• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو سال میں بجلی موجود ،تقسیم مسئلہ اورگرڈ اسٹیشن اوور لوڈ ہوچکے ،چیئرمین نیپرا

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)سینٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اگلے دو سال میں بجلی تو موجود ہوگی مگر بجلی کی سپلائی میں مسئلہ ہوگا۔ملک میں قائم گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسفارمرز 60 فیصد اوور لو ڈ ہوچکے ہیں، یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ تھری جی ، فو ر جی کی نیلامی  میںسپین کی ایک کمپنی نے 18 سو ملین ڈالر کی آفر کی تھی مگر نیلامی 11 سو ملین ڈالر میں کی گئی ۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین طلحہ محمود کی صدارت میں ہوا ۔جس میں ادارہ برائے تفویض فریکونسی بورڈ ، پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان ، نیپرا ،اوگرا، پی ٹی اے ، اور پبلک ریکروٹمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے مالی سال 2015-16 کے بجٹ اور اس کے استعمال کے معاملات کا جائزہ لیا گیا ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر  ادارہ برائے تفویض فریکونسی بورڈ نے کہا کہ ادارے کو پی ٹی اے سے بجٹ ملتا ہے ۔ 504 ملین بجٹ تھا جس میں 286 ملین فروری تک خرچ کیے جا چکے ۔ ادارہ اسلام آبا د ، گلگت بلتستان اور خیرا گلی میں مانیٹرنگ اسٹیشن کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے ۔ کلثوم پروین نے کہا کہ تھری جی اور فور جی سہولت کی بدولت ملک و قوم کو تو بہت فائدہ ہوا مگر ادارے کے ملازمین کو کیا سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ نیلامی کے وقت بونس دیا گیا تھا، کامل علی آغا کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ وکلاء کی تقرری کے لئے وزارت قانون سے رائے حاصل کی جاتی ہے اشتہار نہیں دیئے جاتے ۔ کمیٹی نے ادارے کے کیسز کی تفصیلات طلب کر لیں ۔ کلثوم پروین نے کہاکہ بلوچستان کے بہت سے علاقوں موبائل فون کی سہولیات موجود نہیں ۔ طلحہ محمود نے کہاکہ اسلام آباد کے پہاڑوں کی دوسری طرف جائیں تو موبائل سگنل نہیں ملتے، ایم ڈی پرنٹنگ کارپویشن پاکستان نے کہا کہ ہمار ا بجٹ حکومت والا نہیں، جو آمدن آتی ہے اسی سے اخراجات پور ے کیے جاتے ہیں حکومت اور حکومتی اداروں کی تمام پرنٹنگ یہی سے ہوتی ہے ۔ادارے میں 33 سالہ پرانی مشینیں تھیں دس مشینیں نئی خرید لی گئی ہیں ،15 اور خریدی جائیں گی، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ موثر حکمت عملی کے ذریعے اچھی مشینیں حاصل کر کے الیکشن کے دنوں میں ملک کے اربوں کھربوں روپے بچا سکتا ہے ۔ نیپرا کے چیئرمین نے کمیٹی کو ادارے کے بجٹ اور اخراجات بارے بتایاکہ ادارہ لائسنس کی مد سے آمدن حاصل کرتا ہے ۔ہمارے 243 لائسنس ہیں ۔ ملک کے گرڈ اور ٹرانسفارمرز 60 فیصد اوور لوڈ ہیں اگلے دو سال میں بجلی تو ہوگی مگر تقسیم کو مسئلہ ہوگا۔تمام ڈیسکوز کو سسٹم بہتر کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے ۔انہوں نےکہا کہ 1109 ملین روپے بجٹ تھا جس میں سے 653 ملین روپے فروری تک خرچ ہو چکا ہے ۔ چیئرمین پی ٹی اے نے نے کہا کہ انڈسٹری پر 5 فیصد ڈیوٹی چارج کی جاتی ہے ۔  طلحہ محمو د نے چیئرمین پی ٹی اے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کمیٹی کی طرف سے تعریفی خط بھی لکھنے کا فیصلہ بھی کیا ۔ ایم ڈی پبلک ریکروٹمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے بتایا کہ ادارہ 2002 میں قائم ہوا ادارے کا کام رولز بنانا ہے ادارے کے ملازمین کی تعداد 50 ہے اور مالی سال 2015-16 کا مجموعی بجٹ 90 ملین روپے ہے ۔
تازہ ترین