آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چین اور بھارت میں بڑے فوجی تصادم کا امکان؟

لداخ کی وادی، گلوان عام طور پر پُرامن ہی رہتی ہے، لیکن 15 اور 16 جون کی درمیانی شب اِس علاقے میں، جسے’’ لائن آف ایکچول کنٹرول‘‘ (ایل اے سی ) کہا جاتا ہے، بھارت اور چین کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ سے نہ صرف ان دو پڑوسی ممالک کے مابین کشیدگی عروج پر پہنچ گئی، بلکہ عالمی تنازعات میں ایک اور غیرمعمولی تنازعے کا بھی اضافہ ہوا۔ اس جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک ہوئے، جن میں ایک کرنل بھی شامل ہے، جب کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ اُس نے چین کو بھی خاصا جانی نقصان پہنچایا، تاہم چین کی جانب سے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔ فوجی ہلاکتوں کی خبر سامنے آتے ہی بھارت میں عوامی سطح پر شدید غم وغصّے کا اظہار کیا گیا۔ 

دوسری طرف، حکومتی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ہی دونوں مُمالک نے ایک دوسرے پر جارحیت کے الزامات لگائے، لیکن جو شواہد سامنے آئے، اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کا کافی جانی نقصان ہوا، جس کی تردید ممکن نہیں۔ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ چین اور بھارت کے درمیان خونی تصادم ہوا ہے۔اِس سے قبل،1962 ء میں دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ بھی ہوئی، جس میں چین کا پلّہ بھاری رہا اور بھارت کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی وزیرِ اعظم، جواہر لال نہرو نے لوک سبھا میں شکست کا سرکاری طور پر اعتراف کرتے ہوئے کہا’’ ہم جدید دنیا کی حقیقت سے بہت دُور ہوگئے تھے۔ 

ہم ایک ایسے مصنوعی ماحول میں رہ رہے تھے، جسے ہم نے خود تیار کیا۔‘‘ دوسرے الفاظ میں اُنہوں نے تسلیم کیا کہ بھارت آخری وقت تک جنگ کے لیے تیار نہ تھا۔اس جنگ کے بعد چین اور بھارت کے باہمی سفارتی تعلقات تقریباً منقطع ہوگئے اور وہ ہر فورم پر ایک دوسرے کی مخالفت کرنے لگے۔تاہم، 1979ء کے بعد ڈینگ زیائو پنگ کی’’ اقتصادی اولیت‘‘ کی پالیسی چین کی بنیاد بنی، تو دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آنے لگے، البتہ سرحدی تنازعات جاری رہے، خاص طور پر ہمالیائی سرحد پر تنازعات وقت کے ساتھ بڑھتے ہی چلے گئے۔ اس پس منظر میں اہم سوال یہ ہے کہ’’ ایک ایسے دَور میں، جب دنیا کورونا سے برسرِ پیکار ہے، اس تنازعے اور جنگی ماحول کے اُس پر کیا اثرات مرتّب ہوں گے؟‘‘ نیز، اس سلسلے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ’’ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے دشمن ہیں، جب کہ پاک،چین دوستی مثالی ہے۔1962 ء کی بھارت، چین جنگ کے بھی پاکستان پر شدید اثرات مرتّب ہوئے تھے، تو اب جنگی ماحول میں کیا کچھ ہوسکتا ہے؟ پھر یہ بھی اہم ہے کہ اس صُورتِ حال سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور عالمی خارجہ حکمتِ عملی کس طرح ترتیب دی جائے؟

چین اور بھارت کے مابین ہونے والی جھڑپ میں کیا ہوا ؟ اب تک کی اطلاعات کے مطابق، وادیٔ گلوان میں ایل اے سی پر جھڑپ میں لوہے کے سلاخیں استعمال کی گئیں، جن پر کیلیں لگی ہوئی تھیں۔ ان جھڑپوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر عام ہیں۔ چین، بھارت حالیہ تنازعے کی شروعات اپریل کے تیسرے ہفتے میں ہوئی۔چین کے مطابق، بھارت نے لائن آف ایکچول کنٹرول پر بڑے پیمانے پر فوجی نقل وحرکت کا آغاز کیا، وہ اس مقام پر سڑک بھی بنا رہا ہے، جو واضح طور پر سرحدی پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے، کیوں کہ جس علاقے میں سڑک تعمیر ہو رہی ہے، وہ چینی دعوے کے مطابق، اُس کا حصّہ ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے ساتھ ہی چینی فوجیوں کی بڑے پیمانے پر نقل وحرکت دیکھی گئی۔رپورٹس سے صاف پتا چلتا ہے کہ اس جھڑپ میں کسی قسم کا فوجی ہتھیار یا گولا بارود استعمال نہیں ہوا۔ ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کا تعلق بہار رجمنٹ سے تھا۔پہلے تین فوجیوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئیں، لیکن بعد میں بھارتی فوج کے بیان میں 20 ہلاکتوں کا اعتراف کیا گیا۔آخر فوجی جھڑپ میں ہتھیار کیوں استعمال نہیں کیے گئے، حالاں کہ سرحد پر تعیّنات فوجی تو اسلحے سے لیس ہوتے ہیں؟ماہرین اِس سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ’’ 1996ء اور2005 ء کے چین، بھارت معاہدے کے بعد اب دونوں طرف کے فوجی ایل اے سی پر ہتھیار استعمال نہیں کرتے۔‘‘

