بنگلادیشی بولر مستفیض الرحمان کو بھارتی لیگ کی طرف سے کنٹریکٹ ختم ہونے پر پیسے ملنے کا امکان نہیں ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق غیر ملکی کھلاڑیوں کو کیمپ جوائن کرنے کے بعد یا ٹورنامنٹ کے دوران زخمی ہونے پر فرنچائزز ادائیگی کرتی ہیں لیکن مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کنٹریکٹ ختم ہونے پر پیسے ملنے کا امکان نہیں ہے۔
بھارتی میڈیا کا آئی پی ایل ذرائع کے حوالے سے موقف ہے کہ بھارتی لیگ کے تمام کھلاڑیوں کی تنخواہیں انشورڈ ہوتی ہیں، عام طور پر انشورنس سے 50 فیصد تک ادائیگی کی جاتی ہے، مستفیض الرحمٰن کا کیس انشورنس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انشورنس کے قوانین میں نہ آنے کی وجہ سے کولکتہ نائٹ رائیڈرز انہیں ادائیگی کرنے کی پابند نہیں، مستفیض الرحمٰن کو بی سی سی آئی کے کہنے پر کنٹریکٹ سے ریلیز کیا گیا تھا۔
مستفیض الرحمٰن کا کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے ساتھ 9 اعشاریہ20 کروڑ روپوں کا کنٹریکٹ ہوا تھا، کنٹریکٹ ختم کرنے میں مستفیض الرحمٰن کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق قانونی راستہ اپنانے پر مستفیض الرحمٰن کے پاس بھی کوئی زیادہ آپشنز نہیں ہیں، آئی پی ایل بھارتی قوانین کے دائرہ کار میں آتا ہے، کوئی بھی غیرملکی کھلاڑی کھیلوں کی ثالثی عدالت میں نہیں جائے گا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلادیش اور بھارت کے تعلقات پاک بھارت کی طرح نہیں ہیں، بنگلہ دیش بھارت کے تعلقات اگلے سال ٹھیک بھی ہوسکتے ہیں، اس لئے کوئی کھلاڑی ثالثی عدالت جانے کا رسک کیوں لے گا۔
یاد رہے کہ مستفیض الرحمٰن کا کنٹریکٹ ختم کرنے کے بعد بنگلا دیش نے بھی اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کااعلان کیا ہے۔