آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی میں موسلادھار بارش کا دوسرا دن، گلیاں تالاب، سڑکیں دریا


کراچی میں مسلسل دوسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، جس کے بعد شہر کی گلیاں تالاب اور سڑکیں دریا بن گئیں۔

شہر میں لگاتار دوسرے دن بھی بارش ہوئی، جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا، ساتھ ہی بجلی بھی معطل ہوگئی۔

بارش کے باعث شہر میں ہر طرف پانی ہی پانی جمع ہوگیا، کہیں کشتیاں نکالنی پڑگئیں تو کہیں گھروں میں جانے کے لیے رسیوں کا سہارا لینا پڑا، حالیہ دنوں میں ہی صاف ہونے والا گجر نالہ ایک بار پھر اوور فلو ہوگیا۔

کراچی میں ہر طرف اتنا پانی ہے، جیسے سیلاب آگیا ہو، شہر میں مون سون کا چوتھا اسپیل اپنے جوبن پر ہے۔

جمعرات کو بارش کی جو چھڑی لگی وہ جمعے کو بھی جاری رہی، صبح سے بارش کہیں ہلکی تو کہیں تیز اور کہیں تو بہت ہی تیز برسی، مرکزی شاہراہوں پر اتنا پانی جمع ہوا کہ فٹ پاتھ ہی غائب ہوگئے۔

گاڑیاں اور موٹر سائیکلز آدھی آدھی پانی میں تھی، جو لوگ ہوشیار نکلے وہ جہاں تھے وہیں بارش انجوائے کرتے رہے پر جنہیں مجبوری سے نکلنا تھا وہ ایسے پھنسے کہ پھنس ہی گئے۔

پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم رہا، جس کو جہاں جگہ ملی اس نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی اور پھر کوئی بھی نہیں نکل سکا، کچھ ایسا ہی حال گلیوں محلوں میں بھی تھا۔

گھروں میں پانی، پارکنگ لاٹس میں پانی، غرض شہر آج کسی سوئمنگ پول کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں کچھ علاقوں میں تو کشتیاں بھی نکالنی پڑ گئی۔

دوسری جانب بارش کے بعد حب ڈیم میں پانی کی سطح 315 فٹ سے بلند ہوگئی، ایم ڈی واٹر بورڈ کا کہنا ہے کہ کراچی کے لئے ایک سال سے زائد مدت کا پانی جمع ہوگیا ہے ۔

لیکن اس سب میں ایک کام جو ہر بار ہوتا ہے یعنی بجلی کی بندش، شارٹ فال اور فیڈر ٹرپنگ کے باعث بیشتر علاقوں میں بجلی کا طویل بحران ہیدا ہوگیا ۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش پی اے ایف مسرور بیس میں 62 اعشاریہ 5 ملی میٹر، ناظم آباد صدر اور کیماڑی میں 40 ملی میٹر، لانڈھی اور فیصل بیس میں 37 ملی میٹر اور سرجانی میں 32 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب نالوں کی صفائی سے کچھ جگہوں پر بہتری بھی تھی، پر کراچی کے مین نالوں میں سے ایک گجر نالہ اوور فلو ہوگیا، جسے حال ہی میں این ڈی ایم اے نے صاف کیا تھا۔

نالے کا پانی سڑکوں پر آگیا اور لیاقت آباد سے گجر نالے جانےاور آنے والی سڑک ٹریفک کےلیے بند کر دی گئی۔

ایسی ہی صورتحال اتحاد ٹاؤن میں بھی تھی، جہاں سیلابی ریلا داخل ہونے سے گلیوں میں آمد و رفت کے لیے بھی رسیوں کا استعمال کرنا پڑا۔

پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 ایک بار پھر زیر آب آیا اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ ڈیفنس میں بھی باران رحمت، زحمت بن گئی، کل سے ابتک بارش کے باعث مختلف حادثات میں 7 افراد جان سے گئے۔

قومی خبریں سے مزید