آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برٹش پاکستانی ملک میں کورونا کے پھیلاؤ سے تعلق کی جعلی رپورٹس پر خوفزدہ

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) برٹش پاکستانی ملک میں کورونا کے پھیلائو سے تعلق کی جعلی رپورٹس شائع ہونے کے بعد خوفزدہ ہیں۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ میں کورونا لانے کی بوگس رپورٹ نے 1.5 ملین پاکستانیوں کی زندگیوں کو خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ کمیونٹی نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بوگس رپورٹ کی وضاحت کی جائے، دائیں بازو کا پریس ناقابل بھروسہ اعدادوشمار ظاہر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ دائیں بازو کے اخبارات دی ٹیلی گراف، دی سن اور ڈیلی میل نے پاکستان اور برٹش پاکستانیوں پرالزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ میں درآمدی کورونا وائرس پھیلانے کے باعث 1.5 ملین پاکستانیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور ان پر نسل پرستوں اور اسلامو فوبک حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستانی کمیونٹی گروپوں نے پبلک ہیلتھ انگلینڈ اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سامنے آ کر حکومت سے تعلق رکھنے والے اخبارات میں شائع ہونے والے جھوٹے الزامات کو کلیئر کرے۔ خبر میں الزام عائد کیا گیاتھا کہ ملک میں باہر سے آنے والے کورونا وائرس کے 50 فیصدکیسز برٹش پاکستانی لائے ہیں۔ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ یہ خبریں مکمل طور پر بوگس اور بے بنیاد ہیں جوکہ قصداً پھیلائی گئی ہیں، یہ واضح طور پر پاکستان کے خلاف تعصب ہے۔ ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی خبر، جوکہ بعد ازاں دوسرے اخبارات میں شائع کی گئی، اس کی سپورٹ میں کوئی قابل اعتبار اعدادوشمار پیش نہیں کئے گئے۔ پاکستانی کمیونٹی رہنمائوں نے کہا ہے کہ کوویڈ۔19 ایک عالمی وبا ہے، جس سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے اور پاکستان کو الزام دینے سے کسی کو کوئی مدد نہیں ملے گی۔ ناہموار میڈیا رپورٹ میں اس بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک مخصوص وقت میں پاکستان سے برطانیہ آنے والوں میں سے 30 کورونا وائرس پازیٹیو کیسز تھے۔ وبا پھیلنے سے لے کر اب تک دنیا بھر سے وائرس برطانیہ لانے والوں کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ان میڈیا آئوٹ لیٹس نے یہ تمام ریکارڈ جمع کیا تھا اور کیا پاکستانیوں کے بارے میں کوئی جامع اعدادوشمار پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے رائٹ ونگ پریس کو دیئے تھے۔ کمیونٹی گروپ کے مطابق اس کا جواب نہیں میں ہے، میڈیا آئوٹ لیٹس نے ایک ملک کو بدنام کرنے کیلئے پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے اعدادوشمار کو غلط طور پر استعمال کیا اور 1.5 ملین برٹش پاکستانیوں کو خطرات میں مبتلا کر دیا ہے۔ پی ایچ ای نے تسلیم کیا ہے کہ دوسرے ممالک کے بارے میں اس حوالے سے کوئی اعدادوشمار پریس کو نہیں دیئے گئے۔ برطانیہ میں پاکستانیوں کے مطابق غیر مصدقہ اعدادوشمار کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک کو بدنام کرناغیر اخلاقی اور صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یکم مارچ سے رپورٹ فائل کئے جانے تک پاکستان سے 190 پروازوں کے ذریعے 65000 مسافر برطانیہ آئے۔ برٹش میڈیا میں غلط اعدادوشمار کی بنیاد پر رپورٹ جاری کی گئی۔ پاکستانی کمیونٹی نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ کیا ان رپورٹس کا جائزہ لیا گیا اور پوری دنیا سے برطانیہ آنے والے تمام مسافروں کے اعدادوشمار پیش کئے گئے۔ اس کا جواب نہیں میں ہے۔ اس لئے یہ امر نوٹ کرنا ضروری ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق مارچ سے دنیا بھر سے برطانیہ آنے اور جانے والی ہزاروں پروازیں آپریٹ کی گئی ہیں اور اس عرصہ کے دوران لاکھوں مسافر ملک میں آئے اور گئے ہیں۔ جن میں سے بیشترکا تعلق انتہائی خدشات والے ممالک سے تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری نے تین اخبارات میں اس طرز کی خبر شائع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹیوٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی کس طرح وائرس امپورٹ کر سکتے تھے جبکہ اس وقت برطانیہ وبا میں جکڑا ہوا تھا اور پاکستان میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔

یورپ سے سے مزید