آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سعودی عرب سے تیل ادھار ملنےکی سہولت ایک سال کیلئے تھی: ترجمان وزارت خزانہ

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کا تیل ادھار ملنے کی سہولت ایک سال کیلئے تھی۔

ترجمان وزارت خزانہ نے سعودی عرب سے تیل ادھار لینے کی سہولت سے متعلق اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ سعودی عرب سے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کا تیل ادھار ملنےکی سہولت ایک سال کے لیے تھی جس کی تجدید ہوسکتی تھی۔

ترجمان وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ سعودی عرب سے ادھار تیل کی سہولت رواں سال 9 جولائی کو ختم ہوگئی، معاہدے میں توسیع کی درخواست سعودی عرب کےساتھ زیر غور ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2018 میں وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جس میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا امدادی پیکج دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

امدادی پیکج کے تحت سعودی حکومت نے 3 ارب ڈالر بھی پاکستان کے اکاؤنٹ میں رکھوانے تھے جن میں سے ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط 19 نومبر 2018 ، دوسری قسط 14 دسمبر 2018 اور تیسری قسط 25 جنوری 2019 کو موصول ہوئی تھی۔

دوسری جانب سعودی حکومت نے اب پاکستان کو دیے گئے تین ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر واپس لے لیے ہیں جس کی تصدیق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی ہے۔

سعودی عرب کے ایک ارب ڈالر واپس لینے کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب کے مشکور ہیں انہوں نے کڑے امتحان کے وقت ہمارا ساتھ دیا، آئی ایم ایف کا معاملہ ابھی مراحل میں تھا اور سعودی عرب نے ہماری مدد کی، اس پر کراؤن پرنس محمد سلمان کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث سعودی معیشت پر دباؤ آیا ہے، سعودی عرب کی مشکلات کو سمجھتے ہیں آج بھی ان کیلئے حاضر ہیں۔

قومی خبریں سے مزید