آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اردو شاعری اور پاکستان کی سیاست میں تعلق دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ مرزا غالب نے ڈیڑھ دو سو سال قبل ایسے کئی اشعار کہے جو آج کی پاکستانی سیاست کا نقشہ کھینچتے نظر آتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو کہا کرتے تھے کہ اگر میں پاکستان کا وزیراعظم بن گیا تو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بجائے خود کشی کرنے کو ترجیح دوں گا۔ پھر عمران خان واقعی پاکستان کے وزیراعظم بن گئے اور انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرکے قرضہ بھی لے لیا۔ جب عمران خان نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا تو مجھے مرزا غالب کا یہ شعر ستانے لگا؎

قرض کی پیتے تھے مَے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

آئی ایم ایف سے قرضے کی بات تو اب خاصی پرانی ہو چکی۔ شکر ہے عمران خان نے خود کشی نہیں کی کیونکہ ریاستِ مدینہ میں خود کشی حرام ہے۔ ریاستِ مدینہ میں اور بھی بہت کچھ حرام ہے۔ فی الحال میرا اشارہ الزام و دشنام کی سیاست اور سود خوری کی طرف نہیں بلکہ مے نوشی کی طرف ہے۔ پاکستان میں احتساب کے ادارے نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو 12اگست کو طلب کیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ایک قریبی عزیز کو فائدہ پہنچانے کیلئے لاہور کے ایک ہوٹل میں قائم مے کدے کو شراب کا ناجائز لائسنس دلوایا۔ عثمان بزدار کی اس طلبی پر عبدالحمید عدم کا یہ شعر یاد آتا ہے؎

ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند

مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہئے

عثمان بزدار کے دفاع میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ لاہور کے ایک ہوٹل کو شراب کا لائسنس تو محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن نے جاری کیا تھا، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے یہ لائسنس منسوخ کرا دیا تھا لیکن بعد میں ہوٹل کی انتظامیہ نے لاہور ہائیکورٹ کے ذریعے یہ لائسنس بحال کرا لیا تھا لہٰذا عثمان بزدار پر لگایا جانے والا الزام جھوٹ کا پلندہ ہے۔

نیب کی طرف سے سیاستدانوں پر لگائے جانے والے تمام الزامات کو جھوٹ کا پلندہ ہی قرار دیا جاتا ہے لہٰذا عثمان بزدار کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ نیب کے الزامات کی تردید کریں لیکن اس معاملے میں ان کے حق میں دی جانے والی دلیل سن کر جلال لکھنوی کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ ؎

شب کو مَے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی

رِند کے رِند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی

عثمان بزدار سندھ کے نہیں بلکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں۔ ان کا تعلق پیپلزپارٹی سے نہیں بلکہ تحریک انصاف سے ہے اور تحر یک انصاف کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کیلئے اقتدار میں آئی ہے۔ عثمان بزدار کی پارٹی جگر مراد آبادی کے اس شعر کا سہارا نہیں لے سکتی؎

گرچہ اہلِ شراب ہیں ہم لوگ

یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ

شراب کو اُمّ الخبائث قرار دیا گیا ہے لیکن کچھ لوگ چھپ کر شراب نوشی کیا کرتے تھے۔ دن کی روشنی میں شراب نوشوں کی مذمت کرتے ہیں اور رات کے اندھیرے میں شراب کے نشے میں ڈوب جاتے ہیں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ یا تو آپ ریاستِ مدینہ کی بات ہی نہ کیا کریں اور اگر ریاستِ مدینہ کی بات کرنی ہے تو پھر مے کدوں کو لائسنس وزیراعلیٰ جاری کرے یا کوئی اور کرے، یہ ریاستِ مدینہ تو نہیں ہو سکتی۔ یا تو آپ ساغر صدیقی کی طرح مان جائیں کہ آپ کوئی فرشتہ نہیں ہیں؎

میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور

میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا

اگر آپ واقعی فرشتوں کے قریب تر ہیں تو پھر ہمیں یہ نہ سنائیے کہ شراب کا لائسنس عثمان بزدار نے نہیں کسی اور نے جاری کیا۔ ہماری اطلاع کے مطابق نیب کے پاس عثمان بزدار کے خلاف اور بھی شکائتیں موجود ہیں لیکن فی الحال نیب نے انہیں صرف شراب کا لائسنس جاری کرانے کے الزام میں بلایا ہے تاکہ انہیں جواب دینے میں زیادہ مشکل پیش نہ آئے۔ یہ کوئی راز نہیں کہ بزدار صاحب کو سوالات بتا بھی دیے جائیں تو انہیں جواب دینے میں کافی دقت پیش آتی ہے۔

شراب کا لائسنس جاری کرنے سے متعلق طلبی ان کیلئے صرف ایک اشارہ ہے۔ اگر وہ عقل مند ہیں تو اشارے کو سمجھ جائیں یا پھر مزید سوالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ شراب کا لائسنس جاری کرنے کے معاملے میں سوالات وزیراعلیٰ پنجاب سے نہیں بلکہ اسلام آباد کے حکمرانوں سے کئے جانے چاہئیں۔

سب جانتے ہیں کہ اسلام آباد کی حکومت میں ایسے افراد شامل ہیں جو شراب کی بوتل کو شہد کی بوتل قرار دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور جب تحریک انصاف کا ایک ہندو رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ’’موجودہ‘‘ قومی اسمبلی میں شراب پر پابندی کا بل پیش کرتا ہے تو جے یو آئی (ف) کے سوا کوئی جماعت بل کی حمایت نہیں کرتی۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے اپنے بل میں کہا تھا کہ اسلام اور مسیحیت سمیت تمام بڑے مذاہب میں شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے لہٰذا آئین کی دفعہ 37میں ترمیم کرکے شراب کو غیرمسلموں کیلئے بھی حرام قرار دیا جائے لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی ہی جماعت کے ہندو رکن قومی اسمبلی کا یہ بل اسٹیڈنگ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھجوا کر اسے مسترد کرا دیا۔

ستم ظریفی دیکھئے کہ حکومت اور اپوزیشن قومی مفاد کے نام پر کئی بل چٹکی بجاتے میں منظور کرا چکی ہے لیکن پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کیلئے قانون سازی نہیں کی جاتی۔ اگر ڈاکٹر رمیش کمار کا دسمبر 2018میں پیش کیا جانے والا بل منظور ہو جاتا تو لاہور کے ایک ہوٹل کی انتظامیہ شراب کے لائسنس کیلئے عدالت سے حکم امتناعی نہ حاصل کر پاتی۔

لائسنس جس نے بھی جاری کیا ذمہ دار تحریک انصاف کی حکومت ہے جس نے غیرمسلموں کیلئے شراب پر پابندی کا بل مسترد کیا کیونکہ غیرمسلموں کے نام پر مسلمانوں نے شراب پینی ہوتی ہے اور پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے بھی کرنے ہوتے ہیں۔

ہو سکتا ہے عثمان بزدار نیب کو مطمئن کر لیں لیکن نیب کے تیور کچھ بدلے بدلے سے ہیں اور تحریک انصاف والےا قبال کے الفاظ میں نیب سے آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھ رہے ہیں؎

ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے

بتا، کیا تو مرا ساقی نہیں ہے