آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مائنس ہو بھی جاؤں تمہاری جان نہیں چھوٹے گی، نظریئے پر قائم ہیں، ہماری حکومت کوئی نہیں گرا سکتا، اپنا مشن مکمل کریں گے، یہ این آر او بھول جائیں، وزیر اعظم عمران خان

اپنا مشن مکمل کریں گے، یہ این آر او بھول جائیں، وزیر اعظم عمران خان


اسلام آباد (ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ کرسی مضبوط ہے،آج ہیں کل نہیں ہیں‘میں نے نہیں کہا کہ میری حکومت نہیں جانے والی‘کرسی آنی جانی چیز ہے‘ جب تک ہم نظریہ اوراصول پرقائم ہیں کوئی ہماری حکومت نہیں گراسکتا‘ مشرف کی حکومت اچھی تھی لیکن این آراوبراتھا۔

یہ لوگ سوچ رہے ہیں کہ مجھے مائنس کرکے یہ بچ جائیں گے‘میںاگر مائنس ہو بھی گیا تو ان کی جان نہیں چھوٹے گی ‘اپنے مشن پر کاربند ہوں اوراس کو مکمل کریں گے ‘ہم ہرجگہ تحقیقات کریں گے اورجنہوں نے عوام کااستحصال کیا ہے ان کے پیچھے جائیں گے‘ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسٹاک ایکسچینج حملہ بھارت نے کرایا۔

پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے منصوبہ وہیں پر بنا‘ ہماری ایجنسیاں پہلے بھی 4حملے روک چکی ہیں ‘میں پاکستان کے سکیورٹی اورانٹیلی جنس اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں‘ نواز شریف نے اسی سیٹ پر کھڑے ہوکر جعلی کاغذات لہرائے ‘مسلم لیگ (ن) کاکوئی دین ایمان نہیں‘یہ کبھی جہادیوں سے پیسے لیتے ہیں اور کبھی لبرل بنتے ہیں‘6 ‘ 7لوگ این آر او لینا چاہ رہے ہیں‘یہ این آر او بھول جائیں ۔

میں ان کو کبھی بھی این آر او نہیں دوں گا‘اپوزیشن کی باتوں کا مائنڈ نہیں کرتا کیونکہ ان کا مجھے پتہ ہے‘ ان کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں‘ پاور سیکٹر عذاب بن گیاہے ‘ اداروں میں مافیاز بیٹھے ہیں‘جگہ جگہ کارٹیلز ہیں ‘ ان کو قانون کے تابع لائیں گے۔

اداروں میں تبدیلیاں اور اصلاحات لانا ہوں گی ‘اس سے نہیں ڈرنا کہ ہڑتال ہوجائے گی‘اگر اب بھی فیصلے نہ لئے تو پھر وقت نہیں رہے گا‘جو پیسہ بنارہا ہے وہ ٹیکس تو دے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ کی تکمیل پراظہارخیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ بجٹ سے ایک رات قبل ٹی وی شوز میں ایسا پیش کیا جاتارہاکہ کچھ بھی ہوسکتاہے اوریہ حکومت کاآخری دن ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ہماری سیکورٹی فورسز نے قربانیاں دیکرملک کوایک بڑے سانحہ سے بچایا ہے، ہندوستان نے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچارکرنے کیلئے ایک بڑا منصوبہ بنایا تھا‘یہ ممبئی طرز کا حملہ کرکے اور بے قصور لوگوں کوقتل کرکے پاکستان کو عدم استحکام اوربے یقینی کاشکاربنانا چاہتے تھے‘ کوئی شک نہیں کہ یہ حملہ ہندوستان سے ہواہے، پاکستان کے سیکورٹی ادارے الرٹ اورتیارتھے اوراللہ کا شکرہے کہ حملہ کو ناکام بنایا گیا‘میں پاکستان کے سیکورٹی اورانٹیلی جنس اداروں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں ۔

وزیراعظم نے کہاکہ میں شروع سے ہی مکمل لاک ڈاون کے حق میں نہیں تھا‘ہمارے جیسے لوگ یاسرکاری ملازمین جن کو ماہانہ تنخواہ ملتی ہے وہ مکمل لاک ڈاؤن برداشت کرسکتے ہیں لیکن مزدور اور دیہاڑی دارطبقہ کیاکرتا‘آگے بھی ہمیں چیلنجز کا سامناہے‘پاور سیکٹر اس ملک کیلئے ایک عذاب بنا ہواہے‘ اس شعبہ میں بہتری کیلئے ہمیں بڑے فیصلے کرنا ہوں گے ۔پی آئی اے اوردیگراداروں میں مافیاز بیٹھے ہیں.

