آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کتوں کو پارک گاڑیوں میں چھوڑنا سارا سال ہی خطرناک ہے

لندن (پی اے) ایک ریسرچ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ کتوں کو پارک گاڑیوں میں چھوڑنا ممکنہ طور پر سارا سال ہی خطرناک ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ موسم سرما میں بھی جب درجہ حرات کم ہوتا ہے۔ ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی ڈاگ ویلفیئر کے ماہرین کی ایک سٹڈی میں پتہ چلا کہ کاروں کے اندر سارا سال ہی ٹمپریچر خاصا گرم ہوتا ہے، جو کتے کی صحت کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے اپنی ریسرچ میں دو سال تک برطانیہ میں روزانہ کاروں کے اندر کے ٹمپریچرز کا جائزہ لیا، جن میں کوئی کتا نہیں تھا۔ ریسرچ میں سامنے آیا کہ سال کے ہر مہینے میں 25 سینٹی گریڈ سے درجہ حرارت کا تجاوزکرنا بل ڈاگس اور پگس جیسے فلیٹ فلسز بریڈ کیلئے اوورہیٹنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ زیادہ تر کتے 15 سے 25 سینٹی گریڈ درجہ حرات میں خود کو آرام دہ محسوس کرتے ہیں لیکن اس کا انحصار انکی بریڈ اور دیگر عوامل پر ہوتا ہے۔ ریسرچ ٹیم نے پتہ لگایا کہ گاڑیوں میں شام 4 سے پانچ بجے کے درمیان ٹمپریچر کی سطح بلند ہوتی ہے اور اپریل اور ستمبر میں 35 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اگر ٹمپریچر 35 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو کتوں کو اپنی باڈی ہیٹ کنٹرول کرنے کیلئے پینٹ کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم منسلک گاڑیوں میں نمی اور ہوا کی موومنٹ کی وجہ سے پینٹنگ کتوں کیلئے سخت ہو سکتی ہے، جس سے گرمی بڑھ جاتی ہے۔ کتوں کو گرمی لگنے کی علامتوں میں سرخ یا گہرے مسوڑے و زبان، اسہال، متلی اور مشتعل ہونا شامل ہیں، اگر علاج نہ کیا جائے تو ہیٹ سٹروک کتوں کیلئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ ریسرچ اوپن ویٹنیریری جرنل میں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ گرم کاروں میں کتوں کے بیمار پڑنے کے خطرات کے حوالے سے سالانہ آگاہی مہم شروع کی جانی چاہیے۔ مہم عام طور پر مئی میں شروع ہوتی ہے لیکن اسے اس سے پہلے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے سکول آف اینیمل، رورل اینڈ انوائرمنٹل سائنسز کی ریسرچر اور سٹڈی کی مصنفہ ڈاکٹر این کارٹر نے کہا کہ ہمار ریسرچ ورک پارک گاڑیوں میں کتوں کی صحت کیلئے خطرات کو پہلے سے زیادہ واضح کرتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ گرمی کے دوران خطرہ صرف دوپہر میں ہی ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں سارا سال پارک کاروں میں درجہ حرارت ممکنہ طور پر خطرناک حد تک پہنچ سکتا ہے، سہ پہر کا وقت گرم ترین دورانیہ ہوتا ہے۔

یورپ سے سے مزید