آپ آف لائن ہیں
بدھ23؍ذیقعد 1441ھ 15؍ جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

معروف ہندوستانی مزاح نگار مجتبیٰ حسین ۲۷؍ مئی ۲۰۲۰ء کو حیدرآباد (دکن) میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر تقریباً چوراسی برس تھی۔

پچھلے پچاس برسوں میں ہندوستان میں اردو کے متعدد مزاح نگاروں نے اپنی منفرد شناخت بنائی اور شہرت و مقبولیت حاصل کی لیکن ان میں دو نام بہت نمایاں ہیں ، ایک یوسف ناظم اور دوسرے مجتبیٰ حسین۔ یوسف ناظم کا ۲۰۰۹ء میں انتقا ل ہوگیاتھا اور اب مجتبیٰ حسین کے جانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں اردو مزاح کا سنہرا دور اختتام کو پہنچا۔

مجتبیٰ حسین کی اردو خدمات کے اعتراف میں ہندوستان حکومت نے انھیں ۲۰۰۷ء میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا تھا جو ہندوستان کا چوتھا بڑا شہری اعزاز ہے لیکن ہندوستان میں شہریت کے نئے ترمیم شدہ قانون اور اس کے نتیجے میں ہندوستان میں پھیلائی گئی نفرت کے خلاف مجتبیٰ حسین نے اپنا یہ اعزاز ۲۰۱۹ء میں واپس کردیا تھا۔

مجتبیٰ حسین کی تاریخ ِ پیدائش اور جاے پیدائش کے ضمن میں یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ۱۹۳۳ء میں حیدرآباد (جو پہلے ریاست دکن میں شامل تھا اور اب آندھر پردیش اور تنلنگانہ کا مشترکہ دارالحکومت ہے) میں پیدا ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجتبیٰ حسین چِنچولی (ضلع گلبرگہ)میں پیدا ہوئے تھے جو اب ہندوستانی صوبے کرناٹک میں شامل ہے۔ 

حسن مثنیٰ نے اپنی کتاب ’’مجتبیٰ حسین اور فن مزاح نگاری ‘‘ میں لکھا ہے کہ اس زمانے میں سابق ریاست دکن میں میٹرک کے امتحان میں بیٹھنے کے لیے کم از کم عمر کی پابندی تھی لیکن مجتبیٰ حسین کی عمراُس مقررہ حد سے تین سال کم تھی کیونکہ انھوں نے گھر پرہی تین سال تک تعلیم حاصل کی تھی ۔ لہٰذا ان کے تین سال بچانے کے لیے ان کی عمر تین سال زیادہ لکھوائی گئی ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجتبیٰ حسین ۱۵؍ جولائی ۱۹۳۶ء کو چِنچولی ضلع گلبرگہ میں پیدا ہوئے تھے۔

گلبرگہ ویسے بھی اردو ادب کا گہوارہ رہا ہے ۔ اردو نثر کے بعض ابتدائی نمونے حضرت بندہ نواز گیسو دراز سے منسوب کیے جاتے ہیں(اگرچہ جدید تحقیق نے بعض کتابوںکو ان سے غلط طور پر منسوب کیے جانے کا انکشاف کیا ہے ) ۔ حضرت گیسو دراز دہلی سے ہجرت کرکے گلبرگہ میں آباد ہوگئے تھے جہاں ان کا ۱۴۲۲ء میں انتقال ہوا اور آج بھی گلبرگہ میں ان کا مزار مرجعِ خلائق ہے۔ بہرحال گلبرگہ میں اردو زبان و ادب کا چرچا تھا اور مجتبیٰ حسین کے والد مولوی احمد حسین اردو کے کلاسیکی دب کے مطالعے کا ذوق رکھتے تھے۔ مجتبیٰ حسین کے ایک استاد محمد حسین غالب کی شاعری کے عاشق تھے ۔ محمد حسین کو دیوان ِ غالب پورا حفظ تھا اور وہ بات بات پر غالب کے شعر پڑھتے تھے۔ اس کا مجتبیٰ حسین کی شخصیت پر گہرا اثر پڑا ۔

مجتبیٰ حسین کے دو بڑے بھائی بھی ادیب تھے اور ان کی شخصیت کے بھی ان پر اثرات تھے۔ابراہیم جلیس جو کم عمری ہی میں معروف ترقی پسند افسانہ نگار اور طنز نگار کے طور پر مشہور تھے ، دراصل مجتبیٰ حسین کے بڑے بھائی تھے ۔ ابراہیم جلیس ۱۹۴۸ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں بھی ادب اور صحافت میں نام کمایا۔ مجتبیٰ حسین کے سب سے بڑے بھائی محبوب حسین جگر ادیب بھی تھے اور روزنامہ ’’سیاست ‘‘ (حیدرآباد دکن ) کے مدیر بھی۔ انھوں نے مجتبیٰ حسین کے نام بچوں کے کئی رسالے مثلاً پھول اور غنچہ، جو اس زمانے میں بہت مقبول تھے ، جاری کروادیے تھے ۔اس ماحول میں مجتبیٰ حسین نے گلبرگہ کالج پہنچے اور وہاں ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ انٹر میڈیٹ کے بعد مجتبیٰ حسین نے حیدرآباد دکن کی عثمانیہ یونی ورسٹی سے ۱۹۵۶ء میں بی اے کیا۔

