آپ آف لائن ہیں
جمعرات24؍ذیقعد 1441ھ16؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

زندگی بعداز کورونا: انحصار معیشت اور صرف معیشت پر ہوگا

پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اموات میں بھی۔ کئی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کورونا کی لپیٹ میں آچکے ہیں اور کئی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے لاک ڈائون 30دن سخت کرنے کا کہا تھا مگر حکومت تاجروں کے دبائو میں آگئی اور لاک ڈائون میں نرمی کردی اور دکانیں کھولنے اور کئی فیکٹریوں کو کام کی اجازت دیدی۔ اگرچہ وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب اور کے پی کے کی حکومت نے دکانیں کھولنے کی اجازت دی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کریں۔

اب تو سپریم کورٹ نے بھی مشروط تمام مارکیٹس اور شاپنگ مالز کو پورا ہفتہ کاروباری سرمیاں جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔ مگر دیکھنے میں آیا کہ نہ دکاندار اور نہ ہی گاہک دیگر حفاظتی اقدامات تو دور کی بات ماسک تک نہیں پہنتے اور دکانوں پر بھیڑ نظر آئی۔ اگرچہ حکومت نے کئی مارکیٹیں سیل کی ہیں مگر تاجر تنظیموں نے وعدوں کے باوجود حکومت کے ایس او پیز (S.O.P) پر عمل نہیں کرایا اور اب وفاقی حکومت نے ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت دیدی ہے اور ٹرانسپورٹروں کو بھی وہی ہدایات دی ہیں جو دکانداروں کو دی تھیں مگر ٹرانسپورٹر یا مسافر بالکل ان ہدایات پر عمل نہیں کریں گے اور پاکستان میں بھی کورونا خطرناک حد تک پھیل جائے گا اور بے شمار لوگ لقمہ اجل بن جائیں گے۔

ابھی پھر بھی پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہے اور امریکہ برطانیہ اٹلی سپین فرانس چین ایران کی نسبت اموات کی شرح کم ہے۔ ابھی 9 سو لوگ کورونا کے باعث اللہ کو پیارے ہوئے ہیں اور مریضوں کی تعداد 40ہزار سے زائد ہے طبی ماہرین کے اندازے کے مطابق پاکستان میں مریضوں کی تعداد 50ہزار سے 70ہزار تک جا سکتی ہے اور اموات بھی سینکڑوں سے تجاوز کرسکتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق پاکسان میں کورونا وائرس امریکہ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک والا نہیں ہے وہاں تو دھڑا دھڑا لوگ مر رہے ہیں اور انہیں بچانے کی کوئی ٹھوس دوا تیارنہیں ہو سکی۔ 

ان ممالک کے اولڈ ہائوسز میں مقیم70 سال یا اس سے زائد عمروں کے لوگ بڑی تعداد میں لقمہ اجل بن گئے ہیں اور حکومتیں بے بس دکھائی دے رہی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان میں اس مرض میں لوگوں کے صحت یاب ہونے کی شرح بہت اچھی ہے کیونکہ ہم ہائی پوٹینسی کی دوائیں کھانے کے عادی ہیں اور ہمارے ڈاکٹر بھی بہت اچھے ہیں یورپ میں فوری طور پر نزلہ زکام یا بخار کی دوائیں نہیں دیتے وہ کم از کم ایک ہفتے تک مریض کو انتظار کراتے ہیں جبکہ پاکستان میں فوراً اینٹی بائیو ٹک دوائیں دے کر مریض کو دو تین دن میں ٹھیک کر دیا جاتا ہے۔

 اپوزیشن کی درخواست پر پارلیمنٹ کے الگ الگ اجلاس طلب کئے گئے قوم کو توقع تھی کہ حکومت اور اپوزیشن سر جوڑ کر بیٹھیں گی اور کورونا وائرس اورمعیشت پر اسکے تباہ کن اثرات پر قابو پانے کے لئے کوئی ٹھوس موثرا ور دیرپا پالیسی بنانے میں کامیاب ہو جا ئیں گی ۔کیونکہ کرونا کے بعد اصل امتحان معیشت اور صرف معیشت کی بحالی پر ہی ہوگا۔ مگر افسوس ان اجلاسوں پر قوم کے کروڑوں روپے خرچ ہو گئے حزب اقتدار اور حزب اختلاف والے روایتی الزام تراشیوں تک محدود رہے اور ایک دوسرے کے خلاف تقریریں کر کے چلے گئے۔ 

