آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

زرتاج گل کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت کے معاملے میں وزیرِ مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔

عدالتِ عالیہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ممبران، سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی ناہید درانی اور وزیرِ اعظم عمران خان کے ایڈوائزر ملک امین اسلم کو بھی توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے شوکاز نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

عدالتِ عالیہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی شوکاز نوٹس جاری نہ کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

اس موقع پر سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی ناہید درانی نے کہا کہ واقعے کی تمام ذمے داری قبول کرتی ہوں، کابینہ ارکان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

چیف جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہا کہ کابینہ نے وائلڈ لائف بورڈ کی منظوری دی تھی، ذمے دار بھی وہ ہیں۔

سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ وزارتِ قانون نے رائے دی کہ کابینہ کا کوئی رکن اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ مینجمنٹ کا ممبر نہیں ہوسکتا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہاک کہ وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کا نوٹی فکیشن کیا گیا جس کی کابینہ نے منظوری دی، کابینہ کی منظوری کے بعد نوٹی فکیشن کو عدالتی فیصلے کا بھی حصہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر رہے ہیں، بورڈ ممبر جو کہنا چاہتے ہیں وہ تحریری جواب میں بتائیں، کیا آپ کے کہنے پر 2015ء کا نوٹیفکیشن اٹھاؤں اور وزیرِ اعظم کو اس معاملے کا ذمے دار قرار دے دوں؟

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ اس معاملے میں کیا ہوا، آپ تو بدقسمتی سے وزیرِ اعظم کو بھی اس معاملے میں لانا چاہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کریڈٹ لینے کی باری تھی تو سب چڑیا گھر کا دورہ کر رہے تھے، جب کچھ غلط ہوا تو سب نے کہا کہ ہمارا تعلق ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:۔

وائلڈ لائف بورڈ ممبرز جانوروں کی ہلاکت کے ذمے دار ہیں، عدالت

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ انٹرنیشنل کنونشنز انسانیت اور جانوروں کے تحفظ کے لیے ہیں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ 40 زرافے امپورٹ ہوئے اور سارے مرگئے، جانوروں کی امپورٹ پر پابندی ہونی چاہیے۔

سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ گزشتہ سال چڑیا گھر میں 900 جانور تھے، اس سال 400 جانور لائے گئے، اس کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ایک سال میں 50 فیصد جانور کدھر گئے؟

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اس معاملے پر سیاست ہو رہی ہے۔

عدالتِ عالیہ نے توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ بورڈ ممبر جو کہنا چاہتے ہیں تحریری جواب میں بتائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت کا کیس 27 اگست تک ملتوی کر دیا۔

قومی خبریں سے مزید