آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیا نصابِ تعلیم ’’کارِ ثواب‘‘ اور ’’کلید ِ جنت‘‘ یا؟

ہم عوام کو پاکستان کے نئے سیاسی نقشے پر مبارکباد پیش کی جا رہی ہے جس پر میں متعلقہ لوگوں کا شکر گزار ہوں لیکن ایک ہلکی پھلکی سی اڑچن ہے اور وہ یہ کہ اس نقشہ میں مجھے ’’مشرقی پاکستان‘‘ کہیں دکھائی نہیں دیا لیکن خیر اس کو میری جہالت، لاعلمی، بے خبری کہہ لیں کہ مجھے علم ہی نہیں کہ مشرقی پاکستان تو کب کا بنگلہ دیش بن کر ہم سے علیحد ہو چکا۔ ’’خواب فروشی‘‘ اچھی بات ہے لیکن ایک حد تک کیونکہ اک حد سے گزر جانے کے بعد اکثر خواب عذاب میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

’’سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے‘‘ والا رویہ یقیناً اک اعلیٰ انسانی رویہ ہے جو اس وقت اور بھی لازمی اور ضروری ہو جاتا ہے جب معاملہ، مسئلہ، دکھ، درد اپنوں کا ہو لیکن مصیبت یہ ہے کہ اپنوں کیلئے کچھ کرنے سے پہلے اپنے پلے بھی کچھ نہ کچھ ہونا بیحد ضروری ہے کیونکہ خالی خولی نیک خواہشات سے نہ کسی دوسرے کا پیٹ بھر سکتا ہے نہ کوئی دوسری ضرورت ہی پوری ہو سکتی ہے۔

یہاں ایک سادہ سی مثال پیش کرنے کی جسارت کروں گا۔ اک ایسے گھر کا تصور کریں جو قرضوں کے عوض گروی پڑا ہو، بچے اس گھر کے فاقوں پر مجبور ہوں اور فیس کی عدم ادائیگی کے باعث ان کے نام سکول سے خارج ہو چکے ہوں۔ گھر کے سربراہ کا کوئی بزرگ بیمار ہو اور علاج کرانے کیلئے جیب میں کچھ نہ ہو اور اس گھر کے سربراہ کو یہ اطلاع ملے کہ اس کا فلاں بھائی، بہن یا کوئی کزن شدید قسم کے بحران سے گزر رہا ہے تو بتائیں وہ زیادہ سے زیادہ کیا کر لے گا؟

وہ کتنا ہی ہمدرد اور خوش نیت کیوں نہ ہو، آنسو بہانے، جلنے کڑھنے اور افسوس کرنے کے علاوہ کیا کر سکے گا؟زندگی کی ایک انتہائی تلخی حقیقت یہ ہے کہ ڈوبتے اور ہاتھ پائوں مارتے شخص کا ہاتھ بھی صرف وہی تھام سکتا ہے جو خود تیرنا جانتا ہو۔

جس کی اپنی ٹانگیں پولیو کا شکار ہو چکی ہوں وہ کسی کا سہارا کیسے بن سکتا ہے؟ خود اپنے بازو ہی فالج زدہ ہوں تو کوئی کسی پیارے کا تحفظ کیسے کر پائے گا۔گہرائی میں جا کر دیکھیں تو ملک بھی ایک خاندان ہی ہوتا ہے جس کی اپنی اقتصادیات ہی نہیں دفاع بھی ہوتا ہے۔ ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ بھی ہوتا ہے اور ٹوٹی پھوٹی چھوٹی موٹی ’’کابینہ‘‘ بھی ہوتی ہے۔ ہر خاندان کا ’’بجٹ‘‘ بھی ہوتا ہے اور خاص قسم کا ’’لاء اینڈ آرڈر‘‘ بھی۔

خاندانوں کا اپنا اپنا انتظامی اور عدالتی نظام ہی نہیں ’’اڑوس پڑوس‘‘ بھی ہوتا ہے اور اگر یہ پڑوس حاسد، کمینہ اور بوجوہ عدم تحفظ کا شکار بھی ہو تو مسائل کئی گنا بڑھ جاتے ہیں اور یہ سب ہی نہیں، ہر خاندان کے ’’خارجہ امور‘‘بھی ہوتے ہیں۔

