آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت نامکمل، میر شکیل کو رہا کیا جائے، مقررین

آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت نامکمل، میر شکیل کو رہا کیا جائے، مقررین  


کراچی، لاہور ، پشاور ، کوئٹہ، راولپنڈی (اسٹاف رپورٹر، نمائندگان جنگ ) ایڈیٹر انچیف جنگ وجیو گروپ کی گرفتاری کیخلاف لاہور ، پشاور ، کوئٹہ اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور احتجاجی کیمپوں کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہا ، اس موقع پر سیاسی رہنمائوں ، صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں اور مختلف طبقہ ہائے شرکت سے تعلق رکھنے والے افراد اور شخصیات کی شرکت ، جنگ وجیو کے ملازمین سے اظہار یکجہتی ، میر شکیل کی رہائی کا مطالبہ ، مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے، منگل کو جنگ ایمپلائز یونین کوئٹہ کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ، جس میں نیشنل پارٹی کے وفد نے خصوصی طور پر شرکت کی ، مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر اسحٰق بلوچ ، سابق صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ ، بی ایس او پجار کے صدر زبیر بلوچ اور جنگ ایمپلائز یونین کے صدر حماد اللہ سیاپاد نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری میڈیا کی زبان بندی کی ناکام کوشش ہے ، جس طرح ہر دور میں جمہوریت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی اسی طرح صحافت کو تابع بنانے کیلئے بھی حربے استعمال کیے گئے، جنگ ایمپلائز یونین کے صدر حماد اللہ سیاپاد نے نیشنل پارٹی کے رہنمائوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آزادی صحافت کیلئے جنگ و جیو کا ساتھ دیکر حوصلہ افزائی کی ، لاہور میں ڈیوس روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں مقصود بٹ،ظہیر انجم، شہاب انصاری ،اویس قرنی، محمد فاروق، محمد شاہد، عزیز شیخ، اکمل بھٹی، منور حسین، محمد علی،محمد شفیق، وہاب خانزادہ، اللہ رکھا بٹ، افضل عباس، جنگ جیو کے ورکرز سمیت مختلف شعبہ زندگی سے افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر میرشکیل الرحمان کی رہائی کیلئے نعرہ بازی بھی کی گئی، پشاور میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومتی اقدام کو آزادی صحافت پر حملہ اور حق و سچ کی آواز دبانے کی سازش قراردیا اور سپریم کورٹ سے میر شکیل الرحمان کی غیر قانونی گرفتاری کیخلاف از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، روزنامہ جنگ راولپنڈی کے باہر مری روڈ پرمنگل کو احتجاجی مظاہرہ میں کیاگیا،اس موقع پرنعرے بازی بھی کی گئی ۔شرکاء نےجعلی ریفرنس نامنظور،جھوٹا ریفرنس نامنظور،میر شکیل الرحمان کو رہا کرو،پاکستان زندہ بادکے نعرے لگائے،احتجاج میں جنگ راولپنڈی کے حنیف خالد ،پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی،فاروق اقدس،رانا غلام قادر ،جنگ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئر مین ناصرچشتی اور دیگر نے شرکت کی ،معروف بزنس مین یحی پولانی نے کہا ہے کہ میرشکیل الرحمان کو34 سال پرانے جس کیس میں گرفتار کیا گیا وہ باکل جھوٹا اور بے بنیاد ہے، انہیں فوری ضمانت پر رہا کیا جائے، وہ ایک کاروباری آدمی ہیں۔ جنگ اور جیو حق اور سچ لکھتا ہے اور دکھاتا ہے اس ادارے کو تباہ نہ کیا جائے، میرا ایک بزنس مین کی حیثیت سے کہنا ہے کہ پاکستان میں بزنس مینوں کو تنگ نہیں کیا جائے۔ ۔ پولانی ٹریولرز کے مالک یحی پولانا کا کہنا ہے حکومت اور نیب کو سوچنا چاہئے کہ وہ کن لوگوں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ ملک کے شریف شہریوں کو اگر اس طرح تنگ کیا جائے گا تو وہ اپنا کاروبار سمیٹ کر پاکستان سے باہر جانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ جنگ اخبار میرخلیل الرحمان صاحب نے نکالا ان کی نیک نامی اس ملک میں ابھی بھی قائم ہے۔ ان کے کاروبار کو میرشکیل الرحمان نے سنبھالا وہ کوئی غلط طریقے سے اپنا کاروبار تھوڑی چلا رہے ہیں ان کا خاندان پاکستان میں عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جنگ اخبار نے پاکستان کی خدمت کی یہی وجہ ہے کہ جنگ اور جیو کی پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں زوق و شوق سے پڑھا اور دیکھا جاتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ لوگ اس پر یقین کرتے ہیں۔ ورنہ تو پاکستان میں بے تحاشہ اخبارات اور چینلز ہیں جن کو لوگ سرسری طور پر دیکھتے ہیں لیکن جنگ اور جیو کو باقاعدہ زوق و شوق سے پڑھا اور دیکھا جاتا ہے۔میں حکومت سے درخواست کروں گا کہ انہیں فوری طور پر ضمانت پر رہا کیا جائے اگر حکومت کو کوئی شک ہے تو ان کا پاسپورٹ رکھ لیں انہیں باہر نکالیں تاکہ وہ اپنا کیسر بہتر طریقے سے لڑ سکیں۔ ان کا جرم اتنا سنگین نہیں ہے کہ آپ نے تین ماہ سے زائد پابند سلاسل کیا ہوا ہے۔ آپ ان کی جان تو نہیں لے سکتے۔ 

اہم خبریں سے مزید