11 برسوں میں پی آئی اے کے10سربراہان کو ہٹایا گیا‘اس صورتحال میں اصلاحات ناگزیرہیں، ریلویز، پی آئی اے، اورسٹیل ملز میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں‘حکومت 4 سالوں میں تنخواہوں کی مد میں 34 ارب اداکرچکی ہے‘اصلاحات نہ کیں تو بری صورتحال کا سامنا کرنا پڑیگا‘اس ملک میں چینی پر29 ارب کی سبسڈی دی جاتی ہے تودوسری طرف صرف 9 ارب کا ٹیکس دیا جاتاہے‘غریب عوام اورغریب کسانوں کولوٹا جاتا رہا ‘ہمارا مشن ہے کہ اس سلسلہ کو روکا جائے۔

سب کو قانوں کےنیچے لانا میرا مشن ہے ، اگرماضی میں حکومتیں سرپرستی نہ کرتی تو ایساممکن نہ تھا، نوازشرف اورآصف زرداری کی شوگرملز ہیں، کالے دھن کو سفیدبنانے کیلئے شوگرملز بنائی جاتی رہیں‘ وزیراعظم نے کہاکہ قائمقام اپوزیشن لیڈرنے ایوان میں ان پرطنز کیا۔

مجھے ان کی باتوں سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان ساروں کے اگلے پچھلوں کا سارا پتہ ہے، یہی آدمی واشنگٹن میں ایشیا سوسائٹی کوانٹرویو دیتاہے ان سے سوال ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اورپی ایم ایل نون میں فرق کیاہے۔ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم لبرل ہیں اوریہ دینی جماعتوں کے ساتھ ہیں، یہ لبرل ہے لیکن لبرلی کرپٹ ہیں۔

یہ جب مغرب میں جاتے اورامریکا سے کہتے کہ مجھے بچالو میں آپ کی طرح لبرل ہوں، ورنہ انتہاء پسند آجائیں گے۔پاکستان میں گزشتہ 30 سالوں میں جو ظلم ہواہے وہ اخلاقیات کی پستی ہے، نوازشریف اسی ایوان میں تقریرکررہاتھا کہ جناب یہ ہے وہ دستاویزات جن کاپوچھا جارہاہے۔

اس کی بدقسمتی تھی کہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا، سپریم کورٹ نے ان دستاویزات کو جعلی قرار دیا ، اس کے بعد جعلی قطری خط پیش کیاگیا،جب ملک کا سربراہ جھوٹ بول رہاتھا اور پاکستان کاپیسہ باہرجارہاتھا تو یہی صاحب ان کو کہہ رہے تھے کہ میاں صاحب قوم پانامہ کو بھول جائیگی، ان لوگوں نے پاکستان کی اخلاقیات ختم کردی ہے۔

جن کوسپریم کورٹ نے کرپٹ قراردیا یہ لوگ ان کو لیڈرکہہ رہے ہیں ،22 کروڑ عوام کا وزیراعظم دبئی میں نوکری کررہاہے جبکہ وزیردفاع 5 سال تک دبئی کی ایک کمپنی سے تنخواہ لے رہاہے‘وزیراعظم نے کہاکہ ان کا مسئلہ ہے کہ کسی طرح سے یہ حکومت ختم ہوجائے۔

پہلے دن سے یہ حکومت ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں‘ پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت فیل ہوگئی ہے۔ان کوڈرہے کہ ہمیں پتہ چل رہاہے اورچیزیں مل رہی ہے اس لئے یہ ڈررہے ہیں اورکوشش میں ہیں کہ ان کی چوری بچ جائے۔ 

اہم خبریں سے مزید