• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوگر ملز جان نہیں چھڑا سکتیں، کمیشن رپورٹ ختم ہونے سے بھی نہیں ملے گا، ادارے رپورٹ کا حوالہ دیئے بغیر بھی کارروائی کرسکتے ہیں، چیف جسٹس گلزار

شوگر ملز جان نہیں چھڑا سکتیں، کمیشن رپورٹ ختم ہونے سے بھی نہیں ملے گا،چیف جسٹس


اسلام آباد (نمائندہ جنگ/ مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ پر کارروائی روکنے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکلاءسے تحریری دلائل طلب کر لئے ہیں اور آئندہ سماعت پر کیس تین رکنی بنچ میں مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ رپورٹ کالعدم قراردی جائے تومعاملےپر دس سال لگ سکتے ہیں۔ 

جمعرات کو وفاقی حکومت کی اپیل کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن کمیشن کی رپورٹ سے جان نہیں چھڑا سکتی ، کمیشن غیر قانونی قرار دے دیں پھر بھی رپورٹ ختم نہیں ہو گی نہ ہی ریگولیٹری اداروں کو کام سے روکا جاسکتاہے۔

 کمیشن رپورٹ کالعدم ہونے سے بھی شوگر ملز کو کچھ حاصل نہیں ہو گا ، اب یہ ممکن نہیں کہ کچھ ملزمان کے خلاف کارروائی سے روکا جائے اور باقی کے خلاف کارروائی جاری رہے ، ادارے رپورٹ کاحوالہ دیئے بغیر کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں ، یہ محض کمیشن رپورٹ ہے ، اس پر شوگر ملز حکم امتناع کیوں لینا چاہتی ہیں ، شوگر کمیشن کی رپورٹ پر مل مالکان کی تشویش کیا ہے؟ ابھی کسی شوگر مل کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔

 کمیشن کی رپورٹ شوگر مل مالکان کو متاثر کیسے کر سکتی ہے ، حکومت کئی مواقع پر کمیشن بنا چکی لیکن رپورٹس سامنے نہیں آئیں ، کیا آپ چاہتے ہیں کہ عدالت کمیشن کی رپورٹ کالعدم قرار دے ، شوگر کمیشن رپورٹ سے شوگر مل والوں کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ، چینی عوامی نوعیت کا ایشو ہے ، کیا شوگر کمیشن رپورٹ بطور ثبوت استعمال ہو سکتی ہے؟

 جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ک آپ چاہتے ہیںمتعلقہ ادارے نئے سرے سے کارروائی شروع کریں، کیا کمیشن کی رپورٹ پر شوگر ملز کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا، شوگر مل مالکان کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ  عدالت نے دیکھناہے کہ کیا کمیشن قانون کے مطابق بنایا گیا۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ کمیشن رپورٹ میں شوگر ملز پر بہت سے الزامات سامنے آئے ہیں ، فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے سامنے موقف دینے کی ضرورت نہیں تھی ، تاحال کمیشن کی کارروائی کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا ، تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز کو فعال کر دیا گیا ہے۔

 کمیشن کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کے مترادف ہے ، شوگر ملز کی درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کاتو ذکر ہے لیکن سندھ ہائی کورٹ کے عبوری حکم میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا ذکر نہیں ہے ، کچھ شوگر ملز مالکان کے پی اور کچھ بلوچستان ہائی کورٹ چلے گئے ، کچھ شوگر مل مالکان نہیں چاہتے کہ رپورٹ پر حکام کارروائی کریں۔

شوگر کمیشن کی رپورٹ میں سیاسی اتحادیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ، تسلیم کرتا ہوں کہ کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہئے ، حکومت کو کہہ دیا کہ کسی ادارے کو معاملے پر ہدایات نہ دیں بلکہ رپورٹ پر اداروں کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے ، وفاقی کابینہ نے میری سفارش پر اداروں کو دی گئی ہدایات واپس لے لی ہیں ، رپورٹ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ملی بھگت کیسے ہوئی ، 11 سال سے مسابقتی کمیشن کا حکم امتناع چل رہا ہے۔

