آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مصنّف: محمّد حفیظ خان

صفحات: 350 ،قیمت: 900 روپے

ناشر: بُک کارنر،جہلم۔

اچھے ناول کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ جب اُسے پڑھنے کے لیے ہاتھ میں لیا جائے، تو ضخامت کے باوجود دِل یہ چاہے کہ اُسے اوّلین نشست ہی میں ختم کر کے اُٹھا جائے۔ محمّد حفیظ خان نے ’’انواسی‘‘ کا آغاز 12 جنوری 1872 ءسے کیا ہے۔ ناول 1875 ءتک آتے آتے اختتام کی حدوں کو چُھو لیتا ہے۔ گویا انیسویں صدی کے نصف آخر کا قصّہ ہے کہ جس میں فرنگی سرکار ہندوستان کی وسیع و عریض زمین کے فاصلوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریلوے لائن کے ذریعے کم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔جس جگہ اُسے مزاحمت کاسامنا کرنا پڑا ،وہ دریائے ستلج کے آس پاس کا علاقہ تھا اور ریلوے ٹریک کو وہاں صدیوں سے واقع ایک قبرستان کو مٹا کر آگے بڑھ جانا تھا۔وہاں بسنے والے لوگ ریلوے ٹریک کے ٹریپ میں آنے کوتیار نہ ہوئے۔ 

یہیں سے کہانی مضبوط پلاٹ کے ساتھ طاقت وَر کرداروں کے پہلو بہ پہلو تیزرفتاری سے آگے بڑھتی ہے۔پلاٹ اور کرداروں کے ساتھ مکالمے بھی مجموعی فضا کو مزید پُر اثر بناتے ہیں۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک عورت ’’سنگری‘‘ کے گرد گھومتا ہے۔ یہی سنگری ’’انواسی‘‘ ہے، جو مَردانہ سماج میں ایک مَرد ’’سیدا‘‘ کے جبر و استحصال کا شکار ہوتی ہے۔ درمیان میں کئی اور کردار کہانی کو مزید دِل چسپ بناتے ہیں اور یوں ایک تاریخی حقیقت بہت چابک دستی کے ساتھ انسانی رویّوں میں پوشیدہ نفرت، بغض، ہوس، لالچ اور منصب کی چاہ جیسے عوامل آشکار کرتی نظر آتی ہے۔ ناول کے بارے میں مشاہیر کی تحسین پر مبنی آراء بھی موجود ہیں۔حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے ناولوں میں ’’انواسی‘‘ہر لحاظ سے ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