آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اخبارات کے مسائل ، وزیر اطلاعات کی یقین دہانی

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کوہاٹ کے ایک عظیم صوفی حاجی بہادر سید عبداللہ کوہاٹی کی اولاد میں سے ہیں اور ایک بڑے شاعر احمد فراز مرحوم کے بیٹے، اب دیکھتے ہیں کہ وہ اخبارات کے مسائل صوفیانہ و شاعرانہ انداز میں حل کرتے ہیں یا فردوس عاشقانہ سٹائل اختیار کرتے ہیں،بہرحال اچھی امید رکھنی چاہئے کہ اس وقت میڈیا صرف امید پر ہی چل رہا ہے، اے پی این ایس کے اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ میر شکیل الرحمٰن پر لگائے گئے الزامات 70کی دہائی میں ظہور الٰہی پر بھینسوں کی چوری جیسے ہیں جبکہ بھینس اور اخبار میں بڑا فرق ہوتا ہے یہ بھی امید ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کی رہائی جلد عمل میں آئےگی اور آزادی اظہار کی زنجیریں کٹ جائیں گی، اور حکومت اس الزام سے بری ہو جائے گی کہ انتقامی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔اوریہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ کنٹینر سے نیچے آ چکی ہے ، اگر یہی تبدیلی آ جائے تو بھی غنیمت ہے، سچ لکھنے پر سزا نہیں جزاء کی ضرورت ہے، اگر آل پاکستان نیوز پیپرز ایسوسی ایشن میں گروپ بندی ہو گی اتحاد کامل نہیں ہو گا تو یہ ہاف پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی ہو کر رہ جائیگی ، تمام میڈیا ہائوسز کو میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کیلئے یک آواز ہو کر آواز بلند کرنی چاہئے کہ وہ نہ صرف ایک بڑے میڈیا ہائوس کے مالک بلکہ ورکنگ جرنلسٹ بھی ہیں، اور انہیں ایک بے سروپا الزام میں بغیر کسی مقدمہ کے پا بہ جولاں رکھا گیا ہے۔ حکومت انہیں رہا کرے اور نیک نامی کمائے، وزیر اطلاعات ان کی رہائی میں اپنا موثر کردار ادا کریں، وزیر اطلاعات کی یقین دہانی، اخبارات کے مسائل حل کرنے کی صورت سامنے آنی چاہئے ، 72برسوں سے خالی خولی یقین دہانیوں پر ہی تو ہر حکومت عمل پیرا ہے ۔ پی ٹی آئی اس روش کو ختم کرے، ہر روز پوری دنیا میں میر شکیل الرحمٰن کی غیرقانونی گرفتاری کیخلاف احتجاج ہو رہے ہیں کیا یہ بدنامی حکومت کو اپنے مشن میں کامیابی سے ہمکنار کر سکے گی، کاغذ سستا کیا جائے واجبات ادا کئے جائیں میر صحافت کو آزاد کیا جائے۔