اب ذرا بھارت اور چین کے سرحدی تنازعے پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔چین اور بھارت کے درمیان مشترکہ سرحد3488 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے، جس میں جمّوں وکشمیر، ہماچل پردیش، اترکھنڈ، سکھم اور اروناچل پردیش کے علاقے شامل ہیں۔ یہ سرحد بنیادی طور پر تین سیکٹرز میں منقسم ہے۔ جمّوں وکشمیر سے ملحق مغربی سیکٹر، ہماچل پردیش اور اترکھنڈ سے منسلک مڈل سیکٹر اور مشرقی سیکٹر میں اوروناچل پردیش اور سکھم شامل ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان ابھی تک سرحد کی باضابطہ حد بندی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے تنازعات چلے آرہے ہیں، جو ہر کچھ سال بعد کشیدگی بڑھا دیتے ہیں۔ 

لائن آف ایکچول کنٹرول کی اصطلاح اسی وجہ سے استعمال کی جاتی ہے۔ مغربی سیکٹر میں جمّوں وکشمیر گزشتہ سات عشروں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا سبب ہے۔بھارت نے اقوامِ متحدہ میں اس خطّے کے باسیوں کو حقِ خود ارادیّت دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن جلد ہی اس سے مُکر گیا اور اب گیارہ ماہ سے شہریوں کو اس خوف سے گھروں میں محصور کر رکھا ہے کہ کہیں لاک ڈاؤن کُھلنے پر عوامی بغاوت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔ دنیا اس ظلم کے خلاف بھارت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے، مگر وہ بے شرمانہ ڈھٹائی کے ساتھ عوام پر زندگی تنگ سے تنگ کرتا جا رہا ہے۔ وادیٔ گلوان کا متنازع علاقہ اکسائی چن کا حصّہ ہے۔یہ وادی ، لداخ اور اکسائی چن کے درمیان بھارت،چین سرحد پر واقع ہے۔

اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ ایل اے سی اکسائی چن کو بھارت سے الگ کرتی ہے۔ چین اور بھارت دونوں اکسائی چن کی ملکیت کے دعوے دار ہیں۔یہ وادی چین میں شنجیانگ اور بھارت میں لداخ تک پھیلی ہوئی ہے۔فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ بھارت کے لیے بہت زیادہ اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے کہ یہ پاکستان، شنجیانگ اور لداخ سے جُڑا ہوا ہے۔اس وادی کے بلند پہاڑ جنگی نقطۂ نظر سے بہت سود مند ہیں۔1962 ء کی چین، بھارت جنگ میں بھی اس علاقے کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔جون کے انتہائی گرم موسم میں بھی اس وادی کا درجۂ حرارت منفی رہتا ہے۔ روایت ہے کہ اس وادی کا نام ایک عام لداخی شخص، غلام رسول گلوان کے نام پر رکھا گیا، جس نے اسے دریافت کیا تھا۔ماہرین کے مطابق، بھارت یہاں فوجی اہمیت کی سڑک بنا رہا ہے تاکہ پورے علاقے میں تعیّنات فوجیوں تک رسد کی فراہمی آسان ہوجائے ۔ یہ سڑک شاہ راہِ قراقرم کے بھی نزدیک ہے۔ 

