیک کردیئے ہیں جن پر جو بھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ عدالتیں اپنی چھان بین کے بعد ثابت کردیں گی کہ سچ ہیں یا جھوٹ۔ سنا تو یہ بھی ہے کہ بعض ملکوں میں انکے پریمئر گھروگھری جانا شروع ہوگئے ہیں مگر ہم نےاپنے وزیراعظم کو امام ضامن باندھ رکھا ہے۔ حالات و واقعات سے کامل توقع ہے کہ ان کا ’’بال‘‘ بھی بیکا نہ ہوگا۔ پاناما کمیشن نے تو دنیا بھر کے حکمرانوں کاپاجامہ ڈھیلا کردیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاناما لیکس دراصل وہ لیڈز ہیں جو چور کے گھر تک جاتی ہیں۔ دنیا کو کرپشن سے پاک کرنے کایہ سلسلہ ایجاد کرنے والے ستم ایجاد نہیں انصاف ایجاد ہیں۔ سنا یہ بھی ہے کہ نوازشریف اپنے ناقدین سے برہم ہوتے جارہے ہیں، جب ان کے دامن پر کوئی داغ نہیں تو پھر ان کو کیا فکر کہ؎
بھولی صورتیا ہونٹ لال لال
پان کھائے سیاں ہمار
بلکہ وہ تو ان باقی دو سو افراد کے حشرنشر کے لئے تالیاں بچا کے رکھیں کہ جن کے اسمائے گرامی پاناما پیپرز میں جلی حروف سے رقم ہیں ۔ دراصل ہمارے ہاں کرپشن نہیں کرپشن میں شاعری کی جاتی ہے۔ ایسی مرصع و مقفع مسجع کرپشن تو خود اپنی جگہ ایک مانی جانی اہلیت ہے کہ نہ جانے ہمارے منصف اسکے پیچ کھولیں گے کیسے؟ لیکن عدل پھر عدل ہے جب ارادہ کرلے تو بڑی بڑی مضبوط اور دیدہ زیب قبائوں کے بند بھی کھول لیتاہے۔ یہ مزید سنا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے دونوں بیٹے بھی پاکستان بلا لئے ہیں۔ بعض حکومتی کفگیروں نے تو دیگوں میں بعض افراد کے چاولوں کے نمونے بھی حاصل کرلئے ہیں۔ خدا کی شان ہے کہ ماہرین خوشامداس کام پر کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کے ممدوح اپنے ریورس گیئر چیک کر رہے ہیں۔
من گھڑت بھارتی کہانیاں
بھارت پٹھانکوٹ واقعہ کی حقیقت شائع ہونے پر سیخ پا، من گھڑت قرار دے دیا۔ بھارت لگتا ہے لفظ من گھڑت سے عبارت ہے اس لئے اسے حقیقت بھی تراشیدہ دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کی تفتیشی ٹیم نے ڈرامے کو حقیقت ثابت نہیں کیا۔ اسی لئے یہ سارا ڈرامہ من گھڑت ہے۔ اب اسے من گھڑت نظر نہیں آتا کیونکہ یہ اس کی اپنی ذاتی پروڈکشن ہےاور خود کو وہ را علاجے نیست کے مصداق بھارتی جعلسازوں کوکیوں جعلی نظر آئے۔ بھارت نے جب پٹھانکوٹ کا ڈرامہ رچایا تھا تو اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ پاکستان سے کس قدر تعاون کرتا ہے بس اتنا ہی دنیا کو دکھانا تھا۔یہ کیا دیوانے کاخواب نہیں کہ بھارتی نیتائوں کی ہر قسم اورہر دھڑے نے ہر دور میں پاکستان کو بدنام اور خود کو نیک نام ثابت کرنے کے لئے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال نہیں کئے کہ دیکھتے ہی معلوم ہو جاتا ہےکہ لالہ جی کو کتنی دور کی سوجھی۔ جن کو ناقابل یقین حد تک دور کی سوجھے وہ کسی نہ کسی پہلو سے اندھے ہوتے ہیں۔ یہ بھی بڑےاچنبھے کی بات ہے کہ پاکستان کا مسلسل ایک ہی موقف رہا ہے؎
وہ اپنی خو نہ بدلیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
بھارت کو دن کے اجالے میں بھی اکھنڈ بھارت نظرآتا ہے اور پاکستان کو رات کے اندھیرے میں بھی اکھنڈ پاکستان نظر آتا ہے۔ آج برصغیر پاک و ہند میں جوکروڑوں مسلمان دکھائی دیتے ہیں کیا وہ ہندو اکثریت کی شکست نہیں؟ بھارت شاید تاریخ کا یہ چیپٹر بھول جاتا ہے کہ پاکستان کو توڑ کر بھی وہ پاکستان کا توڑ نہیں کرسکے گا کیونکہ افغانستان کے چھوٹے چھوٹے علاقوں کے سربراہوں نے چند ٹولیوں کی شکل میں ہندوستان کئی بار فتح کیا اور مغلوں نے تو ایک ہزار برس اس پر حکومت کی۔ بھارت کے عزائم ماضی میں پورے ہوئے نہ مستقبل میں پورے ہوں گے۔ پٹھانکوٹ کا واقعہ جس بری طرح بھارت کی ناک کٹوا چکا ہے اس کے بعد اسے اپنی چمڑی کی خیر منانا چاہئے۔
٭٭٭٭٭
دِلاں دِیاں گلاں دِلاں وِچ رہ گیّاں!
