آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انجام گلستاں کیا ہوگا جب ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہو

پچھلے کالم میں تعلیم سے متعلق مسئلہ پہ بات کی گئی تھی ۔جسے قارئین کی طرف سے کافی پذیرائی حاصل ہوئی ۔ قارئین کی اکثریت نے اس کالم کے توسط سے حکام بالا سے گزارش کی ہے کہ تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق ایس او پی مرتب کئے جائیں۔ تاکہ بچوں کو زیادہ دیر تک تعلیم سے دور نا رکھا جاسکے۔ کیونکہ اب تین ماہ سے پڑھائی لکھائی سے دور بچوں کو واپس پڑھائی کی روٹین میں لانا آسان نہیں ہے ۔ایسے میں والدین کا پریشان ہونا جائز ہے۔Health is a state of physical, mental and social wellbeing in which disease and infirmity are absent. اس تعریف کے تحت انسان اس وقت صحت مند سمجھا جاتا ہے جب تک ہو کہ وہ ہر طرح کی جسمانی و ذہنی بیماری اور کسی بھی قسم کی معذوری سے پاک ہو۔ لیکن مارچ 2020 سے لے کر اب تک کے حکام بالا ، صحت سے متعلق شعبوں اور میڈیا کے روئیے اس نکتے کو نظرانداز کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس وقت کورونا کے سلسلہ میں جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے اور جس طرح اس بیماری کے بچاؤ کے اقدامات کیئے جارہے ہیں وہ تمسخر انگیز اور ناقابل فہم ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ عوام الناس کی تربیت کی جارہی ہے یا نہیں بار بار برزخ کی سیر کرائی جارہی ہے۔ بچپن سے سنا تھا کہ جس بات کی شہرت کرنی ہوتی ہے اس کا تذکرہ کثرت سے کیا جائے ۔ اگر حکومت کی ایماء پر یہ سب ہو رہا ہے تو کیا کہا جائے۔" انجام گلستاں کیا ہوگا جب ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہو"۔ آئیے کوئی فون نمبر ملائیے آواز آتی ہے تو کورونا ایک خطرناک مرض ہے اور جان لیوا بھی ہوسکتاہے۔ یعنی ہر سامع اپنے ایمان کی تجدید کے ساتھ ساتھ اس کی بھی تیاری کئے کہ ملک الموت (موت کا فرشتہ) کورونا وائرس ہاتھ میں لئے اس کے تعقب میں ہے اورکسی بھی وقت اس کی خالق حقیقی کے پاس حاضری ہوسکتی ہے۔ قرآن پاک جیسی عظیم کتاب میں بھی صرف تین جگہ "کل نفس ذائقتہ الموت" یعنی ہر نفس کو مرنا ہے، کا ذکر آیا ہے یہاں دن میں بیسیوں دفعہ یہ گردان سننے کو ملتی ہے۔ یقینا اتنی "تلقین اور یقین دہانی" کے بعد اچھا خاصہ ہوش و حواس والا آدمی بھی حواس باختہ ہو جاتا ہے اور نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو اس کا شکار تصور کرتا ہے۔ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ تحریک پوری قوم کو نفسیاتی مریض بنانے کے لیے شروع کی گئی ہے؟ جس کا عملی نمونہ اپنے اردگرد موجود افراد سے ہو رہا ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر کسی مریض کو قرنطینہ میں رہنے نے یا کورونا کا ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دے تو نہ صرف مریض بلکہ اس کے سارے عزیز و اقرباء اور متعلقین بھی عجیب ہیجانی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اوپر سے سونے پر سہاگہ کا یہ ہے کہ ہر لمحہ بہ لمحہ کورونا کی رپورٹنگ نے اور کام خراب کر دیا ہے۔ کیا الیکشن ٹرانسمیشن چل رہی ہے یا کرکٹ میچ ہو رہا ہے کہ جس کی رپورٹنگ نا صرف سنسنی پیدا کرتی ہے بلکہ لوگوں کو محظوظ بھی کرتی ہے۔ اگر خدا ناخواستہ کوئی کورونا میں گزر گیا تو نیوز کاسٹرز اتنی دفعہ اس خبر کو دہراتے ہیں اور اتنے ڈرامائی انداز میں اس خبر کو بتایا جاتا ہے کہ انسان عجیب ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس قسم کی خبروں کی گردان سے عام آدمی شدید اعصابی دباو کا شکار ہوچکا ہے۔اب تک پاکستان میں تقریباً 1500 افراد کورونا کی وجہ سے وفات پا چکے ہیں۔ اگر اس کا بائیس کروڑ کی آبادی سے تناسب نکالا جائے تو یہ کچھ بھی نہیں۔ اس سے کہیں زیادہ تعداد میں لوگ دل کے دورے، دماغ کی شریان پھٹنے، نمونیا، اسہال، جگر کی خرابی، گردوں کا فیل ہونا جیسے امراض کا شکار ہوکر کر دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں بچے خوراک کی کمی اور گندے غلیظ پانی پینے کی وجہ سے بیمار ہوکر روزانہ کی بنیاد پر لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ دوران زچگی کتنی ہی خواتین مختلف پیچیدگیوں کی وجہ سے زندگی دے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ جنکے اعدادوشمار کا جاری کرنا کسی کی ذمہ داری ہے بھی یا نہیں؟ بیماریاں جو پہلے سے موجود ہیں ان کے بچاؤ اور علاج کے لئے کیا اقدامات رات پچھلی حکومت اور موجودہ حکومت نے کیے ہیں ہیں یہ سارے تبصرے کا مطلب طلب کرو نہ کے لیے بنائے گئے ایسے پی کیخلاف خلاف ورزی نہیں ہے ہے بلکہ ہر کام کا ایک ڈھنگ ہوتا ہے ایک چھوٹے سے تناسب میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والی بیماری کے لئے پوری قوم کو phobias, depression, anxiety,and obsessive compulsive disorder کا مریض بنا دینا انتہائی گھاٹے کا سودا ہے۔ کورونا سے جس کی موت آنی ہے وہ تو آکے رہے گی۔ یہ تو ترقی یافتہ اقوام نے بھی دیکھ لیا۔ لیکن زندہ بچ جانے والی بیمار قوم کس کام کی؟ جسمانی بیماری کا تو دو چار ہفتے میں علاج ہوجاتا ہے لیکن نفسیاتی بیماری سالوں پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ایسے میں نفسیاتی مرض میں مبتلا قوم کیسے ملک چلائے گی۔یہ کسی نے سوچا ہے؟ آخر میں ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ عوام کے لیے خاص طور پر یہ ٹیلی فونک ٹون کو بدل کرمناسب الفاظ میں اس کی تشہیر کی جائے۔

minhajur.rab@janggroup.com.pk