• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ارجنٹینا کے صدر کیخلاف تحقیقات کا آغاز

Investigation Starts Against Argentina President
پاناما لیکس کے انکشافات نے دنیا کے کئی ایوانوں میں ہلچل مچا رکھی ہے ۔ ارجنٹینا کے صدر مارسیو میکری کے خلاف تحقیقات شروع ہو گئیں۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ماضی میں آف شور کمپنی میں اپنی حصے داری کا اعتراف کرلیا جبکہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے پاناما پیپرز کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے امریکی سازش قرار دیا ۔

پاناما لیکس کے طوفان کی زد میں ارجنٹینا کے صدر مارسیو میکری بھی آگئے۔ فیڈرل پراسیکیوٹر کے مطابق صدر مارسیو میکری کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ نیشنل ٹیکس اتھارٹی اوراینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ سے صدرکے اثاثوں سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں ، پاناما لیکس میں صدر مارسیو میکری کے خلاف 2 آف شور کمپنیوں میں حصے داری کا ذکر کیا گیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے آنجہانی والد کے آف شور انویسٹمنٹ فنڈ میں سرمایہ کاری کی تھی اور منافع بھی کمایا تھا ۔ ان کے اور ان کی بیوی کے پاس 1997ء سے 2010 ءتک بلیئرمور انویسٹمنٹ فنڈ کے 5یونٹ رہے ۔ لیکن وزیراعظم بننے سے 4ماہ پہلے انہوں نے اپنا حصہ 30 ہزار پاؤنڈ میں فروخت کردیا تھا ۔ جبکہ اس سرمایہ کاری سے جو کچھ حاصل ہوا وہ سب انہوں نے ظاہر کردیا تھا اور پورا پورا انکم ٹیکس ادا کیا ۔

آسٹریا کے بینک ہائپو لینڈزبینک وورا لبرگ کے چیف ایگزیکٹو مائیکل گریہمرنے پاناما لیکس کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ وہ 2012ء سے آسٹریا کے بینک کے سربراہ تھے ۔ پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد آسٹرین مالیاتی مارکیٹ کے ریگولیٹر متعلقہ بینک کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں ۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ پاناما پیپرز کے الزامات امریکی سازش ہیں ۔ مخالفین روس کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ صدر پیوٹن نے پاناما لیکس میں نام آنے والے اپنے دوست سرگئی رولڈوگن کا دفاع بھی کیا۔
تازہ ترین