آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کسی بھی ملک کی قومی ایئرلائن اس ملک کی پہچان ہوتی ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک کی اپنی قومی ایئر لائنز ہیں۔ امریکہ وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی پرائیویٹ ایئر لائنز کو قومی ایئر لائنز کا درجہ دے رکھا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ پی آئی اے کا شمار دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوتا تھا اور بڑی بڑی شخصیات پی آئی اے کے ذریعے سفر کرنا باعث اعزاز سمجھتی تھیں، پی آئی اے کا سلوگن ’’باکمال لوگ۔ لاجواب پرواز‘‘ تھا۔ پی آئی اے نے ماضی میں کئی انٹرنیشنل ایئرلائنز کی تشکیل اور عملے کی تربیت کی ہے جس میں دنیا کی معروف ایئرلائن ایمریٹس بھی شامل ہے جس نے 1985میں پی آئی اے سے 2طیارے لیز پر لے کر اپنا آپریشن شروع کیا تھا اور آج اس کا شمار دنیا کی صفِ اول کی ایئر لائنز میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سنگاپور، رائل مراکو، مالٹا ایئرویز اور دنیا کی کئی نامور ایئر لائنز کی ٹریننگ میں اہم کردار ادا کرنے والی پی آئی اے آج زبوں حالی کا شکار ہے اور حکومت کو ہر سال ادارے کو چلانے کیلئے اربوں روپے کی امداد دینا پڑرہی ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں پی آئی اے میں اقربا پروری، سیاسی اثر و رسوخ اور میرٹ کے خلاف بلاضرورت اضافی بھرتیاں کی گئیں جس سے ادارے پر نہ صرف غیرمعمولی مالی بوجھ پڑا بلکہ کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔

22مئی کو کراچی میں پی آئی اے طیارے کے حادثے کے بعد وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے پائلٹس کے مشکوک لائسنسوں سے متعلق بیان نے دنیا کی سول ایوی ایشن انڈسٹری میں ایک ہلچل مچا دی جس کے بعد برطانیہ اور دیگر ممالک نے پی آئی اے پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کے معاملے پر ایئرسیفٹی اقدامات کے تحت پی آئی اے کی پروازیں 6ماہ کیلئے منسوخ کردیں۔ اس سلسلے میں میرے پاس یورپی یونین ایوی ایشن ایئر سیفٹی ایجنسی (EASA) کا 30جون 2020کو پی آئی اے کو لکھا جانے والا خط موجود ہے جس میں انہوں نے پی آئی اے سے ماضی میں ایئرسیفٹی قوانین پر موثر عملدرآمد نہ کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، EASAنے یکم جولائی 2020سے یورپ اور برطانیہ کی پی آئی اےکی پروازوں پر 6ماہ کیلئے پابندی عائد کردی ہے جبکہ اپنے 32ممبر ممالک کو پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹس گرائونڈ کرنے کی سفارش کی ہے۔ اقوامِ متحدہ، امارات اور دیگر ایئرلائنز نے بھی یکم جولائی 2020سے اپنے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6ماہ کیلئے معطل کردیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی پائلٹس جو دنیا کی معروف ایئرلائنز امارات، کویت ایئرویز، ملائیشیا ایئر لائنز اور دیگر ایئرلائنز میں خدمات انجام دے رہے تھے، کو بھی گرائونڈ کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے بھی پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی 12خصوصی پروازوں کی اجازت منسوخ کردی ہے۔

میں پی آئی اے اور ترکش ایئرلائنز کی کارکردگی کا ایک موازنہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ترکش ایئر لائن کے مجموعی ملازمین 37670ہیں جبکہ پی آئی اے کے ملازمین 19000ہیں۔ ترکش ایئر لائن کی فلیٹ میں 330طیارے ہیں جبکہ پی آئی اے کے فلیٹ میں صرف 30طیارے ہیں۔ ترکش ایئرلائن کی پروازیں 238ممالک کیلئے ہیں جبکہ پی آئی اے کی پروازیں صرف 25ممالک کیلئے ہیں۔ ترکش ایئر لائن کا ریونیو 12.87ارب ڈالر سالانہ ہے جبکہ پی آئی اے کا ریونیو 890ملین ڈالر (147.5ارب روپے) سالانہ جبکہ مالی خسارہ 204ملین ڈالر (19.4ارب روپے) سالانہ ہے۔ پی آئی اے میں جو کام 10ملازمین کرتے ہیں وہ ترکش ایئرلائن میں صرف ایک ملازم انجام دیتا ہے۔ اس طرح عالمی معیار اور پی آئی اے کی موجودہ فلیٹ کے تناسب سے ادارے میں تقریباً 17000ملازمین اضافی ہیں۔ پی آئی اے ملازمین کا فی طیارہ تناسب 515ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اسٹاف ٹو ایئر کرافٹ تناسب 250ملازمین سے بھی کم ہے۔ ایمریٹس ایئرلائنز جس کے پاس 259طیارے ہیں، اسٹاف ٹو ایئرکرافٹ تناسب 200سے بھی کم ہے جس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے قومی ایئر لائن کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر میرٹ کے خلاف بھرتیاں کرکے ادارے کو دنیا کی دیگر ایئر لائنز کے مقابلے میں غیرمقابلاتی بنادیا۔ پی آئی اے اس وقت 56ارب روپے سالانہ نقصان میں چل رہا ہے اور 3.3ارب ڈالر کے ناقابلِ برداشت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے قومی اسمبلی میں 262مشکوک پائلٹس کی فہرست جاری کرنے پر پی آئی اے نے 141مشکوک لائسنس والے پائلٹس کو گرائونڈ اور 28پائلٹس کو جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر برطرف کردیا ہے، یہ شرمناک خبر سی این این سمیت عالمی میڈیا کی بریکنگ نیوز اور دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب بنی، اس طرح 29اکتوبر 1946کو قائم ہونے والی پاکستان کی قومی ایئر لائن جو 1967میں ایئر مارشل نور خان کے دور میں دنیا کی صف اول ایئرلائن کہلاتی تھی، اپنے افسوسناک انجام کو پہنچی۔ کیا یہ سب کسی منصوبہ بندی کے تحت کیا جارہا ہے تاکہ پی آئی اے کی اونے پونے داموں نجکاری کرکے من پسند افراد کو فروخت کیا جاسکے اور پی آئی اے کے امریکہ اور دیگر ممالک میں روز ویلٹ ہوٹل سمیت دیگر قیمتی اثاثوں کی بندر بانٹ کی جا سکے؟۔ پی آئی اے کے موجودہ سربراہ ایئرمارشل ارشد ملک میرے اچھے دوست ہیں اور حال ہی میں وزیراعظم نے اُنہیں 3سال کیلئے پی آئی اے کا چیف ایگزیکٹو تعینات کیا ہے۔ میری اُن کو تجویز ہے کہ وہ قومی ایئر لائن کی ساکھ بحال کرنے اور موجودہ مایوسی کو دور کرنے کیلئے قوم کو ایک روڈ میپ دیںکیونکہ مجھ سمیت ہر پاکستانی اپنی قومی ایئر لائن کی ترقی کا خواہشمند ہے۔