ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کسی کی سیاست اور کسی کی ذات پاکستان سے بڑھ کر نہیں۔
راولپنڈی میں میڈيا بریفنگ کے دوران کہا کہ وہ بااختیار وزیراعظم تھا جو کہتا ہے کہ وہ بے اختیار تھا، وہ اتنا بااختیار تھا کہ اس نے اس وقت کے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کردیا تھا، یہ بیانیہ مضحکہ خیز ہے کہ ہم بے اختیار ہیں، کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے، ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کا ایک ہی باپ قائداعظم محمد علی جناح ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کدھر ہیں؟ جنہیں اس نے سیاست کے لیے استعمال کیا، اس وقت کی حکومت ایک ہی شخص کے گرد گھومتی تھی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انھیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشو نہیں، ان کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اور صوبے برابر ہیں، آج کی حکومت بھی بااختیار ہے اور پہلے کی حکومتیں بھی بااختیار تھیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے، یہ ہے ریاست کا بیانیہ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ بزور طاقت جیتیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صورت ہم نے جیتنی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد یہ ہے کہ سال 2025 میں دہشت گردی کے اقدامات کا جامع احاطہ کیا جائے۔ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا۔ سال 2025 میں انسداد دہشت گردی کی کارروائی غیر معمولی تعداد میں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سال ریاست پاکستان اور عوام کے درمیان دہشت گردی پر مکمل ہم آہنگی حاصل ہوئی۔ دہشت گردوں کا پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیے گئے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔
افغانستان خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے
انہوں نے کہا کہ افغانستان خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، 2025 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، روزانہ کی بنیاد پر گزشتہ سال 206 انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، دیگر پورے ملک میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے، گزشتہ سال ملک بھر میں دہشت گردی کے 5397 واقعات ہوئے جبکہ صرف خیبر پختونخوا میں 3811 دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے 2025 میں 1557 واقعات ہوئے، باقی ملک میں 29 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، سال 2025 میں 2597 دہشت گرد مارے گئے۔ گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبر پختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔
خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، ریاست کا دہشت گردی کے خلاف مؤقف واضح ہے، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ2021 میں دہشت گردی نے سر اٹھانا شروع کیا،2021 میں 193 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا۔ افغان گروپ نے دوحہ میں تین وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، پاکستان میں 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے، خوارج کے بارے میں اللّٰہ کا حکم ہے کہ جہاں ملیں مار دو، یہ بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں جیتنی ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی ہندوستان کی سرپرستی میں ہوتی ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکا اور اتحادی فوج کے انخلاء میں افغان طالبان کا کوئی تعلق نہیں، افغان طالبان اپنی تنظیمی طرز پر ٹی ٹی پی کو تیار کرتی ہے، افغان طالبان وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشت گردی کو اسپانسرڈ کرتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی ہندوستان کی سرپرستی میں ہوتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ امریکا اور اتحادی فوج کے انخلاء سے افغان طالبان کا کوئی تعلق نہیں، امریکا افغانستان میں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ کر گیا، طالبان وہاں پر اپنی عملداری بنا رہے ہیں اور یہاں ان کی سیٹلمنٹ شروع ہوتی ہے، ان کے بارے میں کلیئرٹی سے بتایا جاتا ہے کہ یہ خوارج ہیں، جب ہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یہ کہا جاتا ہے ان سے بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ سوال کیاجاتا ہے کہ یہ 5397 تو بہت بڑی تعداد ہے، جی یہ بہت بڑی تعداد ہے، روزانہ کی بنیاد پر اتنے آپریشن کیے جاتے ہیں، کچھ چیزیں زندگی میں ایسی ہیں جن کے لیے لڑنا ناصرف ضروری ہے بلکہ جائز ہے، ہم دہشت گردوں کو ہر جگہ انگیج کر رہے ہیں۔
معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ معرکہ حق اور اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا اور انہیں سبق سکھایا گیا۔ بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشت گردی کو خوب ہوا دی۔ ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا ہونا دنیا بھر نے دیکھا، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے، یہ حق ہندوستان کو کسی نےنہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں پر حملے کیے گئے، افغان طالبان رجیم نے پاکستانی پوسٹس پر حملہ کیے، پھر جو ضروری تھا وہ کیا گیا اور ایک ہارڈ میسیج دیا گیا، آخری تین مہینوں میں ہم نے بارڈر بند کر دیے، دیکھنے والوں اور سمجھنے والوں کے لیے یہاں بھی کئی نشانیاں ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں دہشت گردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، افغانستان میں انکلیوسو گورنمنٹ نہ ہونے سے دہشت گردی کو فروغ ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اور کہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیموں کے سرغنہ اور تربیتی کیمپ موجود ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے، اس پر نظر ڈالیں تو دس بڑے واقعات نظر آتے ہیں، ان میں کون ملوث ہے؟ یہ تمام افغانی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے سویلین اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، جعفر ایکسپریس حملے میں 21 سویلینز شہید کیے گئے، نوشکی میں سویلین بس پر حملہ کیا گیا، یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانیوں نے کیے۔ اے پی ایس وانا میں افغان دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور دہرانے کی کوشش کی۔
دہشت گرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں، ڈھیر کر دیے جاتے ہیں
