آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

طیارہ حادثات۔ روک تھام کیسے ممکن ہے؟

پی آئی اے کا قیام 29 اکتوبر 1946کو کلکتہ میں اورینٹ ایئرویز کے نام سے عمل میں آیا جو قیامِ پاکستان کے بعد سرکاری تحویل میں لے کر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن بن گیا جبکہ ایمریٹس(امارات ایئرلائنز) کا قیام 1985میں عمل میں آیا جس کے لئے ابتدائی طور پر دو جہاز پی آئی اے نے لیز پر فراہم کیے۔

اسی طرح ان کے پائلٹوں اور دیگر عملے کی ابتدائی تربیت بھی پی آئی اے کے پائلٹوں اور ماہرین نے کرائی تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پی آئی اے کی اندرون و بیرون ملک ہفتہ وار تقریباً 700پروازیں ہوتی ہیں جبکہ امارات ایئرلائن کی 3600پروازیں ہیں۔ اس وقت پی آئی اے کے پاس تیس مختلف قسم کے چھوٹے بڑے جہاز ہیں جبکہ امارات ایئرلائنز کے جہازوں کی تعداد تقریباً 300ہے جو تمام تر بڑے جہازوں پر مشتمل ہے۔

پی آئی اے کی 18اندرون ملک مختلف مقامات جبکہ صرف 25بین الاقوامی مقامات کی پروازیں چلتی ہیں جبکہ امارات ایئرلائن 80ممالک کے 157شہروں کی پروازیں چلاتی ہے۔ امارات ایئرلائن کا ابھی تک صرف ایک طیارہ لینڈنگ کے وقت حادثے کا شکار ہوا (اگست2016) لیکن اس کے بھی تمام مسافر سوائے ایک کے، محفوظ رہے جبکہ اس کے برعکس پی آئی اے اس وقت بدقسمت ایئرلائن بن گئی ہے کہ جہاں فضائی حادثات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

پہلا فضائی حادثہ 20نومبر 1956کو پیش آیا جب پی آئی اے کا بوئنگ 720جہاز مصر میں حادثے کا شکار ہوا جس میں 121افراد جاں بحق ہوئے۔ 6اگست 1970کو پی آئی اے کا فوکر ایف 27جہاز پنڈی میں حادثے کا شکار ہوا جس میں 31مسافر جاں بحق ہوئے۔ 8دسمبر 1972کو پی آئی اے کا ایک اور فوکر جہاز پنڈی ہی میں حادثے کا شکار ہوا جس میں 33افراد لقمہ اجل بنے۔ پھر26 نومبر 1979کو پی آئی اے کا بوئنگ 707جہاز جدہ میں حادثے کا شکار ہوا اور 86انسان جان کی بازی ہار گئے۔ 25اگست 1989کو پی آئی اے کا فوکر ایف 27گلگت جاتے ہوئے ہمالیہ کے پہاڑوں میں گر کر تباہ ہوا اور آج تک اس کا ملبہ تک نہ مل سکا۔

بدقسمتی سے یہ سلسلہ کسی بھی دور میں رکا نہیں اور چند سال قبل یعنی 7دسمبر 2016کو پی آئی اے کا اے ٹی آر جہاز چترال سے آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا جس میں 47مسافر لقمہ اجل بنے اور ابھی اس حادثے کا دکھ تازہ تھا کہ عید سے دو روز قبل یعنی 22مئی کو پی آئی اے کا ایئربس طیارہ لاہور سے کراچی جاتے ہوئے لینڈنگ کے وقت ایسے المناک حادثے کا شکار ہوا کہ اس میں 97افراد دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ یہ تو صرف پی آئی اے کے حادثات ہیں لیکن اگر نجی ایئرلائنز کے حادثات کو بھی ساتھ ملایا جائے تو انسانی زندگیوں سے کھیل کا یہ معاملہ اور بھی بھیانک شکل میں سامنے آتا ہے۔

مثلاً 28جولائی 2010کو ایئربلیو کا جہاز اسلام آباد لینڈ کرتے وقت مارگلہ کے پہاڑوں میں گر گیا جس میں 52افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے صرف دو سال بعد بھوجا ایئرلائن کا طیارہ پنڈی میں حادثے کا شکار ہوا جس میں 27 افراد جان سے گئے۔

پاکستان کی فضائی تاریخ میں سب سے مشہور فضائی حادثہ 17اگست 1988کو ہونے والے سی ون تھرٹی کا تھا جس میں اس وقت کے صدر پاکستان اور آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق، جنرل اختر عبدالرحمٰن اور کئی دیگر اعلیٰ فوجی اور سول افسران جاں بحق ہوئے۔

سوال یہ ہے کہ دنیا میں سفر کے لئے محفوظ ترین تصور کیا جانے والا وسیلہ یعنی فضائی سفر، پاکستان میں غیرمحفوظ ترین وسیلہ کیوں بن گیا ہے؟ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ پی آئی اے کے تعاون سے بننے والی امارات ایئرلائن آج انتہائی کمانے والا ادارہ کیوں بن گیا ہے اور خود پی آئی اے سفید ہاتھی کی شکل کیوں اختیار کر گیا ہے؟ اس سےبھی بڑا سوال یہ ہے کہ پی آئی اے کے ماہرین کے تعاون سے شروع کی جانے والی امارات ایئرلائن آج دنیا کی محفوظ ترین اور خود پی آئی اے خطرناک ترین ایئرلائن کیوں سمجھی جاتی ہے؟

میرے نزدیک سیاسی مداخلت بھی وجہ ہے، یہ بھی ایک وجہ ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے کے برعکس عموماً پی آئی اے کے معاملات غیرمتعلقہ لوگوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ یونین بازی نے بھی پی آئی اے کی حالت ابتر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن اصل مسئلہ یا ام المسائل یہ ہے کہ یہاں جزا و سزا کا تصور نہیں۔ نہ کارنامے سرانجام دینے والوں کو نوازا جاتا ہے اور نہ جرائم کے مرتکب افراد کو سزا دی جاتی ہے۔ اور تو اور آج تک قوم کے سامنے یہ حقائق بھی نہیں لائے گئے کہ کس حادثے کا ذمہ دار کون تھا؟

22 مئی کو کراچی میں ہونے والے حادثے کی تو ابھی تحقیقات ہونا ہیں (حالانکہ عالمی معیار کو اپنائے بغیر اور پائلٹوں کو نمائندگی دیے بغیر یہ انکوائری بھی متنازع ہوگی) لیکن سوال یہ ہے کہ ماضی میں جو فضائی حادثات ہوئے ان کی تحقیقاتی رپورٹس کیوں سامنے نہیں لائی گئیں اور ذمہ داروں کو کیوں سزائیں نہیں دی گئیں؟ وزیراعظم کے ترجمان شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کا حوالہ دے کر دعویٰ کرتے ہیں کہ خان صاحب کسی خوف کو ذہن میں نہیں لاتے۔

اگر واقعی ایسا ہے تو بسم ﷲ ۔ ماضی کے تمام فضائی حادثات کی انکوائری رپورٹس سرکار کی الماریوں سے نکال کر قوم کے سامنے رکھ دیں۔ سانحہ بہاولپور کی رپورٹ سے آغاز کریں اور ایک ایک دن کے وقفے سے فضائی حادثات کی تمام انکوائری رپورٹس قوم کے سامنے رکھ دیجئے۔

ذمہ داروں کو سزائیں دینا تو بعد کی بات ہے، کم از کم قوم کو علم تو ہو کہ کس وقت کون کس جرم یا غفلت کا مرتکب ہوا ہے؟