پی ٹی آئی کے ترجمان نعیم الحق کہتے ہیں: عمران کی پاک دامنی کے دشمن بھی معترف ہیں۔ دوسری جانب خان صاحب فرماتے ہیں: معصوم شکل بنا کر قوم کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی ترجمان کو خان صاحب کے دشمنوں کا علم نہیں کیونکہ اب تک ان کے دشمنوں نے خان صاحب کی سیاسی غیر سیاسی پاک دامنی کا کسی فورم پر اعتراف نہیں کیا۔آخر عمران خان نے ایسے شخص کو ترجمان کیوں بنایاہے جو دشمنانِ خان پر خان کی تعریف کا الزام لگارہا ہے۔ عمران پاک دامن ہیں مگر صرف دامن دھونے سے نماز نہیں ہوتی اس کے لئے مکمل وضو کرنا پڑتا ہے۔ کرکٹ کی حد تک تو ہم بھی کہیں گے کہ عمران خان پاک دامن خان ہیں باقی معاملات تو پاناما لیکس سے ہی دریافت کئے جاسکتے ہیں۔ یہ بڑی عجیب اورکچھ کچھ شرمناک بات بھی ہے کہ ان پر الزام لگانے کے لئے ماہرین الزام تراشی کو صرف شوکت خانم کینسر ہسپتال ہی دکھائی دیتاہے۔ نعیم الحق کی ترجمانی پر کوئی حرف نہ آتا اگر وہ اتنا ہی کہہ دیتے کہ عمران خان ایک پاکدامن انسان ہیں اور اگر ان کا دامن گیلا بھی پایا جائے تو وہ کہہ سکتے ہیں؎
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
حالانکہ فرشتے وضو نہیں کرتے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ خان صاحب کے دامن میں اتنا پانی کہاں سے آیا کہ اس سے وضو کیا جاسکے اور جنہوں نے وضو کیا ہوگا کیا ان کی نماز قبول ہوئی ہوگی۔ بہرحال ترجمان ان کا، دامن بھی ان کا تو پھر پاکدامن کوئی اور کیوں ہو؟ ہماری یہ خواہش ہے کہ ایک دفعہ عمران خان کو وزارت ِ عظمیٰ ملے ان کے خلاف طاہر القادری دھرنا دیں، دھرنا لامتناہی ہو اور قوم کو یہ علم بھی ہو جائے کہ خان صاحب حکومت چلاتے ہیں یا حکومت ان کو چلاتی ہے۔ وہ تو بعض اوقات پی ٹی آئی کے سمارٹ مین سے بھی چل جاتے ہیں ساری باتیں بھلائی جاسکتی ہیں مگر عمران خانی احتساب کی بات دل سے نکل کر بھی دل ہی میں رہ گئی۔
٭٭٭٭٭
خوشگوارپہیلیاں
O۔ بھارت کی مختلف حکومتوں نے بھارت کے لئے اسلحہ خریداری میں 17 فیصد کمیشن کھایا:’’پاناما لیکس‘‘
اب بھارتی عوام کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے ہاں سیاست میں پاکستان مخالف نعرہ کیوں لگتا ہے۔
O۔ اسلام پورہ لاہور میں مزدور نے 2ہزار روپے کی خاطر 3 ساتھی ذبح کردیئے۔
انسان کس قدر سستے داموں اپنی بربادی خریدتا ہے۔
O۔ شارٹ فال کم ہو نے کے باوجود لوڈشیڈنگ ، شہری کرب میں مبتلا
یہی تو کمال ہنر ہے کہ شارٹ فال کم ہونے پر بھی شہریوں کا کرب کم نہ ہونا کیا خوبصورت حکومتی میچنگ ہے۔
O۔ سرگودھا: چھت تک بھری بس الٹ گئی۔
جب یہ بس اوپر نیچے دونوں طرف سے بس تھی تو الٹ کیوں گئی؟
O۔ سراج الحق: حکمرانوں کو کرپشن فری قطرے پلانے کی ضرورت ہے۔
مگر یہ پھربھی اپاہج ہی رہیں گے!
O۔ واپڈا کے اکائونٹس میں 980 ارب روپے کے غبن کا انکشاف یہ تو صرف اکائونٹس کی حد تک ہے ذرا آگے بھی بڑھئے!