آپ آف لائن ہیں
پیر12؍ذی الحج 1441ھ 3 اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سری نگر ہماری منزل ہے، شاہ محمود قریشی


وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سری نگر پر ہماری آنکھ ہے، سری نگر ہماری منزل ہے، پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کل بھی کھڑی تھی، آج بھی کھڑی ہے۔

اسلام آباد میں وزیرِ اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی معید یوسف کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام اور بھارت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ہر کونے میں آج آگ سلگ رہی ہے، شائننگ انڈیا برننگ انڈیا میں تبدیل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سال میں کشمیریوں پر کیا بیتی، انہوں نے کس کرب سے سال گزارا، پوری دنیا میں مقیم کشمیروں کو یک جہتی کا پیغام دینا چاہتے ہیں، آخری فتح تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے، پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کل بھی کھڑی تھی آج بھی کھڑی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج بھی کشمیر میں کیمونی کیشن بلیک آؤٹ جاری ہے، کشمیر میں آج بھی بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، کورونا کے بعد دنیا جانتی ہے کہ لاک ڈاؤن کی تکالیف کیا ہوتی ہیں، کشمیری ایک سال سے ڈبل لاک ڈاؤن برداشت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا سے سوال ہے کہ اگر آپ پر ڈبل لاک ڈاؤن مسلط ہو تو آپ پر کیا گزرے گی، ہیومن رائٹس کونسل جنیوا میں مسئلہ کشمیر پر انسانی پہلو کو اجاگر کیا، 5 اگست اس جدوجہد کا نیا موڑ ہے، ہندوستان نے کشمیریوں کا جھنڈا چھینا، ان کی شناخت ختم کی۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ کشمیر کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی، ہندو پنڈت ہو، مسلمان یا بدھسٹ، کسی نے اسے قبول نہیں کیا، کشمیر کو متنازع علاقہ سلامتی کونسل کی قرار داد کہتی ہے، اسے آر ایس ایس نے بھارت میں ضم کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ سب سے بڑا ملٹری زون مقبوضہ کشمیر ہے، ٹیلی کمیونیکیشن بلیک آؤٹ ہے، بنیادی حقوق سے کشمیری محروم ہیں، ڈبل لاک ڈاؤن امریکا، برطانیہ، یورپ کے لوگ برداشت نہیں کر سکتے، مگر کشمیری برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئی پی یو میں کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا گیا، سیاسی دھڑے بندی کے باوجود مسئلہ کشمیر پر سب نے کہا کہ وزیر خارجہ نے ہماری ترجمانی کی، ایک سال میں ہندوستان کی پالیسی پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی ہے، شائننگ انڈیا سے برن انڈیا دکھائی دے رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کو مسئلہ کشمیر پر 9 خط لکھ چکا ہوں، یہ خطوط منزل کے حصول میں کردار ادا کریں گے، مسئلہ کشمیر ایک سال میں 3 مرتبہ سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا، گزشتہ 55 سال میں کشمیر کی قرار دادیں گرد اور دھول میں دب گئی تھیں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ناحق خون بہا ہے، یہ خون بولے گا، کشمیریوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کی ترجمانی کریں گے، 5 اگست کو ایک پلان مرتب کیا ہے، 5 اگست کو پوری قوم یومِ استحصال منائے گی، کشمیر کے مسئلے کو انٹرنیشنل کرنے کی ہم سب نے مل کر کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تسلیم اسلم نے کہا کہ ہمیں ماضی میں ہدایت تھی کہ کشمیر پر ہاتھ ہلکا رکھنا ہے، ہم نے جنیوا میں انسانی حقوق کا پہلو پیش کیا، بھارتی مندوب چہرہ چھپا رہا تھا، او آئی سی کے کشمیر پر 3 اجلاس ہوئے، سعودی عرب، ترکی، آذر بائیجان کے وزرائے خارجہ کے شکر گزار ہیں، امریکی کانگریس میں کشمیر پر 3 اجلاس ہو چکے ہیں، کشمیر کا مسئلہ یورپی یونین میں شدومد سے اٹھایا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں عمران خان کے کشمیر سے متعلق 120 سے زائد انگیجمنٹس ہیں، ترک صدر اردوان نے کشمیر کے لیے مشترکہ اجلاس میں الفاظ ادا کیے، انسانی حقوق تنظیم نے کھل کر بھارت کی غاصبانہ پالیسی پر تنقید کی، گزشتہ ایک سال میں بین الاقوامی میڈیا نے بھارت پر تنقید کی۔