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ پاکستانیوں کے ذہنوں سے کبھی نہیں جائے گا، ایف سی ہیڈ کوارٹرز کوئٹہ میں حملہ کیا جاتا ہے، اس میں تمام افغانی تھے، جس میں 8 سویلینز شہید ہوئے، نومبر میں ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر حملہ کیا گیا، یہ قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فوج کی جنگ ہے۔ افغان رابطہ کے تناظر میں بہت سارے دہشت گردوں کے کاغذات بھی ملتے ہیں، دہشت گردوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور انہیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جو یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ جو باڑ لگی ہے وہاں دہشت گرد کیوں نہیں مارے جاتے، بالکل مارے جاتے ہیں، اپریل میں 71 دہشت گرد مارے گئے، چیونٹیوں کی لمبی لمبی قطاروں کی طرح ان کی تشکیلیں آتی ہیں، حسن خیل میں 12 دہشت گرد مارے گئے، خارجی امجد کو بھی سرحد پار کرتے ہوئے مارا گیا، دہشت گرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں، ڈھیر کر دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، خارجیوں نے آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشت گردی کرتے ہیں، فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے، سمبازہ میں کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا گیا کیونکہ وہاں آبادی نہیں تھی، ہم ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال نگرانی کے لیے کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوج کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں کرتی، کور کمانڈر پشاور درجنوں جگہوں پر جا چکے ہیں اور روز جاتے ہیں، کیونکہ ہمارے اور عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے، فلڈ ریلیف کی سرگرمیاں اور سڑکیں کلیئر کی جا رہی ہیں، جو کلیئرٹی اس سال پاکستانی قوم کو ملی ہے وہ اس سے پہلے نہیں تھی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان پر قیادت اور عوام کلیئر ہیں، یہ وضاحت ہمارے پاس 2023 میں بھی تھی اور آج بھی ہے، ہمیں اس بیانیے سے کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا، خوارج دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ سویلین اور فوجی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ایک پیچ پر ہے، صوبائی سیاسی قیادت کو مکمل کلیئرٹی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور سے کیسے لڑنا ہے، یہ کلیئرٹی پاکستان کے طول و عرض میں عوام کو بھی ہے۔
افغان طالبان کو مودی کی شکل میں ایک نیا ہیرو مل گیا ہے
انہوں نے کہا کہ اس سال پیغام پاکستان کا اعادہ کیا گیا، یہ کلیئرٹی علماء اور مشائخ کو بھی ہے، دوسری کلیئرٹی ہندوستان اور فتنہ الخواج کے نیکسز کے بارے میں آئی، دہشت گردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ ان کا مذہب کہتا ہے کہ ہندوستانیوں کے پاؤں میں لمبے پڑ جاؤ، افغان طالبان کو مودی کی شکل میں ایک نیا ہیرو مل گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان، خوارج اور ہندوستان گٹھ جوڑ 2025 میں کھل کر سامنے آگئے ہیں، اس سال کچھ اور باریک وارداتیے بھی سامنے آئے ہیں، افغانستان اور ہندوستان آ جائیں، ان کا شوق پورا کر دیتے ہیں، ہم ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب دنیا بھی یہی کہ رہی ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جاپان، چین، امریکا سب یہی بات کر رہے ہیں، ایران اور یورپ نے افغانیوں کو نکالنا شروع کیا، امریکا بھی کہہ رہا ہے کہ ان کو یہاں سے نکالنا ہے یہ دہشت گردی میں ملوث ہیں، درجن سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں افغان طالبان کے زیر سایہ پل رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یو این کہہ رہا ہے کہ 20 دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں پل رہی ہیں، پاکستان کے ٹیکس پیئر کا حلال کا پیسہ اس جنگ پر لگ رہا ہے، ڈالر تو افغان طالبان کو مل رہے ہیں، جو ہندوستان سے پیسوں کے معاہدے کر رہے ہیں۔ ہمیں آئینی اور قانونی حکم ہے کہ پاکستان اور اس کی ٹیریٹری کی حفاظت کریں، یہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں، فوج کیا وہاں معدنیات نکالنے کے لیے بیلچے لے کر گئی ہے، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں، فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سیکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں۔
کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے
انہوں نے کہا کہ ایک مضحکہ خیز کی بات کرتے ہیں یہ صاحب (وزیر اعلیٰ کے پی)، جب آپ کے پاس کچھ نہ ہو تو آپ اس طرح کی بات کرتے ہیں، کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے موجود ہے، خیبر پختونخوا میں غیر قانونی کان کنی ہو رہی ہے، پی ٹی آئی حکومت افغانستان سے مدد مانگ رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان بلوچستان پر حکومت بلوچستان تیزی سے کام کر رہی ہے، 8601 اسکولوں کو بلوچستان میں فنکشنل کر دیا گیا ہے، خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی، خیبر پختونخوا کی مخصوص جماعت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مخالف ہے، دلائل کے بجائے الزام تراشی کی جاتی ہے۔
ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کرنا کیا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کرنا کیا ہے، کیا دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھ جانا ہے، کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگادیا جائے، اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ صاحب بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا، اس قابض گروہ سے سیکیورٹی مانگ رہے ہیں، جنھوں نے دینا بھر کے دہشتگرد جمع کیے۔
دہشت گردی کیخلاف قومی جنگ ایک ساتھ لڑنا ہے، جیتنا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ ایک ساتھ لڑنا ہے، جیتنا ہے، غیر قانونی ہتھیاروں کا براہ راست دہشت گردی کے ساتھ تعلق ہے، پنجاب میں ایک مہاجر کیمپ تھا جو کلیئر ہوگیا، بلوچستان میں بھی مہاجر کیمپ کلیئر ہوگئے ہیں، خیبر پختونخوا میں موجود مہاجر کیمپ ابھی باقی ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت ہر فورم پر دہشتگردی کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کر رہی ہے
انہوں نے کہا کہ ایرانی ڈیزل سے دہشت گردی کی فنڈنگ کی جاتی تھی، اب تیل درآمد ہوکر آرہا ہے جس پر ٹیکس ملتا ہے۔
دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ نارکوٹکس اور ڈرگز کا دہشتگردی کے ساتھ گہرا تعلق ہے، ہمارے نزدیک دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں، ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب آنا ہے، ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