آپ آف لائن ہیں
پیر12؍ذی الحج 1441ھ 3 اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

10؍ ارب درخت اسکینڈل پر پردہ ڈالنے کیلئے ٹڈی دل پر الزام

اسلام آباد (انصار عباسی) پاکستان تحریک انصاف کے 10؍ ارب درخت کے سونامی پروجیکٹ (ٹی بی ٹی ٹی)، جسے سر کا غیر متنازع تاج سمجھا جاتا تھا، اب تنازعات کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے جبکہ وزیراعظم کو درست تصویر نہیں دکھائی جا رہی۔ جس اسکیم پر ڈھول پیٹے جاتے تھے، اب اسے پنجاب میں مختلف نوعیت کے کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے جن میں جعلی بل، جعلی پودے لگانے اور غلط انداز سے کی گئی کھدائی، غیر مجاز ادائیگیوں وغیرہ جیسے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔

کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے، حکام کو بتایا جا رہا ہے کہ ٹی بی ٹی ٹی کے تحت نئے جنگل اگانے اور پرانے جنگلات کو بحال کرنے کی مہم ٹڈی دل کے تازہ ترین حملے کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ پروجیکٹ میں زبردست کرپشن کی شکایات کے بعد محکمہ جنگلات پنجاب نے 10؍ جون کو ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس کا کام اس پروجیکٹ کے تحت اگائے گئے درختوں کو ٹڈی دل سے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینا تھا۔ کمیٹی کو 15؍ دن میں کام مکمل کرنے کی سزمہ داری دی گئی لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر یہ کمیٹی اپنا کام شروع نہ کر پائی۔

30؍ جون کو محکمہ جنگلات نے ایک اور آرڈر جاری کرکے سابقہ کمیٹی تحلیل کرکے اس کی جگہ ایک اور نئی کمیٹی بنا دی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سابقہ کمیٹی زیادہ اہلیت کی حامل تھی لیکن اسے تحقیقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ دوسری کمیٹی کے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے بھی ابھی کام شروع نہیں کیا حالانکہ اسے بھی 15؍ دن کا وقت دیا گیا تھا۔

ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے حکام اس اسکینڈل میں ملوث ہیں اور اسی لیے ٹی بی ٹی ٹی پروجیکٹ میں ہونے والی تحقیقات سبوتاژ ہو رہی ہے۔ پروجیکٹ کے حوالے سے سنگین نوعیت کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں جو ضلع بھکر، ضلع چکوال اور ڈی جی خان ڈویژن کے متعلق ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ان میں زبردست کرپشن ہوئی ہے۔

محکمہ جنگلات کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ شکایات نہ صرف درست ہیں بلکہ بھکر، چکوال اور ڈی جی خان کے معاملے یں یہ پروجیکٹ زبردست کرپشن کی نذر ہوا ہے اور پورے صوبے میں منصوبے پر عملدرآمد کے معاملے میں سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

مذکورہ بالا تین شہروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان میں گزشتہ مالی سال کے دوران ہدف 11؍ ہزار 500؍ ایکڑ پر درخت اگانے کا تھا لیکن بمشکل ہی 20؍ سے 25؍ فیصد حصے پر ہی درخت اگائے گئے اور اس میں بھی معیار کا خیال نہیں رکھا گیا۔ کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے، کہا جاتا ہے کہ، درختوں کی کم تعداد اگائے جانے اور غیر معیاری کام کو چھپانے کیلئے بڑی ہی آسانی سے بتا دیا گیا کہ اگائے گئے جنگلات مکمل طور پر ٹڈی دل کے حملے میں تباہ ہوگئے۔

سرکاری مشینری کے ذریعے زمین کی کھدائی جیسے امور میں بھی معیار کا خیال نہیں رکھا گیا، لیکن جمع کرائے گئے بل اور وائوچرز میں دکھا گیا کہ یہ کام مزدوروں نے کیا ہے۔

