کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں میزبان شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں جماعت الدعوۃ اپنی عدالت چلارہی ہے، اس عدالت میں فیصلے ہورہے ہیں اور لوگوں کو نوٹسز جاری کئے جارہے ہیں، جماعت الدعوۃ نے صوبائی دارالحکومت میں دارالقضاء شریعت قائم کر رکھا ہے، جماعت الدعوۃ وزارت داخلہ کی واچ لسٹ پر ہے لیکن لگتا ہے کوئی اس کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ضمنی انتخابات جیت تو گئی لیکن سوال اٹھ رہا ہے کہ ووٹر گھروں سے کیوں نہیں نکلے۔ جماعت الدعوۃ کی عدالت سے متاثرہ شخص خالد سعید نے بتایا کہ میرے ساتھ کام کرنے والے محمد اعظم نامی شخص نے 2010ء میں ان کی مدد سے مجھے بلایا اور مجھ سے چیک لیے، میں نے انہیں تمام رقم ادا کردی تھی لیکن انہوں نے 19جنوری 2016ء کو مجھے دوبارہ ایک نوٹس بھیجا ہے، اس نوٹس میں باقاعدہ وفاقی شرعی عدالت لکھا ہوا ہے، حافظ ادریس نامی شخص نے مجھے فون کر کے 25جنوری 2016ء کو پیش ہونے کا کہا دوسری صورت میں مجھے میرے آفس سے پکڑ کر لانے کی دھمکی دی۔ خالد سعید نے مزید بتایا کہ میں ان دھمکیوں کی وجہ سے پچھلے تین مہینے سے اپنے دفتر نہیں گیا ہوں اور بہت پریشان ہوں، میں نے چیف جسٹس،آرمی چیف اور وزیراعظم سمیت ہر جگہ درخواستیں بھیجی ہیں، سپریم کورٹ کی طرف سے میری درخواست سمن آباد تھانے میں آئی لیکن میں نے جب بھی تھانے جانے کی کوشش کی تو وہاں باہر مولانا صاحبان کے ڈالے موجود ہوتے تھے۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جماعت الدعوۃ کی عدالت کی خبر دیکھنے کے بعد متاثرہ شخص سے رابطہ کررہے ہیں، ڈی آئی جی آپریشنز کو لاہور میں غیرقانونی عدالت بنانے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے، اگر خبر درست ثابت ہوئی تو ذمہ داران کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ زبردستی کسی کو پنچایت میں آنے یا فیصلہ تسلیم کرنے پر مجبور کرے، ہمیں اس سے قبل کوئی ایسی شکایت نہیں ملی تھی، آئندہ چوبیس گھنٹوں میں معاملہ حل کرلیں گے، کسی کو بھی غیرقانونی عدالتیں لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ شاہز یب خانزادہ نے اپنے تجزیئے میں مزید کہا کہ این اے 245کے ضمنی معرکہ میں پی ٹی آئی الیکشن ہی نہیں اپنا امیدوار بھی ہار گئی، 2013ء کے الیکشن میں کراچی کی دوسری بڑی قوت بن کر سامنے آنے والی تحریک انصاف صرف تین سال میں کراچی میں بے اثر ہورہی ہے، عمران خان کی تحریک انصاف کراچی میں پے در پے غلطیاں کررہی ہے، پی ٹی آئی غلطیاں تسلیم بھی کررہی ہے لیکن پھر غلطیاں کررہی ہے، این اے 245 میں پی ٹی آئی کے ساتھ جو ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، پی ٹی آئی کے امیدوار امجد اللہ خان کی پولنگ سے صرف چھ گھنٹے قبل متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت سے تحریک انصاف کو بہت بڑا سیاسی نقصان پہنچا ہے۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ امجد اللہ خان نے متحدہ میں شمولیت کے بعد پی ٹی آئی کراچی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ بھی بتادیا کہ تحریک انصاف کراچی کی قیادت کتنی منتشر ہے، متحدہ قومی موومنٹ کو سیاسی اور تنظیمی دھچکا پہنچانے والی تحریک انصاف صرف تین سال میں اس حال میں پہنچ گئی ہے کہ نہ صرف اس کا قومی اسمبلی کا امیدوار پارٹی سے ناراض ہوا بلکہ ایم کیو ایم میں شامل ہوگیا، پی ٹی آئی میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے تحریک انصاف کی کراچی قیادت کے ساتھ مرکزی قیادت پر بھی سوال اٹھ رہا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ کراچی کے علاقے لائنز ایریا کے ضمنی الیکشن میں کم ترین ٹرن آؤٹ رہا، اس انتخابی حلقہ میں ایک لاکھ 62 ہزار 614رجسٹرڈ ووٹوں میں سے صرف 14 ہزار ووٹ ڈالے گئے، کراچی کے کسی حلقہ میں اتنا کم ٹرن آئوٹ شاید ہی کبھی سامنے آیا ہوگا، متحدہ قومی موومنٹ جیت تو گئی لیکن سوال اٹھ رہا ہے کہ ووٹر گھروں سے کیوں نہیں نکلے ۔پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے تجزیہ میں شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کسی سمت نہیں جارہے ہیں، پاکستان میں را کے ایجنٹ کی گرفتاری اور بھارت کی غیرسنجیدگی معاملہ کو گمبھیر بنارہی ہے، آج بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی گفتگو سے پتا چلتا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان سے مذاکرات میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آ رہی ہے۔ پاناما لیکس کے حوالے سے پیشرفت پر تجزیہ کرتے ہوئے شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ پانامہ لیکس کا معاملہ کمیشن کے ذریعہ حل کرنے کی حکومتی کوشش اپوزیشن نے مسترد کردی ہے جبکہ عمران خان نے پھر سے سڑکوں پر آنے کا اشارہ بھی دیدیا ہے، حکومت ایک مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش میں نئی پریشانی میں پھنس گئی ہے، جمعرات کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے پاناما لیکس پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ، عمران خان نے اپنے اوپرتنقید کے جواب میں خود کو کمیشن کے سامنے تحقیقات کیلئے پیش کرنے کی بھی پیشکش کی۔قومی اسمبلی میں پاناما لیکس جیسے اہم موضوع پر بحث ہوتی رہی لیکن سرکاری ٹی وی حکومتی ٹی وی بنا رہا۔ تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی امیدوار امجد اللہ کی متحدہ میں شمولیت سے پارٹی کو دھچکا لگا ہے، تحریک انصاف این اے 245میں صحیح امیدوار کا چناؤ نہیں کرسکی،امجد اللہ کے بارے میں ہمارا اندازہ غلط نکلا، پی ٹی آئی کراچی میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہے، پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن میں جارہی ہے اور پارٹی کا کوئی بڑا رہنما کراچی میں نہیں ہے، پی ٹی آئی کراچی کا اس وقت کوئی صدر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امجد اللہ خان کی متحدہ میں شمولیت پر الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا چاہئے، متحدہ کا امیدوار ہمارے پاس آتا تو پہلے اسے الیکشن لڑنے کا مشورہ دیتے، پی ٹی آئی کراچی میں 2013ء میں بہتر پوزیشن میں تھی،انٹراپارٹی الیکشن کے بعد پی ٹی آئی پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر ابھرے گی، کل احساس ہوا فاروق ستار پر جمعرات کتنی بھاری گزرتی ہوگی۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا کہ پاناما لیکس پر حکومتی کمیشن اور اس کے ٹرمز آف ریفرنس سامنے آنے دیئے جائیں، اس کے بعد بھی اگر کوئی مطالبہ کرتا ہے تو اس پر بھی غور کیا جاسکتا ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالتی کمیشن پر کوئی تامل نہیں ہے، عمران خان کے کہنے پر پہلے بھی جوڈیشل کمیشن بنایا لیکن انہوں نے اس کا فیصلہ قبول نہیں کیا تھا، عمران خان اپنی مرضی کا کمیشن بنوا کر اس سے اپنی مرضی کا فیصلہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اسمبلی میں غلط بیانی کی ہے، عمران خان نے ہمارے اعتراضا ت کے جوابات نہیں دیئے، کمیشن کو کام کرنے کا موقع دیں ،ساری چیزیں ثابت ہوجائیں گی، تمام معاملات کمیشن میں ثابت کریں گے، کمیشن فرانزک آڈٹ بھی کرواسکے گا، عمران خان کے پاس ثبوت ہے تو کمیشن کے سامنے پیش کرے اور ہمیں کٹہرے میں لائیں لیکن ان کے پاس ثبوت نہیں ہے، عمران خان آف شور کمپنیوں کے حمایت تھے اب مخالفت کرتے ہیں، نواز شریف کا تعلق ایک صاحب ثروت گھرانے سے تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ شریف فیملی کا سعودی بزنس وہاں کے بینکوں سے قرض لے کر کیا گیا، حسن نواز نے دو کمپنیاں خریدیں جس کے ساتھ ہی پراپرٹی ان کے پاس آئیں، 48گھنٹے کے بعد وہ کمپنیاں ختم ہوگئیں اور پراپرٹیز اس کے نام پر ٹرانسفر ہوگئیں، جن لوگوں نے اپنی دولت چھپانی ہوتی ہے وہ اٹارنیز کے نام پر آف شور کمپنیاں بناتے ہیں، نواز شریف کے ٹیکس ریٹرن ہر سال الیکشن کمیشن میں پیش کیے جاتے ہیں،وزیراعظم نواز شریف ملکی ترقی کیلئے پہلے کی طرح کام کررہے ہیں، اس معاملہ سے ان کی توجہ بٹی نہیں ہے۔