آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
وزیر تجارت نے آئندہ 3 سالہ تجارتی پالیسی ’’اسٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک‘‘ 2015-18ء کا اعلان کیا ہے۔ تجارتی پالیسی کا مقصد ملکی ایکسپورٹ کو فروغ دینا ہوتا ہے لیکن گزشتہ 2 سالوں سے ملکی ایکسپورٹس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وزیر تجارت نے وجہ عالمی مندی بتائی ہے۔ اُنکے بقول رواں مالی سال چین کی ایکسپورٹس میں 25%، تائیوان کی 14%، بھارت کی 17% اور پاکستان کی 14% کمی آئی ہے۔ نئی تجارتی پالیسی کے چار اہم اہداف مقرر کئے گئے ہیں۔ پالیسی کے تحت آئندہ تین سالوں میں ملکی ایکسپورٹس کا ہدف 35 ارب ڈالرمقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے نئی پالیسی میں ویلیو ایڈیشن کی بنیاد پر ایکسپورٹرز کو مراعات دینے کا اعلان کیا ہے۔ نئی تجارتی پالیسی میں مصنوعات کے تنوع، نئی تجارتی منڈیوں کی تلاش اور مارکیٹ رسائی پر زور دیا گیا ہے۔ وزیر تجارت کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ہمارے جامع مذاکرات کا اہم جز ہیں۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں ہٹنے کے بعد پاک ایران تجارت میں نئی راہیں کھلیں گی۔ پاکستان کی ترجیحات میں چین، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہے۔ ایکسپورٹس کے فروغ کیلئے حکومت نے نئی تجارتی پالیسی میں ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن (TUGF) کے تحت نئی پلانٹس مشینری کی امپورٹ پر 20% انویسٹمنٹ سپورٹ اور 50%

سالانہ مارک اپ سپورٹ (زیادہ سے زیادہ ایک ملین روپے) کا بھی اعلان کیا ہے۔ لیدر، فارما سیوٹیکل، فشری اور سرجیکل مصنوعات کی ڈویلپمنٹ کیلئے 5 ملین روپے کی میچنگ گرانٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔فرنیچر، کھانے پینے کی اشیاء ،اسپورٹس، چمڑے، جوتے، سرجیکل آلات،کٹلری، فارماسیوٹیکل اور انجینئرنگ مصنوعات کو گزشتہ سال کی درآمدات کی یونٹ پرائس کی بنیاد پر 4% سے 10% کا ریفنڈ دیا جائے گا جس کیلئے وزیر تجارت نے 6 ارب روپے پارلیمنٹ سے منظور کرالئے ہیں۔
3 سالہ تجارتی پالیسی 2015-18ء کا اعلان 9 ماہ تاخیر سے کیا گیا ہے کیونکہ گزشتہ تجارتی پالیسی 30 جون 2015ء کو ختم ہوچکی تھی اور اس طرح نئی تجارتی پالیسی کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے صرف 2 سال باقی ہیں۔ حکومت کی 300 ارب روپے کی ریفنڈز کی عدم ادائیگی کو دیکھتے ہوئے نئی تجارتی پالیسی کی مد میں باقی 3 مہینوں میں 6 ارب روپے کی سپورٹ ایکسپورٹرز کو ادا کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ ملکی ایکسپورٹس میں 14% کمی کو دیکھتے ہوئے مجھے رواں مالی سا ل اور آنیوالے 2 سالوں میں 11 ارب ڈالر کے اضافے سے 35ارب ڈالر کا ایکسپورٹ ہدف بھی نہایت مشکل نظر آتا ہے۔ قارئین! میں اپنے گزشتہ کئی کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ ہم بہترین پالیسیوں کا اعلان کرتے ہیں لیکن حکومت کے وقت پر فنڈز اجراء نہ کرنے کی وجہ سے ان پالیسیوں میں دی گئی اسکیموں اور مراعات پر عملدرآمد نہیں ہوپاتا اور کچھ عرصے بعد یہ پالیسیاں فائلوں کا مقدر بن جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے پاکستان کی پہلی 5 سالہ قومی ٹیکسٹائل پالیسی 2009-14ء جو خطے کے دیگر ممالک کی پالیسیوں کا موازنہ اور ملکی زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر بنائی تھی، پر صرف ڈیڑھ سال بمشکل 30% عمل کیا گیا۔ دوسری ٹیکسٹائل پالیسی 2014-19ء کا نوٹیفکیشن ایک سال کی تاخیر سے آیا۔ اسکے علاوہ پالیسی میں اعلان کردہ اسکیموں اور مراعات کی مد میں فنڈز جاری نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کے اربوں روپے کے کلیموں ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ میں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ان پالیسیوں کیلئے ہر سال قومی بجٹ میں مطلوبہ فنڈز مختص کئے جائیں تاکہ ان پالیسیوں کو جاری رکھنے کیلئے وقت پر فنڈز جاری کئے جاسکیں۔ واضح رہے کہ 1995ء میں جب ویت نام اور پاکستان کی ایکسپورٹ 5 ارب ڈالر تھی مگر 2015ء میں ویت نام کی ایکسپورٹ 150 ارب ڈالر تک پہنچ گئی لیکن پاکستان کی ایکسپورٹ صرف 24 ارب ڈالر تک محدود رہی جس کی بڑی وجہ حکومتی پالیسیوں پرعملدرآمد نہ ہونا ہے۔ پاکستان کے بیرون ملک سے آنے والی تمام ایکسپورٹس پیمنٹس پر بینک اربوں روپے کی ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج (EDF) کی کٹوتی کرکے اِسے وزارت خزانہ کو منتقل کردیتے ہیں جس میں سے وزارت خزانہ ہر سال صرف 20 فیصد EDF کو ادا کرتی ہے جبکہ ایکسپورٹرز کے یہ فنڈز صرف ملکی ایکسپورٹس کو فروغ دینے کیلئے استعمال ہونے چاہئیں تاہم نئی تجارتی پالیسی میں یہ EDF کے فنڈز ہر سال وزارت تجارت کو منتقل کردیئے جائیں گے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ ہمارا زیادہ تر انحصار ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹس پر رہا ہے جو مجموعی ایکسپورٹس کا تقریباً 55% ہے۔ ہمیں اپنی ایکسپورٹس میں مصنوعات کو تنوع دے کر آئی ٹی، جیولری، فارماسیوٹیکل، کاسمیٹک اور چاول کی ایکسپورٹس کو فروغ دینا ہوگا۔
نئی تجارتی پالیسی میں فارماسیوٹیکل، کاسمیٹک اور چاول کے ایکسپورٹ کے فروغ کیلئے ایکسپورٹ پروموشن کونسل کا قیام جو غیر روایتی مصنوعات کی ایکسپورٹس کیلئے ایک مثبت قدم ہے۔ ہمارے ملک میں ہنرمند ورکرز کی قلت ہے جس کی وجہ سے ہماری صنعتوں کی پیداواری استطاعت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ میں نے اپنے دور حکومت میں اس پر ایک اسٹڈی کروائی تھی جس کے تحت پاکستان میں گارمنٹس انڈسٹری میں ہمارے ورکرز کا نیڈل فوکس ٹائم یعنی کپڑا سینے کی مشین کی سوئی پر توجہ نہایت کم ہے۔ کام کے دوران ہمارے کاریگر کی ارادی یا غیر ارادی طور پر بار بار توجہ مشین کی سوئی سے ہٹتی ہے جس سے پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ بیرون ملک کئے گئے ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مرد و خواتین ورکرز کے مختلف رنگ کی یونیفارم بھی ان کی توجہ متاثر کرنے کا سبب بنتی ہیں۔پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیشی ورکرز کی پیداواری صلاحیت زیادہ ہے لہٰذا ہمیں اسکل ڈویلپمنٹ کے ذریعے اپنی ان کوتاہیوں پر قابو پانا ہوگا۔ہم اب تک جی ایس پی پلس کے تحت یورپی یونین کے 27 ممالک کو ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کی مراعات کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھاسکے ہیں۔ ہمیں مارکیٹ رسائی کیلئے دیگر ممالک سے بھی ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) اور آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کرنے ہونگے جس میں ایران، ترکی سے ایسے تجارتی معاہدے ہماری ترجیح ہونا چاہئے۔ ایران پر عالمی معاشی پابندیوں کے تحت جب بینکنگ چینل سے ایران کیساتھ تجارت ممکن نہیں رہی تھی تو بھارت نے بارٹر ٹریڈ (Barter Trade) معاہدے کے تحت ایران سے تیل کے بدلے باسمتی چاول اور دیگر مصنوعات ایکسپورٹ کیں اور اس طرح بھارت نے پاکستانی باسمتی چاول کی مارکیٹ کا بڑا حصہ حاصل کرلیا جبکہ ہمارا ایران کیساتھ بارٹر ٹریڈ معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم ایران سے اشیاء کے بدلے تجارت نہ کرسکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت پاکستان کے علاقائی روابط برقرار ہوجانے کے بعد ہمیں علاقائی تجارت کے مواقع ضائع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ گوادر بندرگاہ کے بعد چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کی پاکستان کے راستے نہایت کم وقت اور کم لاگت میں تجارت ہوسکے گی۔ آخر میں حکومت سے درخواست ہے کہ وہ نئی تجارتی پالیسی 2015-18ء جس کے صرف تقریباً 2 سال باقی رہ گئے ہیں، پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرکے مطلوبہ اہداف حاصل کرے، ایسا نہ ہو کہ یہ تجارتی پالیسی بھی گزشتہ پالیسیوں کی طرح موثر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے اپنے اہداف حاصل نہ کرسکے اور ہم خطے کے دیگر مقابلاتی حریفوں کے مقابلے میں اپنی ایکسپورٹ نہ بڑھاسکیں۔