٭٭ ٭ ٭ ٭

کچھ مہنگائی کا بھی علاج اے چارہ گراں ہے کہ نہیں

جن کے پاس کسی نہ کسی راستے سے کالا دھن آرہا ہے اور بہت سا جمع پڑا ہے وہ تو کہیں گے مہنگائی کی لے تیز کروابھی بھی بڑی ارزانی ہے، مگر غریب عوام کی حالت زار اب گھروں میں لڑائیوں کی صورت اختیار کر چکی ہے، سیاست سیاست بہت ہو چکی اب اہل قلم بھی بجلی کے بلوں میں نادر شاہی ٹیکسوں کے خلاف قلم کو جنبش دیں، سیاست دراصل خلق کی خدمت کا نام ہے مگر ہمارے ہاں یہ خلق خدا کی کھال ادھیڑ نے سے عبارت ہے، حکومت کی رٹ اور بندہ مزدور کے اوقات ایک جیسے ہیں، دونوں کا وجود ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے، ہمارے ہاں یوں تو دانشوروں کی کمی نہیں مگر ان میں کوئی روسو اور والٹیئرنہیں جو غربت کو حکمرانی دے اور ظالموں کو ٹکٹ آنجہانی دے، عوام کو پینےکا صاف پانی دے، کالے کرتوتوں سے کالا دھن کمانے والوں کو دارفانی دے، حکومت نے نرخنامے آویزاں کر دیئے جن سے غریب کشی لٹکی ہوئی ہے، کسی نرخنامے پر عمل ندارد، ہمارے ہاں بھی ہر جی کھانے کو تیار ہے مگر روزگار توملے، بندہ پہلے رکھ لیا جاتا ہے سرکاری اشتہار بعد میں آتا ہے، بعض آئی ٹی کمپنیوں نے یہ کالا دھندہ شروع کر رکھا ہے کہ ہر امیدوار ملازمت سے اس کا بہترین کام ہتھیا کر وہ آئٹم مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں اور امیدوار اپنی محنت بھی ہاتھ سے کھو بیٹھتا ہے ۔ خان صاحب کشتیاں جلا بیٹھے ہیں اب اس مہنگائی قرنطینہ سے کوئی باہر بھی نہیں نکل سکتا، میڈیا کراچی تباہی دکھانے کے بجائے مہنگائی کے مناظر دکھائے، اقبال نے کہا تھا ’’دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ‘‘ یہی وجہ ہے کہ آج غریبوں کی جملہ اقسام قبروں سے بھی غائب ہیں، بےشک عمران خان جلتا ہوا چراغ ہیں مگر روشنی نہیں اگر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو یہ چراغ بھی طاق میں نظر نہیں آئیگا۔

٭٭ ٭ ٭ ٭

آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن کے موجد

یہ موجد آں غزل پنجاب کے نہایت طرحدار وزیر اطلاعات فیض الحسن چوہان ہیں، یہ سرکاری جگت بازی کے ماہر ہیں، ان کی وزارت باسعادت ہنسنے ہنسانے کی اطلاعات لاتی ہے، وزیر اعلیٰ بزدار کیلئے ان کی فیڈ بیک ہی کافی ہے ، اسی لئے پنجاب میں مسائل ہیں مگر دکھائی نہیں دیتے، اور بات دراصل یہ ہے کہ کوئی دکھلائے کہ ہم دکھلائیں کیا؟ ماشااللہ بڑے ذہین ہیں منصورہ کے باغی ہیں، پنجاب میں چھوٹا بڑا سارا میڈیا مالی مشکلات کا شکار ہے مگر یہ تو فقط بزدار کی سرمگیں نظر کا شکار ہیں ان کو سب اچھا ہے کے لطیفے سنا کر خوش کرتے رہتے ہیں، بہادر ایسے کہ جہاں نہ گھسنا چاہئے وہاں بھی گھس جاتے ہیں یہ اپنے ہی سر پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو وزیر اطلاعات ہونے کے ناتے کبھی یہ اطلاع دی ہے کہ غریب عوام کا بہت برا حال ہے جیسے کسی کی آنکھ دوسری آنکھ سے نہیں ملتی تھی اسی طرح ایک دکان کے نرخ دوسری سے نہیں ملتے، کم از کم ان پر یہ شعر فٹ نہیں بیٹھتا کہ

یہ جو تیرے وزیر ہوتے ہیں

لکیر کے فقیر ہوتے ہیں

شہری جو پہلے امیر ہوتے تھے

اب آب و دانہ کے فقیر ہوتے ہیں

بہرصورت بہت ہی بیبےہیں، الفاظ، اصطلاحات او رتحفظات کے الٹانے پر کامل دسترس رکھتے ہیں کیا ایک وزیر اطلاعات کیلئے یہ کوالیفکیشن کم ہے۔

٭٭ ٭ ٭ ٭

کرپشن ڈی پورٹ نہ ہوسکی

٭ہمارے پاس جو ہرقابل کی کمی نہیں مگر خزانہ لعل وجواہر سے خالی ہے۔

٭وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ:پہلے پورٹ اینڈ شپنگ کا ذکر آتا تو کرپشن بھی ساتھ آتی تھی۔

ایک پورٹس اینڈ شپنگ ہر شعبے سے کرپٹ ڈی پورٹ کر دیئے گئے ہیں مگر کرپشن ہے کہ اس کا کوئی بال بھی بیکا نہ کرسکا، تفصیلات کیلئے ہمارے دل سے یا اپنے دل سے رجوع کیا جائے۔

٭سنا ہے کورونا کی پاکستان سے رفت رفت ہے۔

مگر دھیان رہے وائرس کھوٹا سکہ ہے اس لئے محتاط رہنے کی اب بھی ضرورت ہے۔