مختصراً یہ کہ ’’ملک‘‘ بھی ایک بہت بڑا ’’خاندان‘‘ ہی ہوتا ہے اور ایک خاندان کسی دوسرے خاندان کی مدد، خدمت اور معاونت تب ہی کر سکتا ہے اگر خود کسی قابل بلکہ خودکفیل ہو۔ اگر اپنے برتن ہی بک چکے یا ’’برائے فروخت‘‘ ہوں تو ایسا ’’سگا‘‘ بھی ’’سوتیلا‘‘ ہی سمجھو۔ جو خود قرض خواہوں کی منتوں ترلوں میں مصروف ہو، کسی ضرورت مند عزیز کیلئے کیا کر لے گا؟

یہ افسانہ نہیں، زمینی حقائق ہیں جو بہت ہی بے رحم اور سفاک ہوتے ہیں۔ باقی رہ گئیں کھوکھلی باتیں، بے روح بڑھکیں، زبانی جمع خرچ جسے انگریزی میں ’’لپ سروس‘‘ کہتے ہیں تو اس سے پیٹ بھر سکتا تو دنیا میں کوئی بھوکا نہ سوتا۔

کشمیر ہماری شہ رگ ہے، فلسطین ہمارے جگر کے ٹکڑے ہیں لیکن ہم خود کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں؟کیا ہماری اپنی حالت اس دیوار جیسی نہیں جو اس شعر میں بیان کی گئی ۔دیوار خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگامیں گر پڑوں گا دیکھ سہارا نہ دے مجھےزخم ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کوئی انہیں سہلانے کی کوشش بھی کرے تو زخمی کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔

عرض کرنے کا مقصد یہ کہ ’’پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرو‘‘اور جان صرف اور صرف اور صرف ’’سائنس اور ٹیکنالوجی‘‘ کے ٹیکوں اور کیپسولوں سے پیدا ہو گی کہ مومن کی تو پہچان ہی یہ کہ وہ فراست سے مالا مال اور اپنے عہد کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے اور چین جاکر جس علم بلکہ علوم کو حاصل کرنے کا حکم ہے انہیں ہماری آج کی زبان میں ’’غیر دینی علوم‘‘ کہتے ہیں کہ ’’دینی علوم‘‘ جیسی اصطلاح کا اک مطلب یہ بھی ہے کہ باقی سب علوم ’’غیر دینی ‘‘ ہیں حالانکہ ان گنت کائناتوں میں کائناتوں سمیت جو کچھ بھی ہے، اسی کا حکم ہے، اسی کی تخلیق ہے۔

یہ بے سروپا رطب و یابس لکھتے وقت صبح کے ساڑھے چار بج رہے ہیں اور رتجگے کی وجہ یہ ہے کہ پورے ملک کے سنجیدہ حلقوں میں ’’یکساں نصاب تعلیم‘‘ کی آمد کا چرچا ہے اور اگر یہ درست ہے تو ہمیں جان لینا چاہئے کہ ملک بہت ہی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے والا ہے ۔یکساں نصاب تعلیم درست لیکن اس سے کئی گنا اہم اور فیصلہ کن یہ ہو گا کہ نصاب تعلیم ہے کیا ؟ اور معلم کون ہیں ؟ ماحول کیسا ہے؟

اگر ان ’’علوم‘‘ پر فوکس نہ کیا گیا جن میں حریفوں سے ہمارا فیصلہ کن اور اصل مقابلہ ہے تو سمجھ لو کہ ہمارا حال ہی نہیں مستقبل بھی ’’آئوٹ آف فوکس ‘‘ ہی رہےگا۔ ہم پہلے ہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور اگر مسلمانوں کا یہ سرخیل ملک اس مرحلہ پر ذرا بھی چوک گیا تو ناقابل تلافی نقصان ہو گا جسے نہ تاریخ معاف کرے گی نہ آئندہ نسلیں۔جدید ترین علوم کے حصول پر فوکس کرو کہ یہی ’’کارِ ثواب‘‘ اور ’’کلیدِ جنت‘‘ ہے۔

نیا سیاسی نقشہ اپنی جگہ نیا نصاب تعلیم سوچ سمجھ کر بنائو ورنہ مزید کئی صدیاں پیچھے جا پڑو گے اور آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ (کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)