بھارتی ذرائع کے مطابق، چین اور بھارت نے سرحد کا 3812 کلومیٹر کا علاقہ سڑک کے لیے رکھا ہے، جسے’’ بارڈرز روڈ آرگنائزیشن‘‘ تعمیر کر رہا ہے، اس میں سے زیادہ تر حصّے پر کام مکمل بھی ہوچُکا ہے۔یہ تعمیراتی مراحل دونوں ممالک کے درمیان مستقل تنازعے کا باعث ہیں۔تاہم چین، بھارت کشیدگی میں صرف یہی عنصر نہیں۔گزشتہ سال اگست میں، جب بھارت نے اپنے آئین سے آرٹیکل370 منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کی، تو اُسے پاکستان کے ساتھ چین نے بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔ اِس ضمن میں اُس کا کہنا تھا کہ’’ بھارت کے اس اقدام سے چین کی خودمختاری پر بھی سوال اٹھتا ہے۔‘‘

17 جون کو چین نے وادیٔ گلوان کے حصّے میں خودمختاری کا دعویٰ کیا، لیکن بھارت نے اُسے ماننے سے انکار کردیا۔چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ’’ وادی گلوان کی خود مختاری ہمیشہ چین کے پاس رہی ہے۔ بھارتی فوجیوں نے سرحدی پروٹوکول اور کمانڈرز سطح کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی۔تاہم، چین اب مزید تنازع نہیں چاہتا۔‘‘ دوسری جانب، بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ’’ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اس تنازعے کا سفارتی حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ فوجی سطح پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔‘‘ بھارت اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان روس کے دارالحکومت، ماسکو میں مذاکرات ہوئے،اس کا مطلب ہوا کہ روس بھی اس معاملے کو بات چیت سے حل کروانا چاہتا ہے۔

یاد رہے ، باقی دنیا نے بھی اسی قسم کا رویہ اپنایا ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ کورونا کی عالمی وبا ہے، جس نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے۔کسی کہ پاس اِتنی فرصت نہیں کہ وہ کسی کے سرحدی تنازعات میں دل چسپی لے، کیوں کہ سب ممالک کی اوّلین ترجیح اپنے عوام کی حفاظت ہے اور اُس کے بعد معیشت کی بحالی۔ اب ایسے وقت میں کون زمین کے ٹکڑوں اور 20 ہلاکتوں کی پروا کرے گا کہ جب ہزاروں ہم وطن موت کے منہ میں جا رہے ہوں؟ عوام بھی اس طرح کے معاملات میں مداخلت کو اپنی حکومتوں کی حماقت ہی سمجھیں گے کہ اپنی جانوں کے لالے پڑے ہیں۔

اسی تنازعے کے دَوران بھارت آٹھویں مرتبہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کا غیر مسقل رُکن منتخب ہوگیا۔ یہ پندرہ رکنی کاؤنسل دنیا کے امن کی ذمّے دار ہے۔ایشیاء پیسفک ریجن کی جانب سے، جس میں چین بھی شامل ہے، بھارت واحد متفّقہ امیدوار تھا۔چین سلامتی کاؤنسل کا مستقل رُکن ہے اور ویٹو پاور کا حق رکھتا ہے۔ اگر وہ بھارت کو روکنا چاہتا، تو اُس کے لیے مشکل نہ تھا۔ بھارت کو184 ووٹ ملے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی سیاست، علاقائی تنازعات کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ وزیرِ خارجہ، شاہ محمود قریشی نے اپنے ردّ عمل میں کہا کہ’’ پاکستان نے بھارت کے خلاف ووٹ دیا‘‘، تاہم یہ بھی مانا کہ بین الاقوامی اُمور میں سب کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔اس ضمن میں دو باتیں ذہن نشین کرنا ضروری ہیں۔

ایک تو یہ کہ چین اور بھارت کے درمیان تجارتی حجم ایک سو ارب ڈالرز سے تجاوز کرچُکا ہے، جس میں بھارت خسارے میں ہے۔دوسری بات یہ کہ1962 ء میں چین، بھارت جنگ کے موقعے پر پاکستان، امریکا کا حلیف اور جاپان، آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ وغیرہ کا مختلف دفاعی معاہدوں میں پارٹنر تھا، جیسے سیٹو اور سینٹو۔ یہ معاہدے بنیادی طور پر روسی کمیونزم کو روکنے کے لیے وجود میں لائے گئے تھے، جب کہ بھارت، روس کی طرف تھا۔ چین، بھارت جنگ سے کچھ دن قبل روس یو ٹو، جہاز کے معاملے پر پاکستان کے فوجی بیس کو صفحۂ ہستی سے مِٹانے کی دھمکی بھی دے چُکا تھا، جہاں سے یہ جاسوس طیارہ اُڑا تھا۔جب چین، بھارت جنگ ہوئی، تو روس نے بھارت کی پُشت پناہی شروع کردی۔چین کے خلاف نہ صرف دونوں سُپر پاورز نے بھارت کی زبردست حمایت کی، بلکہ اس کے لیے دونوں بلاکس کی طرف سے فوجی اور مالی امداد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔پاکستان کے صدر، جنرل ایّوب نے اس پر احتجاج کیا اور بتایا کہ بھارت کو دیا جانے والا یہ اسلحہ اب چین نہیں، پاکستان کے خلاف استعمال ہوگا، لیکن مغرب اور روس نے اُن کی بات مسترد کر دی۔یوں بھارت دیکھتے ہی دیکھتے ایک طاقت وَر مُلک کا رُوپ اختیار کر گیا۔ بے شک، اُسے میدانِ جنگ میں ہزیمت اُٹھانی پڑی، لیکن اُس کے بعد تو اُس کی گویا لاٹری ہی کُھل گئی۔ ہر مُلک چین کے خلاف اُس کی مدد میں پیش پیش ہوگیا۔