ڈاکٹرافسر کاظمی کی کتاب ’’مجتبیٰ حسین بحیثیت طنز نگار ‘‘کے مطابق مجتبیٰ حسین کچھ عرصے تک روزنامہ ’’سیاست ‘‘ میں کام کرتے رہے اور ۱۹۶۲ء میں انھوں نے آندھرا پردیش کے محکمۂ اطلاعات میں ملازمت کرلی۔ اس زمانے میں ہندوستان میں زبانوں اور اردو زبان کی ترقی کا سوال اٹھا تو ایک کمیٹی بنائی گئی جس کا نام تو’’ کمیٹی فور پروموشن اوف اردو‘‘ یعنی کمیٹی براے ترقیٔ اردو تھا لیکن یہ گجرال کمیٹی کے نام سے مشہور ہوئی کیونکہ اس زمانے میں اِندر کمار گجرال وزیر اطلاعات تھے اور ان کا اس سلسلے میں بڑا کام تھا (وہ بعد میں وزیر اعظم بھی بنے)۔ مجتبیٰ حسین اس زمانے میں اپنی مزاحیہ اور طنزیہ تحریروں کے سبب مقبول ہورہے تھے اور ان کی دو کتابیں شائع ہوچکی تھیں۔

ان کے قدر دانوں میں کرشن چندر بھی شامل تھے۔ مجتبیٰ حسین کی اردو سے محبت کو دیکھتے ہوئے کرشن چندر نے اِندر کمار گجرال کو خط لکھے کہ مجتبیٰ حسین کو اس کمیٹی میں ضرور شامل کیا جائے۔ چنانچہ وہ ۱۹۷۲ء میں دہلی آکر کمیٹی میں شامل ہوگئے ۔ ۱۹۷۴ء مجتبیٰ حسین کی خدمات نیشنل کونسل فور ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کو منتقل کرد ی گئیں ۔ یہاں انھوں نے اردو کی کتابوں کی اشاعت کو تیز کردیا۔ ۱۹۷۷ء میں ان کے ادارے نے اردو کی تیس نصابی کتابیں شائع کرکے دھوم مچادی۔

لیکن یہ ذکر ہے اس زمانے کا جب ہندوستان میں اردو کی حیثیت اور اہمیت تعلیمی، ثقافتی اور ادبی میدانوں میں مستحکم تھی ۔ لیکن اب ارو ہندوستان میں اجنبی ہوچکی ہے۔ اردو کی خدمت کے باوجود مجتبیٰ حسین کو احساس تھا کہ ہندوستان میں اردو کا مستقبل روشن نہیں ہے ۔ انھوں نے اپنے کئی مضامین میں اس طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ مثلاً ان کی کتاب ’’بالآخر‘‘ کے ایک طنزیہ مضمون ’’اردو کا آخری قاری‘‘ میں انہوں نے یہ دل چسپ قصہ سنایا ہے کہ اکیسویں صدی میں اردو ادب کا صرف ایک قاری باقی رہ جاتاہے اور وہ ایک جزیرے میں رہا ئش پذیرہوتا ہے۔ جب اردو کے اہل قلم کو اس کی اطلاع ملتی ہے کہ اردو کا ایک قاری ابھی موجود ہے تو وہ کشتیوں میں اپنی تخلیقات کی گٹھڑیاں اٹھائے اس جزیرے میں پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن وہ عقل مند قاری یہ اطلاع پاتے ہی چپ چاپ جزیرے سے فرار ہوجاتا ہے۔

مجتبیٰ حسین نے مضامین بھی لکھے، سفرنامے بھی اور کالم بھی۔ ان کی کتابوں کی تعداد کم و بیش پچیس ہے جن میں سے کچھ یہ ہیں : تکلف برطرف (۱۹۶۸ء)، قطع کلام (۱۹۶۹ء )، قصہ مختصر (۱۹۷۲ء)، بہرحال (۱۹۷۴ء)، آدمی نامہ (۱۹۸۱ء)، بالآخر (۱۹۸۲ء)، جاپان چلو جاپان چلو (۱۹۸۳ء)، الغرض (۱۹۸۷ء)، سو ہے وہ بھی آدمی (۱۹۸۷ء)، چہرہ در چہرہ (۱۹۹۳ء)، میرا کالم (۱۹۹۳ء)، سفرِ لخت لخت (۱۹۹۳ء)، ہوئے ہم دوست جس کے (۱۹۹۹ء)۔ آخری دور کی ان کی کتابوں میں شامل ایک کتاب ’’امریکا گھاس کاٹ رہا ہے ‘‘کے نام سے ہے جس میں انھوں نے امریکا پر تنقید کی ہے۔

مجتبیٰ حسین کے کالموں اور سفرناموں کے انتخابات بھی شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی تحریروں کا ایک انتخاب حسن چشتی نے’’ مجتبیٰ حسین کی بہترین تحریریں ‘‘کے عنوان سے کیا ہے جو دو جلدں میں شائع ہوچکا ہے۔

مجتبیٰ حسین کے انتقال سے ہم ایک انسان دوست ادیب سے محروم ہوگئے ہیں جس نے بھارتی حکومت کے ظالمانہ نئے قانون پر احتجاج کیا اور اردو کے دفاع کی جنگ بھی لڑی۔