آپ آف لائن ہیں
منگل13؍ذی الحج 1441ھ 4؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل الرحمان سچ کی آواز، صحافت کا روشن باب، مقررین

میر شکیل الرحمان سچ کی آواز، صحافت کا روشن باب، مقررین


کراچی ،لاہور، پشاور، راولپنڈی(اسٹاف رپورٹر، نمائندگان جنگ)ایڈیٹر انچیف جنگ و جیو گروپ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری اور ان کے خاندان کو ہراساں کئے جانے کیخلاف لاہور، پشاور اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا ، صحافتی تنظیموں کے رہنمائوں اور سیاسی قائدین نے احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میر شکیل الرحمان دنیا بھر میں سچ کی آواز اور صحافت کا روشن باب ہیں، آزادی صحافت کیلئے ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائیگی ،چیف جسٹس آف پاکستان نیب کے ظالمانہ قانون کا نوٹس لیکر میر شکیل الرحمان کی فوری رہائی کے احکامات جاری کریں ، خیبر یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر نثار محمود نے کہاکہ میر شکیل الرحمان کسی جرم کے بغیر122دن سے قید ہیں جبکہ اب ان کے خاندان کو ہراساں کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں ، روزنامہ جنگ راولپنڈی کے باہر مری روڈ پرپیر کو احتجاجی مظاہرے میں شرکاء نے آیت کریمہ کا ورد کیا ،اس موقع پر میر شکیل الرحمان کی رہائی کیلئے شدید نعرے بازی بھی کی گئی ،مقررین نے کہاکہ میر شکیل الرحمان کیخلاف مقدمہ اس وقت دنیا کے سامنے تماشا بن چکا ہے، لاہور میں ڈیوس روڈ پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کو آزادی صحافت کی سزا دی جا رہی ہے مگر وہ اس کا علم بلند کیے ہوئےہیں،ہم جمہوریت اور آزادی صحافت پر حملہ کرنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔سابق رکن صوبائی اسمبلی اور تنظیم بحالی کمیٹی (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما جمال احمد نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ اور جیو کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، جنگ گروپ کے اخبارات اور چینل نے ہمیشہ حق اور سچ لکھا اور دکھایا ہے اس بارے میں پورے پاکستان اور دنیا بھر میں دو رائے نہیں ہیں، اعلی عدالتیں میرشکیل الرحمان کو انصاف فراہم کریں، انہیں ضمانت پر رہا کریں اور اپنا کیس لڑنے کا پورا موقع فراہم کریں، عدالتوں کو ان کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرکے انہیں ضمانت پر رہا کردینا چاہئے تاکہ وہ پوری یکسوئی سے اپنا کیس لڑیں۔

اہم خبریں سے مزید