بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں 81 سالہ خاتون ڈاکٹر کی موت کے بعد ان کی کروڑوں کی جائیداد پر تنازع کھڑا ہوگیا۔
جبل پور کے پوش علاقے رائٹ ٹاؤن میں رہنے والی سینئر ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر ہیملتا شریواستو کی موت کے بعد ان کی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد پر شدید قانونی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس نے پورے شہر میں ہلچل مچا دی ہے۔
81 سالہ ڈاکٹر ہیملتا کی آخری رسومات سخت انتظامی نگرانی میں ادا کی گئیں، جبکہ اصل تنازع 11 ہزار مربع فٹ کے اس قیمتی پلاٹ پر ہے جس کی مالیت تقریباً 60 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر سُمِت جین نامی معالج کا دعویٰ ہے کہ آنجہانی نے یہ زمین رضاکارانہ طور پر یادگاری اسپتال بنانے کے لیے عطیہ کی، تاہم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ کمزور صحت کے دوران ان پر دباؤ ڈال کر دستاویزات پر دستخط کروائے گئے۔
دوسری جانب گائتری مندر ٹرسٹ کا مؤقف ہے کہ آنجہانی ڈاکٹر اپنی تمام جائیداد ٹرسٹ کے نام کرنا چاہتی تھیں، جبکہ ان کی بہن قانونی وارث کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
اس حوالے سے ضلعی کلکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ متنازع زمین میونسپل کارپوریشن کی لیز ہولڈ پراپرٹی ہے اور قانوناً عطیہ نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ معاملہ ایس ڈی ایم عدالت کو بھجوا دیا گیا ہے جہاں تمام فریقین کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ہیملتا کے بیٹے اور شوہر دونوں گزشتہ برسوں میں انتقال کر چکے تھے اور وہ تنہا رہ رہی تھیں۔ ان کی اچانک صحت خرابی اور وفات نے کیس کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فیصلہ مکمل قانونی جانچ کے بعد ہی کیا جائے گا۔