وہی تقریریں کی گئیں جو روزانہ میڈیا کی زینت بنتی ہیں اور جنہیں سن سن کر قوم تنگ آگئی ہے بالخصوص وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان سیاسی کشمکش جاری ہے وفاقی حکومت کے چند وزیر سندھ کے وزیر اعلیٰ کے اقدامات کوتنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور سندھ کے وزیر اعلیٰ اور چند وزیر وفاقی حکومت کے اقدامات اور طرز عمل کو غلط قرار دے رہے ہیں، لاک ڈائون اور ٹرانسپورٹ کھولنے پر بھی شدید اختلافات ہیں ٹرانسپورٹ کھولنے پر پنجاب اور کے پی کے حکومت والے وفاقی حکومت کے ہمنوا ہیں مگر سندھ اور بلوچستان ٹرانسپورٹ کھولنے کے مخالف ہیں۔ 

عوام اس صورت حال سے سخت پریشان ہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی بہت کم ارکان نے شرکت کی اور وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اختلاف کرکے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی کورونا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اجلاس میں نہیں آسکے ،تاہم اس کی طبیعت بہتر ہے۔ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کی اجلاس میں عدم شرکت کو نشانہ بنایا جبکہ بعض وفاقی وزرا نے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی اجلاس میں عدم شرکت پر کڑی تنقید کی جبکہ وفاقی وزیر شہری ہوا بازی غلام سرور خان کی نیب میں طلبی کا بھی ذکر آیا مگر غلام سرور خان نے یہ جرات مندانہ اعلان کیا کہ کئی مرتبہ ممبر قومی اسمبلی اوروزیر رہے وہ اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں اور ہم سب کا احتساب ہونا چاہیئے اور یہ احتساب1970 سے ہونا چاہئے اورتمام حکومتی ادوار کا احتساب ہو تاکہ قوم کو پتے چلے کہ کس نے کیا کمائی کی کس کا کتنا کاروبار تھا اور اب کتنا ہے اور کسی نے کتنی کرپشن کرکے مال بنایا۔ 

بقول وفاقی وزیر شیخ رشید احمد عید کے بعد نیب جھاڑو پھیرنے والا ہے کئی حکومتی اور دوسرے لوگ شکنجے میں آجائیں گے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں دو لاکھ سے زائد لوگ کورونا وائرس کا شکار ہو جائیں گے کورونا وائرس مزید کئی ماہ تک رہے گا اور معیشت پر اس کے اثرات کئی سال تک رہیں گے پاکستان جو پہلے ہی معاشی بحران کا شکار تھا اور وزیراعظم عمران خان معیشت کو درست کرنے کے لئے دن رات محنت کررہے ہیں اگرچہ وزیراعظم عمران اور ان کی معاشی ٹیم کی کوششوں نے قرضوں کی واپسی میں ریلیف لیا ہے مگر حکومت کی کوشش ہے کہ قرضوں میں چھوٹ حاصل کی جائے کیونکہ کورونا کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ٹڈی دل کے انتہائی مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا اور تیسرا نقصان متحدہ عرب امارات سعودی عرب اور یورپی ممالک سے پاکستانیوں کی واپسی سے ہے پاکستانیوں کی واپسی سے نہ صرف کثیر نقدزرمبادلہ کی کمی ہو گی بلکہ بیروزگاری میں زبردست اضافہ ہو گا بیرونی ممالک سے پاکستانی جو پیسہ بھیجتے تھے۔ 

اسی پر ہمارے بجٹ کا بنیادی انحصار تھا فیکٹریاں بند ہونے سے بھی پاکستان میں کئی لاکھ مزدور بیروزگار ہو گئے ہیں اس ساری صورت حال کو تنہا وفاقی حکومت نہیں سنبھال سکے گی اسے صوبوں کو اعتماد میں لینا ہو گا بالخصوص سندھ حکومت کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ وزیراعظم عمران صاحب کو چاہیئے کہ وہ اپنا سارا بوجھ تقسیم کریں اور ایک کل جماعتی کانفرنس بلائیں اور ساری سیاسی قیادت کو آئندہ آنے والے حالات سے باخبر کریں اور اعتماد میں لیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید