آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیب نے کے الیکٹرک کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا


چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) نے کےالیکٹرک کے خلاف عوامی شکایات اورمیڈیا رپورٹس کا نوٹس لے لیا۔

نیب اعلامیے کے مطابق چیئرمین نیب نے کےالیکٹرک کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔ نیب کراچی کو کےالیکٹرک کے خلاف 3 ماہ میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

 اعلامیہ کے مطابق کےالیکٹرک نے غیراعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ اور اربوں روپے کی اووربلنگ کی۔

 اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق کےالیکٹرک نے سرمایہ کاری کرنا تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

 نیب نے کہا کہ کےالیکٹرک پر اس معاہدے کی مبینہ طور پر مکمل پاسداری نہ کرنے کا الزام ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے نیب کراچی کو کےالیکٹرک سے معاہدہ کی کاپی، متعلقہ دستاویزات اورسرمایہ کاری کی تفصیلات حاصل کرنےکی ہدایت کی ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ نیب قانون کے مطابق ہمیشہ اپنے فرائض سر انجام دینے پر یقین رکھتا ہے، کےالیکٹرک کو اووربلنگ کی مد میں مبینہ طور پر اربوں روپے ہتھیانےکی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیب کےالیکٹرک کو غیراعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ اور معاہدہ کی پاسداری نہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا، نیب بلاتفریق احتساب پر یقین رکھتا ہے۔

چیئرمین نیب نے نیب کراچی کو کےالیکٹرک کے خلاف 3 ماہ میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

کے الیکٹرک کی شکایات کیخلاف نیپرا کا کراچی میں دفتر قائم

 دوسری طرف نیپرا نے کے الیکٹرک کے خلاف شکایات کے لیے کراچی میں دفترقائم کر دیا۔

نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کراچی دفتر میں صارفین کے الیکٹرک کے خلاف شکایات درج کراسکتے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ بلوں کا فیصلہ ہونے تک صارف بل جمع نہیں کرائے گا، جبکہ ایسے متنازعہ بلز کا فیصلہ آنے تک کے الیکٹرک صارف کی بجلی بھی منقطع نہیں کرےگا۔

واضح رہے کہ نیپرا نے 10 جولائی کو کراچی میں بہت زیادہ لوڈشیڈنگ کے معاملے پر اسلام آباد میں عوامی سماعت کی تھی، اتھارٹی نے سماعت کے بعد ڈی جی مانیٹرنگ اینڈ انفورسمنٹ نادر کھوسو کی سربراہی میں چار رکنی ٹیم کو کراچی جاکر کے الیکٹرک کی طرف سے بہت زیادہ لوڈشیڈنگ کے معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید