سعودی عرب میں کیے گئے ایک سروے میں68 فی صد افراد نے 16 سال سے کم عمر لڑکوں کی شادی کے آئیڈیا کو مسترد کر دیا ہے جبکہ 32 فی صد کا کہنا ہے کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
عرب ٹی وی کے مطابق سوشل میڈیا پر کیے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگوں نے اس عمل کی حمایت کرتے ہوئے اسے’ دلیری‘ قرار دیا جبکہ مخالفین نے اسے نہایت خطرناک فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دولہا اور دلہن عمر کی اس حد تک نہیں پہنچے ہیں جو ان کی مشترکہ زندگی کی مضبوط بنیاد قائم کر سکے۔
سعودی وزارت انصاف کی جانب سے مملکت میں لڑکیوں کی شادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مناسب طریقہ کار کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں 16 برس سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کے لیے متعلقہ عدالت سے تحریری منظوری لینا لازمی ہے۔