پاکستان اس حد تک اس صُورتِ حال سے مایوس ہوا کہ صدر ایّوب نے اپنی کتاب’’ فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ میں اس کے خلاف باقاعدہ اپنے جذبات کا اظہار کیا۔1965 ء کی جنگ میں بھی بھارت اور پاکستان دونوں پر مغربی ممالک، خاص طور پر امریکا نے اسلحے کی فراہمی پر پابندی لگادی، حالاں کہ پاکستان اُن کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں شریک تھا، جب کہ بھارت، روس اور دیگر ممالک سے اسلحہ لیتا رہا۔ چین پر زیادہ انحصار اسی کے بعد ہماری خارجہ پالیسی کا اہم حصّہ بنا۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ چین آج دوسری سب سے بڑی اقتصادی قوّت ہونے کے علاوہ سلامتی کاؤنسل کا مستقل رکن ہے۔ عالمی اداروں اور بہت سے مُلکوں پر اس کا خاصا اثرورسوخ ہے۔

آج 1962 ء کی طرح سب اس خلاف اکھٹے نہیں ہوں گے، لیکن کیا ہم خود مضبوط ہیں؟ ہماری معیشت کا یہ حال ہے کہ وزیرِ اعظم، عمران خان ہروقت غربت کی دُہائی دیتے رہتے ہیں۔ہمیں کشمیریوں کے جائز انسانی حقوق کے معاملے پر عالمی اور مسلم دنیا کی کتنی مدد مل سکی؟ یہ کوئی قصّۂ پارینہ نہیں، سال چھے مہینے پہلے کی بات ہے۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دنیا کی بے حِسی ہے کہ وہ کشمیر جیسے معاملے پر خاموش ہے، لیکن ہمارے وزیرِ خارجہ بتاتے رہتے ہیں کہ مختلف ممالک کے کیا مفادات ہیں اور وہ ان مفادات کو تَرک کرکے پاکستان کا ساتھ دیں، کم ازکم مستقبل قریب میں تو اس کا کوئی امکان نہیں۔

بھارت کے لیے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نریندر مودی اور صدر شی جن پنگ کے قریبی تعلقات بھی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعات ختم نہ کرواسکے۔نریندر مودی کی چین کے صدر سے چھے برسوں میں اٹھارہ بار ملاقاتیں ہوچُکی ہیں، جن میں سے چار تو ذاتی گھروں وغیرہ پر ہوئیں، لیکن اس پُرتشدّد واقعے کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھی ہے۔مودی کو اپنی قوم سے کہنا پڑا کہ’’ ہلاک ہونے والوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی‘‘، لیکن یہ بھی مُلکی مفادات کا پس منظر ہے کہ بیجنگ اور دہلی دونوں ہی تحمّل سے کام لے رہے ہیں۔دونوں طرف سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے، لیکن کوئی بھی اسے بڑے فوجی تصادم میں تبدیل کرنے کا نہیں سوچ رہا۔نیز، کسی قسم کی غیرمعمولی دھمکیوں کا بھی تبادلہ نہیں دیکھا گیا۔

یہ بات درست ہے کہ بھارت کو ایک مرتبہ پھر چین کی فوجی طاقت کے سامنے اپنی اوقات کا پتا چل گیا۔امریکا نے بھی اس مرتبہ جلدی میں فوجی سپلائی کی بجائے ثالثی پر اکتفا کیا، جسے بھارت نے مسترد کردیا۔ اس کی ایک وجہ تو کورونا ہے، جس نے دنیا کو ہلا دیا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب کوئی بھی بڑی طاقت اپنی معیشت جنگ کے شعلوں میں جھونکنے پر آمادہ نہیں۔