 اس موقع پر شوگر مل مالکان کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ ایگزیکٹو احکامات کو مالکان نے مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کیا ، ہائی کورٹس سے مالکان کا رجوع کرنا معمول سے ہٹ کر نہیں ہے ، شوگر مل ایسوسی ایشن نے ذاتی حیثیت سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ، کمیشن کی رپورٹ میں محض سفارشات دی گئی ہیں ، کسی رپورٹ میں متاثر کن فائنڈنگ آئے تو دعوی دائر کیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے دیکھناہے کہ کیا کمیشن قانون کے مطابق بنایا گیا ، دیکھنا ہو گا کہ کیا کمیشن غیر جانبدار تھا ، دیکھنا ہوگا کہ کیا کمیشن نے شوگر ملز مالکان کا موقف سنا ، اگر ان چیزوں کا خیال نہیں رکھا جاتا تو عدالتیں مداخلت کر سکتی ہیں ، حکومت کہتی ہے کہ عوام پر ایک طبقے کا قبضہ ہوگیا ہے۔

حکومت اگر ریاستی اداروں کی مدد سے اس چیز کو نہیں روک سکتی پھر یہاں کیوں بیٹھے ہیں ، کمیشن کے قیام کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ، کسی بھی انکوائری کمیشن کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہونا لازمی ہے ، وفاقی کابینہ نے شوگر کمیشن رپورٹ تسلیم کرلی ہے۔

کمیشن ارکان پر جرح کے بغیر رپورٹ بطور ثبوت استعمال نہیں ہو سکتی ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کرچکے ہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابھی تک تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا ، سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل ہوا تو سارا کیس ہی ختم ہوجائے گا۔

 جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی مقدمے میں فیصلہ دیا ہے ، کیا سندھ ہائی کورٹ کے علم میں یہ بات نہیں لائی گئی ، کیا کمیشن کی رپورٹ پر شوگر ملز کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا ، سندھ ہائی کورٹ کے پا س وہی مل مالکان گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ گئے۔

ایک ہی ایسو سی ایشن دو مختلف ہائی کورٹس سے کیسے رجوع کرسکتی ہے ، بظاہر کمیشن نے فیکٹ فائنڈنگ کی ، کمیشن نے ڈیل اور بہت سی چیزوں کی نشاندہی کی ، کمیشن کی رپورٹ متعلقہ اداروں کو کارروائی کے لئے بھیجی گئی ہے ۔

ریاستی ادارے اگر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہیں تو اپنا موقف وہاں پیش کریں ، رپورٹ کے مطابق شوگر مل والوں کو نہیں سنا گیا ، چینی کی قیمتیں بڑھنے پر پورے ملک میں شور مچا ، کابینہ نے رپورٹ متعلقہ اداروں کو بھجوا دی ہے ، آپ چاہتے ہیں کہ رپورٹ کو کالعدم قرار دیا جائے ، متعلقہ ادارے پھر صفر سے کام شروع کریں ، اس طرح تو معاملے پر دس سال لگ جائیں گے۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ کمیشن کی تشکیل قانون کے مطابق تھی ، یہ بہت بڑا ایشو ہے جس سے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ 

کمیشن میں ممبران کے نام سب کے سامنے تھے ان کو کسی نے چیلنج نہیں کیا ، کمیشن کی تشکیل غیر قانونی تھی تو وہ پہلے چیلنج کیوں نہیں کی ، کمیشن کے ارکان شوگر ملز کے خلاف کیوں جانبدار ہوں گے ، گزٹ نوٹیفیکیشن اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی چیز خفیہ نہ رہے۔

شوگر کمیشن کے تشکیل کی تشہیر پورے میڈیا میں ہوئی ، انٹرا کورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں ، عدالت نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکلاءسے تحریری دلائل طلب کرتے ہوئے شوگر کمیشن رپورٹ پر کارروائی روکنے کے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کردی۔ 

مزید سماعت 14 جولائی کو ہوگی۔ 

تازہ ترین