انہوں نے سوال کیا کہ 55 سال میں سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ کشمیر سے متعلق عمران خان بہت واضح ہیں، 5 اگست کو پاکستانیوں نے مل کر کشمیریوں کو پیغام دینا ہے، ان کے عزم کو بھارت نے توڑنے کی بہت کوشش کی ہے، لیکن نہیں توڑ پایا، آپ دبا سکتے ہیں، مٹا نہیں سکتے، خون بولے گا، مقبوضہ کشمیر کی قیادت پابندِ سلاسل ہے، ان پر تشدد ہو رہا ہے، سید علی گیلانی کی عمر اور ان پر جبر کو دیکھیں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ کشمیریوں کو پیغام دے رہا ہوں کہ آپ لیڈ کریں، ہم فالو کریں گے، میں فخر سے کشمیریوں کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہوں، جب تک آپ پابندِ سلاسل ہیں آپ کی آواز اٹھائیں گے، آپ کی ترجمانی کریں گے، اس سال 5 اگست کے لیے ایک ایکشن پلان مرتب دیا ہے، اس روز پوری قوم ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں یومِ استحصال منائے گی، کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے واک نکالی جائیں گی، قائدین ہر ضلع میں قیادت کریں گے، پورے پاکستان میں ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیئے:۔

کشمیر پر بات کرنے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا: شاہ محمود قریشی

انہوں نے کہا کہ نانا کی لاش پر بیٹھے بچے کی تصویر نے دل دہلا دیا ہے، ہماری منزل سری نگر ہے، ہم کشمیر ہائی وے کا نام سری نگر ہائے وے رکھ رہے ہیں، یہ شاہراہ ہمیں سری نگر لے کر جائے گی، ایل او سی پر پارلیمان کو لے کر جا رہے ہیں، دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ بھارت کی ایل او سی پر حرکتیں کیا ہیں، جن کو معذور کیا گیا ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے جا رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 اگست کو دنیا کے رہنماؤں کو خطوط لکھے جائیں گے، سیمینار منعقد کیے جائیں گے، سوشل میڈیا پر کمپین چلائی جائے گی، بچے کے شہید نانا کی تصویر کا اسٹامپ جاری کریں گے، اسی روز وزیرِ اعظم عمران خان کشمیر کی اسمبلی میں خطاب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری آنکھ سری نگر کی طرف ہے، 5 اگست کو بین الاقوامی اخبارات میں کالم لکھوائے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر مہم بنائی گئی ہے، کشمیریوں پر ظلم کی داستان کو اجاگر کیا جائے گا، صرف ہائی کمیشن میں تقریب منعقد نہیں ہو گی بلکہ لوکل میڈیا کو انگیج کیا جائے گا، دیکھوں گا کس سفیر نے کس میڈیا کے ساتھ خود کو کتنا انگیج کیا، خود ہائی کمیشن کی نگرانی کروں گا، دیکھوں گا کون کس تھنک ٹینک میں گیا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اس روز فوٹو نمائش، کار ریلیاں ہوں گی، اسٹریٹ احتجاج ہوں گے، کینیڈا میں کار ریلی کا اہتمام کیا جا رہا ہے، کشمیری بھائیو! آپ کو تنہائی کی طرف دھکیلا گیا لیکن آپ تنہا نہیں ہیں، 5 اگست کو سینیٹ کا خصوصی اجلاس ہوگا، دفترِ خارجہ کی جناب سے اس روز کے لیے قرار داد تیار کی گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ دباؤ اور شور شرابے سے ہاؤس کو دبا سکیں گے، اپوزیشن پھر سن لے، وہاں پھر نہ میرا بیٹا بلاول بولے گا، نہ کوئی اور، آپ آواز بالکل نہیں دبا سکتے، کان کھول کر سن لیں، آواز نہیں دبے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرنے کی کوشش کرتا ہے، چمن میں جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، امید ہے کہ اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے گا۔

قومی خبریں سے مزید