پیٹر انجن خریدے بھی نہیں گئے لیکن یہ دکھایا گیا کہ یہ انجنز کئی مہینوں سے کام کر رہے ہیں۔ اس بات کی بھی شکایات ہیں کہ ناپ تول کیلئے جعلی کتب اور جعلی میٹر رولز تیار کیے گئے اور جعلی نام استعمال کیے گئے۔ مشکوک لاگ بک سرکاری ٹریکٹروں، گاڑیوں، ٹیوب ویلز اور پیٹر پمپس کیلئے تیار کیے گئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ٹی اائی کی ایک ارب درختوں پر مشتمل جنگلات اگانے کے خیبرپختونخوا کے پروجیکٹ میں بھی سنگین نوعیت کے تنازعات سامنے اائے تھے۔ چند ماہ قبل آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ کے پی کے اس پروجیکٹ میں طبعی اہداف کسی حد تک حاصل کیے گئے تھے لیکن پروجیکٹ کی دستاویز میں جس سبز انقلاب کا وعدہ کیا گیا تھا وہ ایک سہانہ خواب ہو سکتا ہے۔

اپنی آڈٹ رپورٹ میں اے جی نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ پروجیکٹ پر پلاننگ میں کئی خامیاں تھیں، اس کے اخراجات اور تکمیل کا وقت تبدیل ہوتا رہا، قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا کیونکہ سرکاری نرسریوں سے خریدے گئے تخمی درخت (سیڈلنگ) مہنگے داموں خریدے گئے، منصوبے پر عملدرآمد کے معاملے میں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کا کردار غیر موثر رہا، رینج لینڈ اور چراگاہوں کی مینجمٹ بلاجواز بند کر دی گئی۔

یوکلپٹس کی تعداد پی سی ون میں بتائی گئی تعداد سے زیادہ اگائی گئی جس کے ماحولیات پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، مختلف فاریسٹ ڈویژن کیلئے مختص فنڈز میں بھی پی سی ون سے ہٹ کر تبدیلیاں کی گئیں، پروجیکٹ فنانس کے مسائل کی وجہ سے پروجیکٹ پر عملدرآد اور دیگر معاملات پر اثرات مرتب ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پروجیکٹ کے اہداف کسی حد تک مکمل کیے گئے تھے۔ آڈٹ ٹیم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سات فاریسٹ ڈویژنوں میں کلوژر کی ناکامی انتہائی زیادہ تعداد (35.14؍ فیصد) میں تھی۔ جنگلات اگانے کیلئے مختص کیا گیا علاقہ 30؍ ہزار ہیکٹرز مقرر کیا گیا تھا لیکن اس میں سے صرف 19؍ ہزار 986.5؍ ہیکٹرز پر ہی کام ہو سکا۔ پہلے مرحلے کیلئے سیم زدہ اور خراب زمین کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کیلئے مقرر کردہ ہدف 450؍ ہیکٹرز تھا، جبکہ دوسرے مرحلے کیلئے یہ ہدف 1920؍ ہیکٹرز تھا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹوریٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اور دوسرے مرحلے کیلئے بالترتیب صرف 290؍ اور 1343؍ ہیکٹرز کا ہدف ہی حاصل ہو سکا۔‘‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پروجیکٹ کے معاشی پہلو پر کلوژر کے قیام او ران کی مینٹی ننس سے جڑے مسائل کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ مختلف فاریسٹ ڈویژنوں میں کلوژر کی ناکامی بڑی تعداد میں دیکھی گئی کیونکہ فیلڈ دفاتر کی رہنمائی نہیں کی گئی تھی اور ساتھ ہی انتظامی سطح پر بھی بد انتظامی دیکھی گئی۔

نجی افراد کو غیر شفاف انداز سے نرسریوں کی الاٹمنٹ، محکمہ جاتی نرسریوں میں تخمی پودوں (سیڈلنگ) کے اضافی نرخ، جنگلات اگانے کیلئے مختص زمین کیلئے نرخوں کی عدم ادائیگی، غیر مصدقہ بیجوں کی خریداری اور نگرانی و حفاظتی سروسز کیلئے کی گئی اضافی ادائیگیاں وہ معاملہ ہے جس کی وجہ سے پروجیکٹ پر مالی لحاظ سے براہِ راست اثرات مرتب ہوئے۔

اہم خبریں سے مزید