آپ آف لائن ہیں
جمعرات24؍ذیقعد 1441ھ16؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آئندہ بجٹ میں تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دینے کی منصوبہ بندی

تاجروں کے شدید احتجاج اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے تاجروں کی حمایت کے بعد سندھ کے تمام شہروں کے بعض بازار کھول دیئے گئے تاکہ عوام عید کی خریداری کر سکیں تاہم سندھ کے کسی بھی شہر میں تاجروں اور شہریوں کی اکثریت نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جس پر حکومت سندھ کو بعض مارکیٹیں دوبارہ بند کرنی پڑی تاجروں سمیت ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ چاند رات تک مارکیٹوں کو رات بارہ بجے تک کھولنے کی اجازت دی جائے تاہم حکومت سندھ نے تادم ِ تحریر ان کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا پی ٹی آئی کی مقامی قیادت نے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام مارکیٹوں تک بآسانی پہنچ سکیں دوسری جانب وزیر ریلوے شیخ رشید کی جانب سے کراچی سے ٹرینیں چلانے کے اعلان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ قادر شاہ نے کہا ہے کہ کراچی سے ٹرین نہیں جائے گی شیخ رشید کو عوام کی جان کی کوئی فکر نہیں۔ 

کاروبار کھولے جانے کے بعد سندھ میں کورونا وائرس انتہائی تیزی سے پھیلا ہے۔ جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے عوام کو دی جانے والی صحت عامہ کی سہولتوں پر بھی پی ٹی آئی اور جے ڈی اےنے شدید تنقید کی ہے پی ٹی آئی نے کورونا فنڈ اور راشن کی تقسیم کی تحقیقات نیب سے کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔جبکہ صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے جواباوفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایاپی ٹی آئی سندھ حکومت پر شدید تنقید کر رہی ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ عید کے بعد سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان فیصلہ کن سیاسی معرکہ برپا ہو گا۔ 

ادھر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ کورونا ریلیف آرڈیننس کی منظوری دے دی خلاف ورزی پر 10 لاکھ جرمانہ ہو گا۔ گورنر سندھ کی منظوری کے بعد سندھ کوروناوائرس ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ آرڈیننس کے تحت کوروناوائرس سے متاثرہ طبقات کو سماجی معاشی ریلیف مل سکے گا۔ گورنر سندھ کا اعتراض تھا کہ گیس اور بجلی کا معاملہ وفاقی حکومت کے دائرہ کار حکومت نے گورنر عمران اسماعیل کے اعتراض پر گیس اور بجلی کی رعایت کا معاملہ آرڈیننس سے خارج کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں اپنے ایک ویڈیو بیان میں حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کی منظوری کے بعد سندھ بھر میں وبائی امراض ترمیمی ایکٹ نافذ ہو گیا ہے۔ 

جس پر عمل کرنا شہریوں، دکانداروں، فیکٹری مالکان اور ہر فرد کے لئے لازم ہے۔ جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا۔ اسے 10 لاکھ روپے تک کا بھاری جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کوروناوائرس کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور قانون نافذ کرنے کا مقصد شہریوں میں احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کا شعور پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جسمانی فاصلہ، ماسک کا استعمال، کارخانوں اور مارکیٹوں کے اس پرقانون کا اطلاق ہو گا دوسری جانب ایم کیو ایم نے کورونا ریلیف آرڈیننس کو مسترد کر دیا ہے ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کورونا آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ہمارا ساتھ دے یا نہ دے ایم کیوایم تاجروں کا ساتھ دے گی۔

کراچی کے تاجر تیار ہیں تو ایم کیوایم انکے ساتھ سڑکوں پر آنے کے لئے تیار ہے، کراچی کے تاجروں کو قرضے اور بجلی پر سبسڈی دی جائے، سندھ اور کراچی کے ہسپتال سرکاری فنڈز سے نہیں بلکہ عوام کے چندے سے چلتے ہیں، کمشنر ڈپٹی کمشنر کراچی کو دبئی سمجھ کر پیسہ کمانے آتے ہیں، مئیر کراچی کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ وزیر اعظم کے پاس کراچی کا مقدمہ لیکر جائیں، یہ دلچسپ بات ہے کہ ایم کیو ایم سندھ حکومت پر کراچی کے حوالے سے ترقیاتی کام نہ کرنے پر شدید تنقید کرتی ہے تاہم وہ اپنے اتحادی حکمراں جماعت پی ٹی آئی پر اس ضمن میں تنقید نہیں کرتی ایم کیو ایم نے کراچی کو نظر انداز کرنے اور کراچی کو فنڈز فراہم نہ کرنے پر وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ 

تاہم چند روز کی علیحدگی کےبعد وہ اُسی تنخواہ پر وفاقی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر رضا مند ہو گئی ایم کیو ایم بارہا وفاقی حکومت سے مطالبہ کر چکی ہے کہ کراچی کو براہ راست ترقیاتی فنڈز فراہم کئے جائیں وفاقی کابینہ میں ان کی نمائندگی بڑھائی جائے۔ ایم کیو ایم کو دفاتر کھولنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم وفاقی حکومت نے ان کے کسی ایک مطالبے پر بھی عمل نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کی عوام میں ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ دفاتر نہ کھولے جانے کے سبب ایم کیو ایم کے رہنمائوں کا عوام سے گلی محلے کی سطح پر رابطہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ 

ادھر سندھ میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اس آپریشن کے دوران گھوٹکی سے ایک لاکھ 8ہزار بوری ذخیرہ گندم برآمد ہوئی ہے اس ذخیرہ اندوزی میں محکمہ کا ملازم بھی شامل ہے یہ گندم مختلف فلور ملز سے برآمد کی گئی ہے گھوٹکی کے علاوہ سکھر، پڈعیدن، محراب پور، نوشہرو فیروز میں بھی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں بوری گندم برآمد کی گئی ہے جبکہ نیب گندم کی خریدار اور چوری کے ضمن میں بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے جے یو آئی کے فعال رہنما مولانا گل رفیقحسن زئی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا وہ اس حملے میں شدید زخمی ہو گئے اور بمشکل ڈاکٹروں نے ان کی جان بجائی ہے جے یو آئی کے رہنما ارشد محمود سومرو اور قاری محمد عثمان نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ ،جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفے کمال جے یو آئی کے رہنما قاری محمد عثمان، نے سندھ حکومت مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

مصنفے کمال نے کہاکہ حکومتی نااہلی کے سبب فرقہ واریت کو ہوا مل رہی ہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما وپارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ سندھ حکومت نے جان بوجھ کر مساجد کو بند کروایاہے،اس وقت مساجد بند ہونے کے ساتھ امام بارگاہوں تک کو بند رکھا جارہاہے،رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے کہا کہ علماء کرام جمعۃ الوداع کے اجتماعات اور تروایح اور نماز عیدایس او پیز کے تحت ادا کریں گے، ادھر آئندہ ماہ وفاقی بجٹ کے ساتھ ساتھ صوبائی بجٹ بھی نہیں ہو گا اس ضمن میںوزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2020-21کا بجٹ کوروناوائرس سے متاثرہ ہوگا لہٰذا ایک نئی حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس کے تحت صحت کی خدمات، روزگار کے مواقع، معاشرتی تحفظ اور تعلیم کے شعبے کو فروغ دینے کو ترجیح دی جائے گی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید