آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

(گزشتہ سے پیوستہ)

راوی دریا پر لوگ صبح سویرے نہایا بھی کرتے تھے اور گرمی زیادہ ہو تو دوپہر کو بھی لوگ یہاں نہانے آ جاتے تھے۔ اب تو راوی گندا نالا بن چکا ہے۔ کئی جادو ٹونے کرنے والے جعلی عامل بھی راوی کے کنارے جھونپڑیوں میں بیٹھے رہتے تھے، آج سے پچاس ساٹھ برس قبل پرانے لاہوریوں نے بڈھا دریا بھی دیکھا ہوگا۔ اصل میں کبھی راوی شاہی قَلعے کے ساتھ بہتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ وہ موجودہ جگہ پر آ گیا۔ بڈھا دریا بھی کچھ عرصے تک چلتا رہا، پھر یہ بھی گندا نالا بن گیا اور بعد میں یہاں مینارِ پاکستان تعمیر کر دیا گیا۔ ہم نے راوی میں کامران کی بارہ دری شکستہ حال میں دیکھی تھی۔ کئی مرتبہ اسکول سے بھاگ کر ہم دریائے راوی پر کشتی چلانے آتے تھے۔ گھنٹوں کشتی چلانی، پیاس لگنے پر ہاتھوں کی بُک بنا کر راوی کا پانی پینا۔ کبھی پیٹ اور طبیعت خراب نہ ہوتی تھی، کبھی کبھار کئی طرح کی مچھلیاں ہماری کشتی میں آ گرتی تھیں؎

خواب و خیال ہوئی ہیں محبتیں کیسی

لہو میں ناچ رہی ہیں وحشتیں کیسی

ہائے اس شہر میں اب کوئی روایت زندہ نہیں۔ نئی نئی بستیاں ضرور بن گئی ہیں مگر اب یہ شہر زندہ دلوں اور باغات کا شہر نہیں رہا۔ کبھی راوی میں دس اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی تھیں، اس کا ذکر لاہور گریٹر 1883-84میں بھی ہے۔ ان مچھلیوں میں موری، سول، شیر ماہی یا ماہ شیر، تھیلا یا کتلا، ڈولہ، بام، بچوا، کھگا، پری، گولدہ اور سنگھری شامل تھیں۔ اب تو راوی میں ہر نسل اور قسم کا کیڑا اور دیگر خطرناک حشرات الارض ملیں گے۔ ہم نے اپنے کسی گزشتہ کالم میں میلا رام کی مل کا ذکر کیا تھا۔ تو گزشتہ ہفتے ہمیں لاہور ٹائون شپ سے ایک شہری محمد اسحاق علی اختر کا فون آ گیا، جو 1946سے 1952تک گورنمنٹ کالج لاہور (اب یونیورسٹی) میں زیر تعلیم رہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ میلا رام کی ٹیکسٹائل مل داتا دربار کے پاس تھی اور ان کا مکان (جو آج بھی موجود ہے) اس مل کے سامنے تھا، انہوں نے اس مل میں بطور آپریٹر کام بھی کیا ہے۔ یہ بات ہم اس لئے تحریر کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر میلا رام کی مل کو واپڈا ہائوس کی جگہ پر بتایا جاتا ہے جبکہ ہم نے اور محترم یاسر پیرزادہ نے بھی یہاں ٹیکسی اسٹینڈ اور ایک ہوٹل نینڈوز اور کچھ کھلا علاقہ دیکھا ہے۔ ہم نے خود میلا رام مل کے آثار دیکھے ہیں۔ میلا رام نے ہی حضرت علی ہجویریؒ کے مزار مبارک پر بجلی لگوا کر دی تھی۔ لاہور واقعی داتا کی نگری اور داتا کا شہر ہے۔

لاہور میں شادی پر کیٹرنگ، شامیانے اور کھانے پینے کے انتظام کی روایت رولدُو محمد الدین نے ڈالی تھی۔ رولدُو محمد الدین لوہاری دروازہ کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے تقریبات میں ٹینٹ، شامیانے، گارڈن چھتریاں اور کیمپ کے لئے خصوصی ٹینٹ لگانے کا سلسلہ پہلی مرتبہ شروع کیا تھا۔ ایوب خاں کے دور میں جتنے بھی ہارس اینڈ کیٹل شوز ہوئے ان میں ان کے شامیانے صوفے اور کرسیاں لگا کرتی تھیں۔ لاہور کی ہر شادی میں ان کی کیٹرنگ کو امارت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ لاہور میں اس کے علاوہ نظام الدین، منظور سنز، ظہور سنز اور ملک چراغ دین لاہور ٹینٹ سپلائی کمپنیاں بھی تھیں۔ اب پتا نہیں یہ سب لوگ کہاں چلے گئے۔

رات کی شادی کی تقریبات میں کیروسین آئل کے لیمپ ہوا کرتے تھے۔ یہ بڑے روشن لیمپ ہوتے تھے۔ بھاٹی گیٹ میں ان کی دکانیں ہوتی تھیں۔ یہ لیمپ کرائے پر ملتے تھے۔ جو لوگ رات کو ٹھیلے پر پھل اور ڈرائی فروٹ فروخت کرتے تھے وہ یہ لیمپ ضرور جلایا کرتے تھے۔ کیا منظر ہوتا تھا۔ ایک طرف سردی دوسری طرف کیروسین کے لیمپ جل رہے ہوتے تھے۔ ویسے مال روڈ پر بھی ایک زمانے تک تیل کے لیمپ کھمبوں پر جلائے جاتے تھے۔ یہ کھمبے (پول) صرف لیمپوں کے لئے بنائے گئے تھے۔ بینک اسکوائر پر ایک ایسا ہی لیمپ 1985ء تک رہا، بعد میں کارپوریشن کے کسی ظالم شخص نے اس یادگار لیمپ والے کھمبے کو وہاں سے ہٹا دیا۔ یہ کھمبا ہم نے کئی مرتبہ دیکھا۔ اس کو کبھی بتی والا چوک بھی کہتے تھے حالانکہ لاہور میں پہلا خودکار ٹریفک سگنل سب سے پہلے ٹولنٹن مارکیٹ کے پاس لگا تھا۔ کبھی اس کو بھی بتی والا چوک کہتے تھے۔ لاہور میں کبھی اومنی بس سروس چلا کرتی تھی۔ بہترین سروس تھی۔ ریگل چوک کے بس اسٹاپ پر ایک ٹائم کیپر بیٹھا کرتا تھا۔ اس کے پاس پرانے زمانے کا کالے رنگ کا ٹیلی فون سیٹ پڑا ہوتا تھا اور سامنے ایک گھڑی لگی ہوتی تھی۔ وہ لوگوں کو بتایا کرتا تھا کہ بس کتنے بجے آئے گی اور واقعی اس وقت پر بس آ جاتی تھی۔ ایک ٹائم کیپر بھاٹی گیٹ اور ایک اسٹیشن پر بھی بیٹھا کرتا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ اگر بس خراب ہو جائے تو فون کر کے دوسری بس منگوائی جاتی تھی جو چند منٹ میں آ جاتی تھی۔ بعض بسیں آدھی ہوتی تھیں اور آدھی پر کرین ہوتی تھی۔ دس پیسے کا ٹکٹ ہوا کرتا تھا۔ پھر ڈبل ڈیکر آ گئی۔ ہر کوئی اس کی اوپر والی منزل پر بیٹھنا پسند کرتا تھا۔ سب سے لمبا روٹ 1نمبر بس کا تھا۔ کرشن نگر آخری بس اسٹاپ سے آر اے بازار تک کا۔ پھر اومنی بس کا ادارہ بھی کرپشن کا شکار ہو گیا اور اس کی اربوں روپے کی زمین فروخت کر دی گئی۔ اس کا اچھرے والا بس ڈپو بڑا مشہور تھا۔ لاہور میں ماڈل ٹائون سوسائٹی کی اپنی بس سروس تھی جو صرف ماڈل ٹائون سے رتن چند روڈ پر پاکستان ٹائمز، امروز، لیل و نہار اور اسپورٹس ٹائمز کے دفاتر تک آتی تھی۔ اس میں صرف ماڈل ٹائون کے رہائشی ہی سفر کرتے تھے۔ یہیں بھارت بلڈنگ تھی جس کا اب نام و نشان نہیں۔ بہت اونچی عمارت تھی، لکڑی کی سیڑھیاں تھیں۔ (جاری ہے)

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)