آپ آف لائن ہیں
جمعہ6؍شوال المکرم 1441ھ 29؍ مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

FIA سائبر کرائم ونگز میں غیر قانونی ریگولرائزیشن کی تحقیقات سے بھونچال

کراچی (اسد ابن حسن) ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لاء کے دو یوم قبل جاری کیے جانے والے ایک نوٹیفکیشن نے پوری ایجنسی میں بھونچال اور اضطرابی کیفیت پیدا کردی ہے۔ مذکورہ نوٹیفکیشن ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ (NR3C) میں افسران کی بھرتیاں، جعلسازیاں اور اسی سرکل کے دیگر معاملات کی تحقیقات سے متعلق ہے اور اس کی اجازت موجودہ مجاز اتھارٹی نے بھی دے دی ہے۔ ”جنگ“ کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لاء ملک طارق محمود نے ڈائریکٹر اسلام آباد کو 18مئی 2020ء کو ایک مراسلہ نمبر HQ/DL/GenII-821-24 تحریر کیا ہے جس کا عنوان ”انکوائری نمبر 77/2019 اینٹی کرپشن سرکل ایف آئی اے اسلام آباد“ ہے۔ مزید لکھا گیا ہے کہ مذکورہ انکوائری کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ (جس کے سربراہ ڈائریکٹر امیگریشن ناصر محمود ستی اور ممبران میں ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد زون سیّد شاہد حسن اور انسپکٹر انوسٹی گیشن عابد حسین تھے) جوکہ مراسلے کے ساتھ منسلک ہے اور اس کی سفارشات کو درست مانتے ہوئے مجاز اتھارٹی نے منظور کیا ہے کہ 4 مختلف انکوائریاں اے سی سی اسلام آباد میں رجسٹرڈ کی جائیں جس میں مندرجہ ذیل الزامات پر تحقیقات ہوں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کمیشن کی انکوائری رپورٹ کے مطابق مبینہ فائدہ اُٹھانے والے افسران اور اس میں متعلقہ افسران جنہوں نے فائدے دیئے، ان کا تعین کیا جاسکے۔ پہلا نکتہ NR3C میں کہ فیزI میں 8 ملازمین کی اپ گریڈیشن اور اس کے لیے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن جو 16 اکتوبر 2017ء کو جاری کیا گیا۔ دوسرا نکتہ NR3C کے فیزI میں کنٹریکٹ ملازم اطہر علی خان کو کیبنٹ سب کمیٹی جس کے سربراہ خورشید شاہ تھے ان کو کیسے ریگولرائز کیا گیا۔ تیسرا نکتہ فیزI کے کنٹریکٹ افسران جنہوں نے مدت ملازمت ختم ہونے یا اس سے پہلے استعفے دیدیئے تھے مگر ان کو فیزII میں ریگولرائز کردیا گیا۔ آخری نکتہ فیزI کے 4 ملازمین جن کو جولائی 2011ء میں نوکری سے برخاست کردیا گیا مگر ان کو اگست 2012ء کو خلاف قانون دوبارہ ری انسٹیٹ (Reinstate یعنی دوبارہ نوکری پر رکھ لیا گیا) مزید تحریر کیا گیا ہے کہ مذکورہ بالا تحقیقات اور مسنگ ریکارڈ کو سائبر کرائم سرکل، راولپنڈی سے اسلام آباد زون منتقل کردیا جائے اور 8 ملازمین کی اپ گریڈیشن انکوائری کا حصہ بنایا جائے۔ مجاز اتھارٹی نے مزید ہدایت جاری کی ہے کہ ان انکوائریوں کی پروسیڈنگز زونل ڈائریکٹر بذات خود سپروائز کریں گے اور رپورٹس جلد سے جلد جمع کروائی جائیں۔ تین رکنی کمیٹی جس کے سربراہ ڈائریکٹر امیگریشن ناصر محمود ستی تھے اور ان کی 19 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ اور سفارشات کچھ یوں تھیں: 16جنوری 2019ء کو ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فارنسک عامر نذیر نے مجاز اتھارٹی کو تحریری درخواست دی کہ NR3C میں گریڈ 18 میں 6 ڈپٹی ڈائریکٹرز اور دو اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی غیر قانونی اپ گریڈیشن اور ریگولرائزیشن ہوئی جن میں چوہدری عبدالرؤف، محمد رضا، سجاد علی خان، عاطف اقبال خان، آصف نواز، سیّد حیدر عباس، میاں ثاقب حفیظ اور فیصل عباس شامل تھے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ عبدالرؤف جن کے پاس تین عہدوں ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ اسلام آباد، ڈپٹی ڈائریکٹر اکاؤنٹس اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن (جنگ میں 8 مئی 2020ء کو خبر شائع ہوئی تھی) کا چارج تھا، اُنہوں نے مجرمانہ طور پر مجاز اتھارٹی کو دھوکہ دیا اور ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور 16 ستمبر 2017ء کو ایک نوٹیفکیشن جاری کروانے میں کامیاب ہوئے جوکہ قطعی غیرقانونی اور مروجہ قوانین کے خلاف تھا جس سے قومی خزانے کو کئی ملین روپے کا نقصان اور ان کو فائدہ ہوا۔ ابتدائی طور پر اس الزام کی تحقیقات ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن کو سونپی گئیں اور اُنہوں نے کرمنل انکوائری درج کرنے کی سفارش کی (جس کے بعد مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے) جس پر ڈی جی نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ مذکورہ کمیٹی نے ادارے کے مختلف ڈپارٹمنٹس سے ریکارڈ حاصل کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ NR3C میں کنٹریکٹ ملازمین کی 8 پوسٹوں کیلئے اخبارات میں اشتہار دیا گیا اور کیونکہ یہ کنٹریکٹ ملازمین تھے، اس لیے ان کی فکسڈ تنخواہ 30ہزار سے 60ہزار کے درمیان تھی۔ مذکورہ اشتہار کے بعد اس وقت کے ڈی جی نے تمام قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں اکتوبر 2007ء میں NR3C میں ملازمین کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیلئے لیٹر جاری کردیئے۔ ان کی مدت ملازمت تین برس کیلئے تھی یعنی 2009ء میں کنٹریکٹ ختم ہوگئے مگر ان کو ایک بار پھر ایک برس یعنی 30جون 2010ء تک نوکری کی تجدید کردی گئی۔ ان چار برس میں ان ملازمین کو کوئی سرکاری پے اسکیل (BPS) تفویض نہیں کیا گیا وہ ایک لم سم (Lum sum) تنخواہ وصول کرتے رہے مگر پھر خاموشی سے ان کو BPS پے اسکیل دے دیا گیا اور جب وزارت داخلہ نے اس بابت سوال کیا تو ان کو بتایا گیا کہ ایسا ان کو صرف TA/DA دینے کیلئے کیا گیا۔ دوسری مرتبہ جب کنٹریکٹ میں تجدید (یکم جولائی 2010ء تا 30 جون 2011) کی گئی تو اس میں BPS پے اسکیل بھی شامل کردیا گیا جبکہ ان کے تمام ابتدائی اور تجدید شدہ اپائنٹمنٹ لیٹرز میں BPS پے اسکیل کا ذکر ہی نہیں تھا جبکہ فیزI کا پی سی IV اس وقت کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شاہد ندیم بلوچ نے تیار کیا۔ اس کے بعد 2011ء میں اس ادارے کا فیز II شروع کرنے کا فیصلہ ہوا جس کیلئے خطیر رقم 468.67 ملین روپے مختص کیے گئے اور اس فیز میں BPS پے اسکیل بھی شامل کردیا گیا اور ساتھ ہی Nomenculture (علم اصلاحات) بھی شامل کی گئیں، جس پر کچھ فیزI کے NR3C کے ملازمین نے استعفیٰ دے دیا اور فیزII کے فریش اپائنٹمنٹ (Lum Sum) تنخواہ پر اپلائی کردیا۔ اس کے بعد مختصراً ایف آئی اے اور وزارت داخلہ میں خط و کتابت شروع ہوئی اور کابینہ کی سب کمیٹی جس کے سربراہ خورشید شاہ تھے، نے فیزI کے 70ملازمین کو ریگولرائز کردیا، جس کے بعد فیزII کے مزید 13 ملازمین جن میں گریڈ 18 کے فارنسک ایکسپرٹ طاہر خان، گریڈ 17 کے آصف اقبال، امجد علی عباسی، محمد عثمان، مسعود علی، سجاد علی خان، شمس الرحمان اور گریڈ 16 کے فیصل عباس، وقاص زمرد، آصف جاوید، طارق حسین ارباب، تنویر حسین اعوان اور عبدالواجد خان شامل تھے کی سمری کابینہ سب کمیٹی کو بھجوائی گئی اور ان سب کو بھی 2012ء میں ہی ریگولرائز کردیا گیا۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کا گیا ہے کہ نہ صرف یہ بلکہ 4 برخاست شدہ ملازمین جن میں گریڈ 18 کے تین افسران ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالغفار، محمد عرفان قریشی، محمد سرفراز اور گریڈ 16 کا آفس سپرنٹنڈنٹ سیف الرحمان شامل تھے، ان کو دوبارہ نوکری پر رکھ کر ریگولرائز کردیا گیا۔ اس میں سب سے حیرت انگیز امریہ تھا کہ ان کو 29 نومبر 2012ء سے ایک لیٹر مورخہ 13 مارچ 2013ء کے حوالے سے ریگولرائز کیا گیا جبکہ سب کمیٹی کی میٹنگ 13 دسمبر 2012ء کو منعقد ہوئی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ NR3C کے ملازمین نے ریگولرائزیشن کے بعد ایک اور حکمت عملی اپنائی اور اپنے عہدوں کی اپ گریڈیشن کی درخواستیں ڈی جی کو روانہ کیں اور پھر ڈی جی اور وزارت داخلہ کی جانب سے ان کے عہدوں کی اپ گریڈیشن کردی گئی۔ رپورٹ میں تین رکنی کمیشن نے اپنی فائنڈنگز تحریر کی ہیں اور آخر کے دو صفحات پر اختتامی کلمات میں تحریر کیا ہے کہ اپ گریڈیشن قطعی غیر قانونی تھی اور ملازمین کو ناجائز مالی فوائد پہنچائے گئے اور جن سے قابل اور حقیقی ایف آئی اے افسران کی حق تلفی اور نقصان پہنچا اور یہ سارا عمل حقائق کو توڑ مروڑ کر کیا گیا، جس کیلئے جعلی دستاویزات استعمال کی گئیں۔ کمیشن نے سات نکاتی سفارشات کی ہیں کہ ٹیکنیکل اسٹاف جو NR3C میں تعینات رہا اور اس حوالے سے جو 16 اکتوبر 2017ء کو جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، اس کو فی الفور واپس لیا جائے۔ قانون کے مطابق تمام گزیٹڈ پوسٹوں (گریڈ 16 سے گریڈ 18) کے حوالے سے ملازمین کے کیسز پبلک سروس کمیشن کو روانہ کیے جائیں۔ سیکرٹری وزارت داخلہ سے درخواست کی جائے کہ اس معاملے کی ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کروائی جائے جس کے سربراہ جوائنٹ سیکرٹری لیول کا افسر ہو جو یہ تعین کرے کہ اس گورکھ دھندے میں کون کون سے افسران نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ طاہر خان کے خلاف ایک علیحدہ انکوائری شروع کی جائے۔ ایک انکوائری ان چار افسران کی ریگولرائزیشن پر کی جائے جن کو نوکری سے برخاست کیا گیا تھا۔ تمام ریکارڈ ڈپٹی ڈائریکٹر اے سی سی کے حوالے کردیا جائے اور ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم راولپنڈی کو ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ یہ ہدایات دیں کہ ان کے پاس جو انکوائری کافی عرصے سے زیرالتوا ہے، اس کو جلد سے جلد منطقی انجام تک پہنچائیں اور غائب ریکارڈ حاصل کرکے ان کو فراہم کریں۔ رپورٹ میں مزید تحریر کیاگیا ہے وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کے افسران نے ناصرف حقائق کے منافی مندرجات کو اپنے حکم ناموں میں شامل کیا بلکہ جعلسازی بھی کی۔ ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق اس وقت NR3C کے جو اعلیٰ افسران جن کے خلاف انکوائری شروع کی گئی ہے ان کی تعیناتیاں کچھ یوں ہیں عبدالرؤف تین عہدے ایڈیشنل ڈائریکٹر، سی سی ڈبلیو ہیڈ کوارٹر و پشاور اور ڈی ڈی او سی سی ڈبلیو۔ سجاد علی اسٹاف آفیسر اے ڈی جی سی سی ڈبلو، عاطف اقبال ڈی جی آفس، آصف نواز ڈی ڈی آئی ٹی ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر، سرفراز ڈی ڈی کمپلینٹ لاہور زون، عثمان انچارج سی سی ڈبلیو لاہور اور آصف اقبال انچارج گوجرانوالہ۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر لاء ملک طارق جنہوں نے انکوائریاں شروع کرنے کا لیٹر تحریر کیا، سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے مذکورہ لیٹر جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ موجودہ دور میں رپورٹر مؤقف لیتے ہی نہیں اور مؤقف لینے سے صحافی کی کریڈیبلیٹی بڑھتی ہے۔ تین عہدوں پر تعینات افسر عبدل رؤف کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں نہیں کہ NR3C کے افسران بشمول ان کے خلاف کوئی انکوائری کا آرڈر ہوا ہے اور نہ ہی ان کو اس حوالے سے کوئی خط موصول ہوا ہے جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ڈائریکٹر امیگریشن ناصر ستی سے متعدد بار ان کے موبائل نمبر اور آفس نمبر پر رابطے کی کوشش کی گئی ان کے دفتر میں میسج بھی چھوڑاگیا مگر انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