• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کیا پاناما لیکس پر اٹھنے والا طوفان وزیراعظم نوازشریف کے عدالتی کمیشن بنانے کے فیصلے سے تھم جائے گا؟ ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ہماری سیاست بڑی عجیب ہے جو کہ عدالتی فیصلوں کے بعد بھی مسائل کو سلجھانے کی بجائے الجھانے کی طرف ہی جاتی ہے۔ یقیناً عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ بڑا احسن ہے حالانکہ ایسا کرنا وزیراعظم کی کوئی قانونی مجبوری نہیں تھی مگر انہیں سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے ایسا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ ان کے خاندان خصوصاً ان کے بچوں پر لگنے والے الزامات دھوئے جاسکیں۔ جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے کوئی بڑے سے بڑا ایشو بھی ایک ہفتے سے زیادہ زندہ نہیں رہتا اسی طرح پاناما لیکس والا مسئلہ بھی ختم ہو جانا تھا مگر وزیراعظم کے فیصلے سے اب یہ کئی مہینوں تک زندہ رہے گا اور خوب کیچڑ اُچھالی جائے گی جب عدالتی کمیشن کارروائی کریگا۔ بہت سے سینئر وکلاء نے وزیراعظم کے فیصلے کو سراہا ہے مگر اپوزیشن کے کچھ رہنمائوں نے اسے مسترد کر دیا ہے کیونکہ وہ اس مسئلے کا حل ہی نہیں چاہتے اور ان کی کوشش ہے کہ یہ طول پکڑتا رہے تاکہ وہ سیاسی فائدہ حاصل کرسکیں اور وزیراعظم کو نقصان پہنچا سکیں۔ پی پی پی کے کچھ رہنمائوں نے بھی اس کمیشن پر اعتراض کیا ہے مگر انہوں نے اس بات کو نظر انداز کیا ہے کہ جوں جوں یہ مسئلہ آگے بڑھے گا ان کے اپنے چند لیڈرز بشمول بینظیر بھٹو اور رحمن ملک جن کا نام پاناما لیکس میں آف شور کمپنیاں بنانے والوں میں آئے گا پر مزید کیچڑ اچھلے گی۔
اب وہ تمام لوگ جنہوں نے پاناما پیپرز کے مطابق آف شور کمپنیاں بنائی ہیں کا فرض بنتا ہے کہ وہ عدالتی کمیشن کے سامنے سارے حقائق رکھیں اور اپنے آپ کو کلیئر کرائیں۔ اسی طرح جو حضرات الزامات کی بارش کر رہے ہیں ان کو بھی چاہئے کہ وہ کمیشن کے سامنے ان تمام افراد کا کچا چٹھا رکھیں اور ثابت کریں کہ انہوں نے بددیانتی کی اور پیسہ غلط طریقے سے پاکستان سے بیرون ملک لے گئے۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے ان میں سے شاید ہی کسی نے ہوم ورک کیا ہو کہ وہ کمیشن کے سامنے اپنے مخالفین کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کریں۔ حسب معمول ان سب کی زیادہ توجہ بیان بازی پر ہے نہ کہ کوئی ٹھوس ثبوت حاصل کرنے پر۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ نیب پاناما لیکس کی تحقیقات کرے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے ختم کر دینا چاہئے مگر نہ تو وہ اور نہ ہی ان کی جماعت کا کوئی دوسرا رہنما اس پوزیشن یا موڈ میں لگتا ہے کہ وہ مکمل تیاری کر کے کمیشن کے سامنے پیش ہو اور ثابت کرے کہ نواز شریف اور ان کے بچے بشمول مریم، حسین اور حسن نے کوئی غلط کام کیا ہے۔ جہاں تک شور مچانے والی دوسری جماعت یعنی پی پی پی کے کچھ رہنمائوں کا تعلق ہے تو وہ بھی صرف بیانات کی حد تک ہی محدود رہیں گے اور ایسا نہیں لگ رہا کہ وہ بھی کمیشن کے سامنے کوئی بڑا کارنامہ دکھائیں گے۔ رہا سوال امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا تو ان کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بالآخر کمیشن کو زیادہ تر ان دستاویزات پر ہی انحصار کرنا پڑے گا جو کہ پاناما لیکس میں ظاہر کی گئی ہیں۔ جب تک وہ سیاسی جماعتیں اور افراد جو اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ آف شور کمپنیاں بنانے والوں کو پکڑا جائے ان دستاویزات پر مزید تحقیقات کرکے کمیشن کو نئے ثبوت فراہم نہیں کریں گے معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔ اس سارے پراسس کیلئے بہت محنت اور مہارت درکار ہے جس کی ہماری سیاسی جماعتوں میں بڑی کمی ہے کیونکہ یہ تو صرف بڑے بڑے بیانات داغنے پر ہی اکتفا کر تی ہیں اور جب ثبوت پیش کرنے کی بات آتی ہے تو یہ مکمل ناکام پائی جاتی ہیں۔ یہی حال پی ٹی آئی اور پی پی پی کا ہوا تھا جب وہ ایک لمبا عرصہ شور مچانے کے بعد مبینہ انتخابی دھاندلی پر بننے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی کمیشن کے روبرو پیش ہوئی تھیںاور جب کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی تو سوائے شرمندگی کے انہیں کچھ نہ ملا۔ یوں لگ رہا ہے کہ موجودہ عدالتی کمیشن سے بھی انہیں یہی کچھ حاصل ہوگا۔یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ اگر نیب ، ایف آئی اے ،سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) یا کسی اور ادارے کو پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے کا کہا جاتا تو اصل مقاصد شاید حاصل نہ ہوسکیں کیونکہ ان میں سے ہر ادارے کا اختیار محدود ہے۔ مزید یہ کہ ان پر بھی انگلی اٹھائی جاتی کہ یہ تو سب ادارے حکومت کے کنٹرول میں ہیں لہٰذا منصفانہ تحقیقات نہیں ہوسکتیں۔ عدالتی کمیشن اپنی سفارشات حکومت کو دے گا اور اگر ان میں وزیراعظم یا ان کے بچوں یا دوسرے افراد جنہوں نے آف شور کمپنیاں بنائی ہیں کا کوئی جرم ہوا تو پھر یہ معاملہ نیب ،ایف آئی اے یا کسی اور ادارے کو سونپا جائے گا کہ وہ تحقیقات کریں۔ اس کے بعد ہی مقدمات بھی رجسٹر کئے جاسکیں گے۔ عدالتی کمیشن سارے معاملے کو ہر پہلو سے دیکھنے کا مجاز ہوگا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پاناما لیکس میں کچھ ایسا نہیں جس پر ایکشن لیا جائے۔ ایف بی آر صرف پچھلے پانچ سال کے ٹیکس کے معاملات دیکھ سکتا ہے۔ سب لوگوں کو یاد ہے کہ جب کئی سال تک کچھ سیاسی رہنما یہ الزام لگاتے رہے کہ لندن کا سرے محل بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی ملکیت ہے تو دونوں اس کا انکار کرتے رہے پھر بالآخر انہوں نے ہی اسے بیچ دیا جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ دراصل وہی اسکے مالک ہیں۔ پاناما لیکس کے انکشافات سے چند ماہ قبل ہی حسین نواز نے اپنی آف شور کمپنیوں اور لندن میں جائیداد کا ذکر شروع کر دیا تھا اور اس بات کی وضاحت کی تھی کہ اس کیلئے پیسے کہاں سے آئے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ سعودی عرب میںا سٹیل مل بیچ کر انہوں نے برطانیہ میں جائیداد خریدی اور ایک ٹرسٹ بنایا جس کی ٹرسٹی مریم نواز ہیں۔ ایسا نہیں ہوا کہ وہ اس جائیداد اور آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا انکار کرتے رہے۔
وزیراعظم کی اس بات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ ان کے خاندان کا کڑا احتساب (انتقام )1970ء سے لے کر 2007ء تک کم از کم چار بار ہوا ہے۔ سب سے پہلے 1971ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ان کی اتفاق فائونڈری کو تحویل میں لے لیا تھا ۔ اس کے بعد بینظیر بھٹو کی دو حکومتوں نے پوری کوشش کی کہ ان کے خاندان کے کاروبار کو تباہ کیا جائے۔ پھر پرویز مشرف نے بھی اپنا انتقام لیا۔ جب شریف خاندان جلاوطنی میں چلا گیا تو نوازشریف کے بیٹوں کے پاس دو آپشن تھے کہ یا تو وہ بیکار بیٹھے رہیں یا پھر کوئی کاروبار کریں لہٰذا ان میں سے حسن نے لندن میں رئیل اسٹیٹ کا کام شروع کردیا اور خوب پیسہ کمایا۔ حسین نے مکہ مکرمہ میں اپنے دادا کی بنائی ہوئی اسٹیل مل چلا ئی اور پھر اسے بیچ کر لندن میں جائیداد خرید لی۔ جب آٹھ سال تک حسین اور حسن اور خاندان کے دوسرے افراد کو پاکستان میں آنے کی اجازت ہی نہیں تھی تو وہ یہاں کاروبارکیسے کرسکتے تھے لہٰذا انہوں نے لندن اور سعودی عرب میں ہی اپنا بزنس چلایا۔ ان حقائق کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ نوازشریف کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ 25 سال سے دہرائے جانے والے الزامات کو پھر اچھالا جارہا ہے اور وہ الزامات کی اس تازہ لہر کے مقاصد خوب سمجھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی ۔ اگر ان کے کچھ وزراء کے بیانات کو سامنے رکھا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان جو کہ نوازشریف کی سربراہی میں بہت ترقی کر رہا ہے کو ٹارگٹ ایک بین الاقوامی سازش کے تحت کیا گیا ہے تاکہ اس ترقی کو روکا جاسکے۔
تازہ ترین