لاہور(خبرنگارخصوصی)ہائیکورٹ نے ناجائز اثاثہ کیس میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی فیملی کے 6 افراد کے خلاف کارروائی کے لئے دائر متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئےجواب طلب کر لیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے یہ متفرق درخواست پہلے سے دائر ایک درخواست میں دی جس میں نواز شریف،شہباز شریف،عمران خان سمیت 64 سیا ستدا نو ں اور بیورو کریٹس کے بیرون ممالک اثاثے اور رقوم پاکستان واپس لانے کی استدعا کر رکھی ہے ۔پاناما لیکس کے انکشافات سامنے آنے کے بعد وکیل نے شریف فیملی کے خلاف متفرق درخواست دائر کر دی کہ پاناما رپورٹ ان کے موقف کی تائید کرتی ہے۔ رپورٹ سے ثابت ہو گیا کے وزیر اعظم، ان کی اہلیہ کلثوم نواز، بیٹوں حسن اور حسین نواز کے علاوہ ان کی بیٹی مریم نواز نے اپنے اثاثے چھپائے،غیر قانونی طور پر رقم بیرون ملک منتقل کی اور قوم سے غلط بیانی کی ۔ وزیر اعظم نے ذاتی حیثیت میں یہ اقدام کیا لہذا عدالت انہیں نااہل قرار دے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پانامہ لیکس کے معاملے کی نیب کو شفاف تحقیقات کرنے کا پابند بنایا جائے جبکہ میاں نواز شریف کے علاوہ بیگم کلثوم نواز،حسین نواز،حسن نواز اور مریم نواز کو انتخابات کے لئے نااہل قرار دیا جائے،جس پر عدالت نے درخواست میں بنائے گئے فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے 18 اپریل کو وضاحت طلب کرلی۔ دریں اثناء پاناما لیکس کے ذریعے منظر عام پر آنے والے پاکستا نی سیاست دانوں کی کسی ریٹائر جج کی بجائے نیب سے تحقیقات کرانے کے لئے درخواست کولاہور ہائی کورٹ نے قابل سماعت قرار دیتے ہوئے درخوا ست سماعت کے لئے عدالت کے روبرو پیش کرنے کی ہدا ئت کر دی ۔عدالت نے درخواست پر ہائیکورٹ آفس کاا عتر ا ض ختم کردیا جس میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا گیاکیا تھا۔ ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے مقامی شہری اختر حسین کی درخواست پر سماعت کی ۔عدالت نے ہائی کورٹ آفس کو ہدائت کی کہ درخواست سماعت کیلئے متعلقہ بنچ کے روبرو پیش کی جائے، درخواست میں کہا گیا کہ پاناما لیکس کے مطابق وزیر اعظم اور ان خاندان کے افراد غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔ کسی ریٹائرڈ جج سے اس معاملہ کی تحقیقات کا کوئی فائدہ نہیں لہذا ریٹائرڈ جج کی بجائے نیب سے معاملے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا جائے۔